جو بائیڈن امریکہ سعودی تعلقات کی پائیدار تجدید چاہتے ہیں؟

امریکی صدر کا دورہ ہمہ جہت ہو گا، معاہدہ ابراہم کی بنیاد پر خطے میں پیش رفت کا امکان: امریکی ماہرین کا اظہار خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

امریکی فارن پالیسی کے ماہرین کے لیے صدر جو بائیڈن کا مشرق وسطی کا دورہ اہم موضوع بن گیا ہے۔ ماہرین ماہ جولائی میں اس متوقع دورے کو سعودی عرب کے ساتھ امریکی تعلقات کی پائیدار تجدید اور کثیرالجہت معاہدات کا پیش خیمہ بنتے ریکھ رہے ہیں۔

دوسری جانب معاہدہ ابراہم کو مشرق وسطی کے ممالک کے درمیان ماضی کی روایت سے مختلف اور وسیع تر تعاون بشمول دفاعی معاہدات کی بنیاد بھی بنتا دیکھ رہے ہیں تاکہ ایرانی خطرے کا مل کر مقابلہ ہو سکے۔ ان کے نزدیک اسرائیل کے متحدہ عرب امارات اور بحرین کے ساتھ تعلقات اور معاہدات کی بنیاد یہی معاہدہ ابراہم بنا ہے۔

ماہرین نے اس امر پر بھی زور دیا ہے کہ سعودی عرب کو امریکہ کے لیے محض ایک ''گیس سٹیشن'' اور ''اے ٹی ایم'' کی حد سمجھنا امریکہ اور سعودی عرب کے تاریخی اور سٹریٹجک تعلقات کو نظر انداز کرنے کے مترادف اور غیر مناسب ہے۔ امریکی فارن پالیسی کے ان ماہرین نے امریکی صدر کے دورے کو توانائی بحران کے اس امکانی خطرے کا حل بھی بتایا ہے جو یوکرین پر روسی حملے کی وجہ سے پیدا ہو سکتا ہے۔

صدر امریکہ کے دورے کے تناظر میں ماہرانہ آرا اور مختلف نکتہ ہائے نظر کو سامنے لانے کے لیے عرب گلف سٹیٹ انسٹیٹیوٹ واشنگٹن کی میزبانی میں ماہرین کے تبادلہ خیال کا اہتمام کیا گیا۔ شرکائے گفتگو میں ہارورڈ یونیورسٹی کے بیلفر سنٹر فار سائنس اینڈ انٹرنیشنل افئیرز کے فیلو محمد الیحیی، فارن اینڈ ڈیفنس پالیسی سٹڈیز کے سینئیر فیلو ڈینیل پلیٹکا، پالیسی ایٹ مڈل ایسٹ انسٹیٹیوٹ کے وائس پریزیڈنٹ برائن کیٹولس شامل تھے۔

سعودی عرب اور توانائی سے متعلق امریکی ضروریات

محمد الیحیی نے جو بائیڈن کے متوقع دورہ سعودی عرب کے بارے میں کہا اسے خالصتا توانائی سے متعلق مسائل یا صرف تیل سے جڑے امور اور معیشت کی عینک سے دیکھنا مناسب نہیں بلکہ یہ محدود نگاہی پر مبنی تجزیہ خطرناک لگتا ہے۔ ان کے مطابق ''امریکہ اور سعودیہ کے درمیان پچھلے تیس سال کے سٹریٹجک تعلقات کا نکتہ عروج وہ تھا جب سوویت یونین کو گرانے کے لیے سعودیہ نے تعاون کیا تھا۔'' مگر اب جوبائیڈن اس دورے کو اپنے ایجنڈے کی ساتھ کریں گے۔

سعودی عرب، امریکہ کے لیے محض ایک گیس سٹیشن اور اے ٹی ایم مشین پہلے تھا نہ شاید اب ہو گا۔ سعودی عرب کا امریکہ کے ساتھ تعاون ایک سٹریٹجک پارٹنر کے طور پر تھا۔ اس میں توانائی، عسکری اور ابلاغی نوعیت کا تعاون شامل تھا۔ میرے خیال میں جو بائیڈن بھی اب سعوی عرب کو اسی تناظر میں دیکھتے ہیں کیونکہ ان تعلقات کی جڑیں گہری بھی ہیں اور سٹریٹجک نوعیت کی بھی۔ اگرچہ پچھلے دس برسوں کے دور طرفہ تعلقات کو نقصان پہنچا پے حتی کہ حالیہ برسوں کے دوران امریکی خارجہ پالسی میں سعودی عرب کو نشانہ بھی بنایا جاتا رہا ہے۔

محمد الیحیی نے مزید کہا ''لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جو بائیڈن بار بار سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو ایک نیا رخ دینے کی بات بھی کرتے رہے ہیں۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ امریکہ یوکرین پر روسی حملے کے باوجود خود روس سے سب سے زیادہ تیل درآمد کرنے والا ملک ہے۔ مگر اپنے اتحادی ملکوں سے گلہ کرتا رہا ہے کہ اتحادی روس کے خلاف اپنا کردار پوری طرح ادا نہیں کر رہے۔ اس لیے امریکی صدر کے سعودی عرب یا مشرق وسطی کے امکانی دورے کا جائزہ لینے کے لیے سب پہلووں کو سامنے رکھنا ہو گا۔ ''

انہوں نے مزید کہا ''امریکہ نے مشکل معاشی، علاقائی اور عالمی حالات میں سعودی ولی عہد کے ساتھ مل کر کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ خود سعودی عرب بھی سماجی تبدیلیوں کے مرحلے سے گذر رہا ہے۔ معاشی حوالے سے بھی سعودی عرب اب محض تیل پر انحصار کرنے کے بجائے دوسرے شعبوں میں آگے بڑھ رہا ہے۔ اس پس منظر میں یہ بات بھولنے کی نہیں کہ وژن 2030 کے تحت یہ جاری عمل امریکہ کے بھی مفاد میں ہے۔ ''

محمد الیحیی نے کہا ''سعودیہ کو امریکہ کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے بھی چیلنجوں کا سامنا رہا ہے۔ اس وجہ سے سعودی عرب کے ساتھ ساتھ اس کے ساتھ خلیجی ریاستوں کو بھی بھگتنا پڑا۔ یہی وجہ ہے کہ اب اس امر کی جانب انگلی اٹھ رہی ہے کہ امریکہ خود اپنے علاقائی سلامتی کے ''آرکیٹیکچر'' میں کہیں موجود بھی ہے یا نہیں؟

انہوں نے کہا ''اپنے جائزے میں ان سوالوں کا جواب بھی شامل کرنا ہو گا'' کیا امریکہ علاقائی سلامتی کے پروگرام کو بحال رکھنا چاہتا ہے یا اس سے دستبردار ہو جانا چاہتا ہے؟ کیا وہ اب چین کے لیے ایک محور کے طور پر کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ یا چین کی یہ اہمیت نہیں ہے؟ کیا یہ درست ہے کہ لوگوں کے چین سے بات کرنے پر بھی امریکہ کو تشویش ہونے لگتی ہے؟

امریکہ روس کے بارے میں بھی سوچتا ہے۔ لیکن خطے کے لوگ بھی جانتے ہیں کہ ولادی میر پیوتن نے صدر اوباما کے دور میں ہی بحر متوسط میں اپنے قدم جما لیے تھے۔ بعض اہم معاملات میں بھی امریکہ کنفیوژن کا شکار نظر آتا ہے کہ وہ ان ممالک کے ساتھ کرنا کیا چاہتا ہے؟'' یہ امریکہ پر تنقید نہیں ہے یہ اس کنفیوژن کی نشاندہی ہے جو امریکہ کے ہاں نظر آتی ہے۔''

ابراہم معاہدے: سعودی عرب کے فلسطین اور اسرائیل سے روابط

ڈینیل پلیٹکا ۔۔ سینئیر فیلو آف انٹر پرائزز انسٹیٹیوٹ ۔۔۔ جو بائیڈن انتظامیہ پہلے ہی یہ اشارہ دے چکی ہے کہ اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات میں وسعت اور پیش رفت ضروری ہے۔ اس لیے اس دورے کے حوالے سے یہ بات کسی کے لیے حیرانی کا باعث نہیں ہونی چاہیے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بائیڈن انتظامیہ معاہدہ ابراہم میں سے اب اپنا حصہ چاہتی ہے۔ اس کے سامنے یہ سوچ پائی جا رہی ہے کہ معاہدہ ابراہم کا سارا فائدہ ٹرمپ ہی کیوں اٹھاتے رہیں ۔''

پلیٹکا نے مزید کہا ''ایک اور اہم بات یہ ہے کہ اس معاملے میں پیچیدگی کا باعث اسرائیل کی حکومت نہیں ہے بلکہ زیادہ مسئلہ فلسطینی قیادت کا بے سمت ہونا ہے۔ بہرحال جو بائیڈن مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس سے بھی ملیں گے۔ اگرچہ ابھی اندازہ نہیں کہ اس ملاقات میں کن امور پر بات ہو گی اس بارے میں کچھ سامنے نہیں ہے۔'' لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ ''فلسطین کاز ''کی اہمیت خلیجی ملکوں کے ہاں کم ہو گئی ہے۔''

''جو بائیڈن کے دورے کی اس اہمیت کو نظر انداز نہ کیا جائے کہ وہ ایک ''گیس سٹیشن'' پر جا رہے ہیں، جس کی بنیاد موجودہ معاشی حقائق بنے ہیں۔ روس پر پابندیوں کی وجہ سے گیس کی قیمتیں اوپر چلی گئی ہیں۔ لیکن اس صورت حال کا یوکرین میں جنگ سے بہت تھوڑا تعلق ہے۔ میری رائے کے مطابق اس دورے کی اصل وجوہ ملک کے اندر گیس کی قیمتیں ہیں۔ ہمیں اس حقیقت کو ماننا ہو گا کہ ہم اس معاملے میں سعودی عرب پر انحصار کرتے ہیں۔ ''

برائن کیٹولیس سینئیر وائس پریزیڈنٹ پالیسی ایٹ مڈل ایسٹ انسٹیٹیوٹ کہتے ہیں ’’کہ اب جبکہ جو بائیڈن کے دورے میں صرف تین ہفتے رہ گئے ہیں اور اس کے اعلان کو ایک ہفتہ ہو چکا ہے، لیکن امریکہ اور سعودی عرب دونوں کی طرف سے ابھی بہت سا کام کیا جانا باقی ہے۔''

اگر پچھلے ہفتے یا اس سے جڑے ہوئے دنوں میں سامنے آنے والے بیانات کو دیکھا جائے تو دونوں جانب ایسا ''پوٹینشل'' محسوس ہوتا ہے کہ بعض چیزوں پر ابھی باہم دوری ہے۔ میرے خیال میں چیزیں اس دورے میں بھی زیادہ بہتر ہونے والی نہیں ہیں۔''

انہوں نے یہ بھی کہا ''جب سے جو بائیڈن اقتدار میں آئے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ دو طرفہ تعلقات کی تجدید کے بنیادوں اور معاہدات کو نئے سرے سے استوار کرنا چاہیے۔ لیکن جب تیل کے ایشوز کافی اوپر چلے گئے ہیں تو یہ وسیع موقع بھی ہے کہ علاقائی سلامتی پر توجہ مرکوز کی جائے۔ کیونکہ ایران کے حوالے سے کوئی دوسری آپشن یا ’بی‘ پلان موجود نہیں ہے۔ ''

کیٹولیس کا کہنا تھا ''میں سمجھتا ہوں کہ تیل کے علاوہ بھی تعاون یا تعلقات کے لیے اور بھی بہت سے امکانات موجود ہیں۔ اس تناظر میں خطے کی سلامتی کا ماحول، سعودی عرب میں نظریاتی ایشوز، جو بہرحال گذشتہ دہائی کے مقابلے میں کافی تبدیل بھی ہو رہے ہیں۔ لیکن ابھی کافی سارے چیلنج موجود ہیں۔''

انہوں نے مزید کہا ''میں اس چیز پر پختہ یقین رکھنے والا ہوں کہ ایران اور اس طرح کے دوسرے مشکل ملکوں کے ساتھ رابطے رہنے چاہییں۔ ہمارے بعض بہترین سفارت کاروں نے روس کے ساتھ سفارت کاری میں بھی بہترین کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ''

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں