سعودی سیاحت

سیاحت کے فروغ دینے کے لیے سعودی عرب نے کمر کس لی

وژن 2030 کی روشنی میں ایک لاکھ سعودی نوجوانوں کو تربیت دی جائے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی حکومت نے وژن 2030 پر عمل درآمد کے سلسلے میں سیاحت اور شعبہ میزبانی کے لیے تربیتی پروگرام کا آغاز کر دیا ہے۔

پروگرام کو ''علم بردار سیاحت'' کا نام دیا گیا ہے۔ جس کے تحت ایک لاکھ سعودی نوجوانوں کو تربیت دی جائے گی۔ کہ وہ سیاحوں کی میزبانی اور ان کے ساتھ بہ احسن پیش آنے کی پیشہ ورانہ مہارت پا سکیں اور سعودی عرب میں سیاحت کے فروغ میں مدد گار بنیں۔ ۔

سعودی وزیر سیاحت احمد بن عقیل الخطیب نے اس بارے میں بتایا ہے کہ ''مملکت سعودیہ کا عزم یہ ہے کہ کرونا کے حوالے سے پابندیوں میں کمی اور حج آپریشن کے خاتمے کے ساتھ ہی غیر ملکی سیاحوں کی آمد شروع ہو جائے گی۔ ان کے مطابق سال دو ہزار بیس اور دو ہزار اکیس کے دوران مقامی سیاحت میں بھی بہتری آئی ہے۔

سعودی حکام کے مرتب کردہ ریکارڈ کے مطابق چونسٹھ ملین افراد نے گذشتہ سال مقامی طور پر سیاحتی سفر کیے۔ اس رجحان نے سعودی عرب کے نئے جنم لینے والے شعبہ سیاحت کو تباہی سے بچایا ہے۔ اب کوشش ہے کہ غیر ملکی سیاحوں کو زیادہ سے زیادہ سعودی عرب کی طرف متوجہ کرنے کے لیے ان ممالک کو خصوصی ہدف بنا کر مارکیٹنگ کی جائے، جہاں کے لوگوں میں سیاحت کا ذوق شوق نسبتاً زیادہ ہے۔

وزیر سیاحت احمد الخطیب نے کہا '' نوجوان کی سیاحتی شعبے کے لیے تربیت کا منصوبہ ان کے لیے روزگار کی آسان فراہمی ممکن بنانے کے سات ساتھ انہیں با اختیار بنانے کے مملکتی عزم کا اظہار ہے۔ تربیتی پروگرام سے عوام کو مہارتیں بھی ملیں گی اور نئے سعودی عرب میں سیاحت کو استحکام ملے گا۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں وزیر سیاحت نے بتایا ’’سعودی نوجوانوں کی تربیت کے لیے دنیا کے بہترین تعلیمی اور تربیتی اداروں کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں۔ ان میں مغربی دنیا کے نمایاں ترین ادارے بطور خاص شامل ہیں۔ سپین، سوئٹزر لینڈ، برطانیہ کے ممتاز اداروں کی خدمات حاصل کی گئی ہیں جن کا ہوٹل مینجمنٹ کی تربیت میں بھی نام ہے۔

واضح رہے سعودی عرب کا منصوبہ یہ ہے کہ سنہ دو ہزار تیس تک ایک سو ملین سیاح سعودی عرب میں سیاحت کے لیے آئیں۔ یہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے وژن 2030 کا بھی ایک اہم ہدف ہے۔ وژن 2030 کے مطابق مملکت کو اب محض تیل پر انحصار کرنے والی مملکت بن کر نہیں رہنا بلکہ دیگر شعبوں میں بھی آگے بڑھنا ہے۔

اسی غرض سے وژن 2030 کے تحت سیاحت کو ایک اہم شعبے کے طور پر چنا گیا ہے اور ملکی قوانین میں کئی پہلووں سے تبدیلی ونرمی کا اہتمام کیا گیا ہے۔ موسیقی کے مخلوط پروگرام، سینماوں کا کھلنا، کھیلوں کے شعبے پر توجہ دینا ولی عہد کے اسی وژن کی بدولت ہے۔ صرف نیوم سٹی کے منصوبے کے لیے 500 ارب ڈالر خرچ کیے جا رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں