.

قطر:فٹ بال ورلڈ کپ کے 12 لاکھ سے زیادہ ٹکٹ فروخت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر میں ہونے والے 2022 کے فٹ بال ورلڈ کپ ٹورنا منٹ کے اب تک 12 لاکھ سے زیادہ ٹکٹ فروخت ہو چکے ہیں۔

عالمی فٹ بال کی گورننگ باڈی فیفا کے مطابق ٹکٹوں کی فروخت کا حالیہ مرحلہ، بے ترتیب سلیکشن قرعہ اندازی اپریل کے آخر میں بند ہوا تھا۔اس میں ٹکٹوں کی درخواستیں ارجنٹائن، برازیل، انگلینڈ، فرانس، میکسیکو، قطر، سعودی عرب اور امریکاسے سب سے زیادہ تعداد میں آئیں۔ان کی تعداد دوکروڑ 35 لاکھ ہے۔

میرے خیال میں قریباً 12 لاکھ ٹکٹ پہلے ہی خریدے جا چکے ہیں۔ قطرکی سپریم کمیٹی برائے ترسیل و میراث کے سیکرٹری جنرل حسن الثوادی نے کہا کہ لوگ عالمی کپ کے میچ دیکھنے کے لیے ٹکٹوں کی خریداری کر رہے ہیں اور وہ قطر میں آنے کے لیے پرجوش ہیں۔

انھوں نے کہا کہ نومبراور دسمبر میں 28 روزہ ٹورنامنٹ کے دوران میں مجموعی طور پر 20 لاکھ ٹکٹ دستیاب ہوں گے۔ورلڈکپ کے ٹکٹ خریدنے کا اگلا موقع پہلے آؤ، پہلے پاؤ کی بنیاد پرہوگا، لیکن ابھی تک تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

ورلڈ کپ کوالیفائی مرحلے کے میچ اب اختتام پذیر ہوگئے ہیں اور ٹورنامنٹ میں شرکت کرنے والی تمام 32 ٹیموں کا فیصلہ ہوچکا ہے۔

قطرکوامید ہے کہ قریباً 12 لاکھ شائقین فٹ بال عالمی کپ کے میچ دیکھنے کے لیے بیرون ملک سے آئیں گے۔یہ تعداد اس کی کل آبادی کا قریباً نصف ہے۔

بلوم برگ کے زیراہتمام قطر اکنامک فورم میں الثوادی نے کہا کہ منتظمین شائقین کو قیمتوں میں اضافے کے اثرات سے بچانے کے لیے کام کررہے ہیں۔نیز اس سے اگرچہ مقامی کاروباری برادری کو فائدہ ہونا چاہیے،اس کے ساتھ ساتھ یہ ٹورنامنٹ شائقین کے لیے سستا اور قابل رسائی ہونا چاہیے۔

قطرٹورازم کے حالیہ اندازوں کے مطابق ایک مرکزی تشویش خلیجی عرب ریاست میں رہائش کی لاگت اور دستیابی ہے۔اس میں 30,000 سے بھی کم ہوٹل کمرے ہیں۔ منتظمین نے بتایا کہ ان کمروں میں سے اسی فی صد فیفا کے مہمانوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔

الثوادی کے مطابق مہنگے اور پانچ ستارہ ہوٹلوں کے کمرے ایک رات کے لیے 80 ڈالر سے 100 ڈالر تک دستیاب ہوں گے۔قطر نے ہوٹل کے علاوہ رہائش کو فروغ دیا ہے۔ولاز اور اپارٹمنٹس میں 65,000 کمرے شائقین کے لیےدستیاب ہیں اور وہ انھیں بُک کرسکتے ہیں۔ دوحہ کی بندرگاہ پر لنگرانداز کیے گئے دو کروز جہازوں میں قریباً 4,000 کمرے دستیاب ہیں۔

قطر میں کاروباری برادری نے روزگار کے حصول کے لیے بھرتی فیس کی مد میں رقم دینے والے کارکنوں کو دوکروڑ80لاکھ واپس ادا کرنے کا عہد کیا ہے۔واضھ رہے کہ قطراور دیگر جگہوں پر بھرتی کی فیس وصول کرنا غیر قانونی ہے، اگرچہ یہ رواج ان بہت سے ممالک میں وسیع پیمانے پرپایا جاتا ہے جہاں سے قطر میں کام کے لیے کارکنان آتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں