بنگلہ دیش کی ’سوہنی‘ دریاؤں اور بھیڑیوں سے گزر کر ماہیوال تک کیسے پہنچی؟

بنگالی لڑکی اپنے محبوب سے ملنے غیر قانونی طور پر بھارت پہنچ گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

برصغیر کی مشہور لوک داستانوں میں ’سوہنی ماہیوال‘ کی کہانی اکثر لوگوں نے سن رکھی ہوگی مگر اس کہانی سے ملتا جلتا ایک واقعہ حال ہی میں بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان پیش آیا ہے۔

بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والی 22 سالہ خاتون سندربن خوفناک جنگلوں اور دریاؤں کو عبور کرتے ہوئے بھارت میں اپنے محبوب سے ملنے پہنچ گئی۔ اس نے یہ سفر تن تنہا کیا۔ دونوں کی دوستی سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ’فیس بک‘ پر ہوئی تھی۔ بنگالی دو شیزہ کا کہنا ہے کہ وہ تقریبا ایک گھنٹےتک ایک دریا میں تیرتی رہی اور آخر کار دریا پار کرنے میں کامیاب ہوگئی۔

انڈیا ٹوڈے اخبار کے مطابق بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والی کرشنا منڈل نامی لڑکی فیس بک پر اپنے عاشق ابیک منڈل سے متعارف ہوئی۔ دونوں میں دوستی بڑھتی گئی ہے اور دونوں ایک دوسرے کی محبت کے اسیر ہو گئے۔ ابیک منڈل تو اپنے ملک میں ہی رہا مگر لڑکی نے محبوب تک پہنچنے کے لیے کٹھن سفر کا فیصلہ کیا۔ کرشنا کے پاس پاسپورٹ نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ قانونی طریقے سے بھارت نہیں آسکتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے یہ طریقہ اختیار کیا۔

کرشنا نے محبوب تک پہنچنے کے لیے کئی دشوار گذار پہاڑوں، جیتے اور بھیڑیے کے مسکن قرار دیے جانے والے جنگلوں اور دریا کو عبور کیا۔

بھارتی پولیس ذرائع کیے مطابق کرشنا نامی لڑکی پہلے سندربن کے جنگل میں داخل ہوئی جسے رائل بنگال ٹائیگر کا جنگل کہا جاتا ہے۔ پھر اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے دریا میں ایک گھنٹے تک تیراکی کی۔

تین دن پہلے کرشنا نے مشرقی ہندوستان کے ایک ہندوستانی شہر کولکتہ کے کالی گھاٹ مندرمیں ابیک سے شادی کی۔ تاہم اسے غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے پر گرفتار کیا گیا تھا۔

ذرائع نے بتایا کہ کرشنا کو بنگلہ دیش کے ہائی کمیشن کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر اس واقعے کو ایک خاتون کی بہادری اور محبوب کے ساتھ بے لوث محبت کی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں جب کسی نے غیر قانونی طور پر سرحد پار کی ہو؟ اس سال کے شروع میں ایک بنگلہ دیشی نوجوان ہندوستان سے چاکلیٹ خریدنے کے لیے دریا میں تیر کردوسری طرف پہنچا تھا۔

ایمان حسین نامی ایک نوعمر لڑکے اپنی پسندیدہ چاکلیٹ حاصل کرنے کے لیے ایک چھوٹا دریا اور سرحد کے اس پار باڑ کراس کرنے پر گرفتار کیا گیا۔ اسے عدالت میں پیش کیا گیا اور عدالت نے اسے پندرہ دن قید کی سزا سنائی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں