.

’فوٹو گرافی کے شوق میں کئی برس بیاباں کی خلوتوں میں گذار دیے‘

سعودی عرب میں ’حیاتیاتی تنوع‘ کو دستاویز کرنے والے فوٹو گرافر سے ملیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں ماحولیاتی تنوع کے متعدد فوٹو گرافی ماڈلز پیش کرنے کے بعد فوٹوگرافرحسن الریثی نے مملکت میں بائیو ڈائیورسٹی فوٹوگرافی کے مقابلے میں اس تنوع کواقوام متحدہ کی فوٹو گیلری میں شامل کر کے امتیازی مقام حاصل کیا ہے۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" سےگفتگو کرتے ہوئے جازان کے علاقے الریث سے تعلق رکھنے والے حسن ناصر الریثی نے کہا کہ سعودی عرب کی سرزمین حیاتیاتی تنوع کے متاثر کن ذخائر سے مالا مال ہے۔ میں نے سعودی عرب کے اس حیران کن بائیو ڈائیورسٹی کو اپنی تصاویر میں دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مملکت میں دور پہاڑوں، جنگلوں اور بیابانوں میں پودوں، جانوروں اور پرندوں کی بہت سی اقسام ہیں۔ جنوبی علاقہ پودوں اور جانوروں کی رہائش اور حیاتیاتی تنوع کے اعتبار سے اہم علاقوں میں سے ایک ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حیاتیاتی تنوع بھی ایک اقتصادی ذریعہ ہے جس پرممالک خوراک اور ادویات کے حصول کے لیے انحصار کرتے ہیں۔ مملکت نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے معیاری اقدامات شروع کر کے اپنی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے۔ان اقدامات میں شہروں میں شجرکاری اور پودوں کی تعداد میں اضافہ کرکے جانداروں کو تحفظ دینا ہے۔

فوٹو گرافی کے سفر کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں الریثی نے کہا کہ میں نے امام محمد بن سعود یونیورسٹی کے شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن سے گریجویشن کیا ہے مگر میرا مشغلہ میرے تعلیمی کیریئر سے مختلف ہے۔ میں نے فوٹو گرافی کے میدان میں باضابطہ طورپر2011ء میں قدم رکھا۔ مُجھے حیاتیاتی اور ماحولیاتی تنوع کی فوٹو گرافی کا شوق تھا۔ اس لیے میں نے اپنا بہت زیادہ وقت بیانوں میں گذرا۔ میں فطرت کو قریب سے دیکھنا چاہتا تھا۔فطرت کے مناظر پرغور کرنا میرا مشغلہ بن گیا تھا۔ اس مقصد کے لیے میں پہاڑوں میں رہتا۔ جنگلوں میں بسیرا کرتا۔ درختوں اور جانداروں کو قریب سے دیکھتا۔ ان میں زیادہ تر پرندے تھے جو شہر کے مکینوں کے لیے اجنبی تھے۔

ایک سوال کے جواب میں سعودی فوٹو گرافر نے بتایا کہ میری فوٹو گرافی کو زیادہ شہرت سماجی رابطوں کی ویب سائٹس سے ملی۔ جگہوں اور پرندوں کی تصاویر کو غیرمعمولی طورپر پسند کیا گیا جس سے میری غیرمعمولی حوصلہ افزائی ہوئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں