چھ دہائیوں سے کافی کے درختوں سے دوستی نبھانے والے سعودی سے ملیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

"میں کافی کے درختوں سے جُڑا ہوا ہوں، جب تک زندہ رہوں گا میں ان سے محبت کرتا رہوں گا۔" یہ الفاظ سعودی عرب کے ایک دیرینہ کاشت کار محمد آل عثمان کے ہیں جو مملکت کے علاقے الباحہ میں عین ابن طویل میں چھ دہائیوں سے کافی کے درختوں کی نگہداشت کرتے آ رہے ہیں۔ محمد کا کہنا ہے کہ میری عمر صرف پانچ سال تھی جب میں نے کافی کے پودوں کے ساتھ دوستی کی اورعمر بھران قیمتی پودوں کی شجرکاری اور ان کی دیکھ بھال میں گزار دی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں محمد آل عثمان نے اپنی یادویں تازہ کرتے ہوئے انکشاف کیا کافی کے درختوں کےساتھ میرا تعلق 62 سال قبل میرے والد مرحوم کی موجودگی میں ہوا۔ میں نے اپنے والد سے سیکھا کہ کس طرح کافی کا پودا لگانا ہے؟ اس کی شاخ تراشی کیسے کرنا ہے، اس کے پھل اتار کر کیسے خشک کرنا ہیں اور انہیں خشک کرنے کے بعد کیسے چھاننا ہے؟

محمد کے گاؤں جو تہامہ سیکٹر اور السرہ کے درمیان واقع ہے میں 100 سال سے زیادہ پرانے درخت موجود ہیں۔انہوں نے وضاحت کی کہ 40 سال پہلے مقامی لوگ کافی کی مصنوعات مال بردارجانوروں کی پیٹھ پر لاد کر بازاروں میں لے جاتے تھے۔ حالانکہ مقامی لوگوں کی روزی روٹی کایہی ایک ذریعہ تھا۔

محمد آل عثمان کہتے ہیں کہ لوگ نقل مکانی کرکے چلے گئے تو ان کے درخت دیکھ بھال نہ ہونے پر خشک ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ سڑکیں بننے اور فور وہیل ڈرائیو گاڑیاں چلنے کے بعد مقامی کاشت کاروں کے لیے امیدیں بحال ہوئی ہیں۔ تاہم وہ کافی کے فارموں اور کھیتوں کی ماضی کی طرز پر بحال کے بھی خواہاں ہیں۔

آل عثمان نے اس بات پر زور دیا کہ کافی کے درخت کو پھل دینے میں 3 سے 4 سال لگتے ہیں اور اس کا پھول ہر سال شوال کے مہینے میں شروع ہوتا ہے اور تقریباً پانچ ماہ تک اس کی کٹائی تک پھل دیتا رہتا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ الباحہ کے علاقے کی کافی کو "الصالبی" کہا جاتا ہے کیونکہ اس کا دانہ خولانی کافی سے چھوٹا ہوتا ہے اور اس کا ذائقہ دسروں سے الگ ہوتا ہے۔ اس میں عام طور پر ادرک، الائچی اور العویدی کو شامل کرکے پکایا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں