سعودی عرب: العُلاء کی’وادی الفن‘میں عالمی شہرت یافتہ مصور اپنے فن پارے سجائیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

سعودی عرب کے تاریخی شہرالعُلاء میں آرٹس ویلی پروجیکٹ (وادی فنون لطیفہ)کے آغاز کے بعد عالمی شہرت یافتہ مصوروں نے اپنے فن پاروں کی نمائش کے لیےایک سمجھوتے پر دست خط کیے ہیں۔

سعودی عرب کی سرکاری پریس ایجنسی کے مطابق شاہی کمیشن برائے العلاء نے منگل کو 25 مربع میل پر محیط وادی الفن کے اس منصوبے کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کی ایک خبرمیں بتایا گیا ہے جیمزٹوریل اور مائیکل ہیزر ان معروف عالمی مصوروں میں شامل ہوں گے جو اگلے دو سال کے دوران میں سعودی عرب کے شمال مغربی صحرائی علاقے میں مستقل طور پر اپنے فن پارے سجائیں گے۔

جیمزٹوریل نے امریکی اخبارکو ایک انٹرویو میں بتایا کہ ’’مملکت کے ’سفارتی یا قوم پرستانہ رجحانات‘وادی الفن (وادیِ فنون لطیفہ ) کوچارچاند لگاسکتے ہیں۔میں نے ماسکو، شنگھائی، بیجنگ میں ایسے مقامات دکھائے ہیں جن کے بارے میں مجھے شک ہے کہ وہ میں آج بھی دکھا سکتا ہوں‘‘۔ انھوں نے مزید کہا کہ آرٹ کے لیے بڑے ثقافتی خلا کو ختم کرنا ممکن ہے۔

سعودی حکام نے اس منصوبہ کی تیاری اور شاہی کمیشن برائے العلاء کے آرٹ ماہرین کے پینل کی صدارت کے لیے لندن کی وائٹ چیپل آرٹ گیلری کی سابق ڈائریکٹر آئیونا بلازوک کی خدمات حاصل کی ہیں۔

ٹوریل اور مائیکل ہیزر کے علاوہ تجریدی آرٹسٹ ایگنس ڈینس اور سعودی مصورہ منال الدویان اور احمدماتر وادی الفن میں بڑے پیمانے پر اپنے فن پارے آویزاں کریں گے۔ بلازوک کا کہنا ہے کہ وادی کے پروگراموں میں بتدریج مزید مصوروں کو شامل کیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ دنیا میں کہیں اوراس طرح کی رنگارنگ قوس وقزح کی فطری خصوصیات ہیں۔انھیں ارد گرد دیکھنا قابل ذکر ہوگا۔

کچھ مصوروں کے بارے میں

امریکی مصور ٹوریل اپنے کام کی وجہ سے عالمگیر شہرت کے حامل ہیں۔انھوں نے روشنی اور خلا کے درمیان تعلقات کی تلاش کی ہے۔1960 کی دہائی کی روشنی اور خلائی تحریک کے علمبردار، ٹوریل چھتوں کے ساتھ رنگین کمرے بنانے کے لیے مشہورہیں۔ان میں جیومیٹریکل شکلوں کے کٹ آؤٹ ہوتے ہیں، جس سے زائرین کھلے آسمان میں جھانک سکتے ہیں۔

وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق وادی الفن کے لیے ٹوریل کئی فن پارے بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ان میں ایک سرنگ اور’’اسکائی اسپیسز‘‘ کی چوکھٹ بھی شامل ہے۔

امریکی لینڈ آرٹ کے علمبردارمائیکل ہیزربڑے پیمانے پر اور سائٹ کے مخصوص مجسموں میں مہارت رکھتے ہیں۔ وہ نیواڈا کے صحرا میں اپنے کام کے لیے مشہور ہیں جس کا عنوان ’شہر‘ ہے۔ اس کو 2020 میں عوام کے لیے کھولا گیا تھا اور اس پرڈھائی کروڑ ڈالرلاگت آئی ہے۔انھیں اس کی تکمیل میں قریباً 50 سال لگے ہیں۔وادی فنون لطیفہ کے منصوبے کے لیے ہیزر العلاء کے ریتلے پتھر کی چٹان کے سامنے کی طرف اونچی جیومیٹری طرز کا ایک سلسلہ ایسی شکلوں میں تراشنے کا ارادہ رکھتے ہیں جو لوگوں کے گزرتے ہی تبدیل ہو جاتی ہیں۔

ہنگری میں پیدا ہونے والی اور اب نیویارک میں مقیم آرٹسٹ ایگنس ڈینس وادی کے ارد گرد چٹانوں میں اہرام شکلوں کا اپنا سلسلہ تراشنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔وہ 1980 کی دہائی میں مین ہٹن زیریں (نیویارک) میں دو ایکڑ پرمحیط گندم کا کھیت بنانے کے لیے مشہور ہیں۔

احمدماتر سعودی عرب کے سب سے بااثر معاصر مصوروں میں سے ایک ہیں۔ وہ الریاض سے تعلق رکھتے ہیں۔پیشہ کے اعتبارمعالج ہیں اور مصری شوق سے کرتے ہیں۔انھوں نے زیرزمین عناصر کے ساتھ ایک پیچیدہ فن پارہ ’’اشعب اللال‘‘ بنانے کا منصوبہ بنایا ہے اور اس میں صحرائی وادی کے فرش پر بصری التباس پیدا کرنے کے لیے آئینے شامل ہوں گے۔

سعودی معاصرمصورہ منال الدویان 2011 میں متحدہ عرب امارات میں ہوم گراؤنڈ نمائش میں آرٹ کی تنصیب ’معطل ایک ساتھ‘ اور العلاء میں ان کی حالیہ عارضی تنصیب ’اب آپ مجھے دیکھیں، اب آپ نہیں کرتے‘کے سبب شہرتے کی حامل ہیں۔ یہ پوڈل جیسے ٹکڑوں پر مشتمل تھا جو سعودی صحرا میں ایک ’’عاجزانہ پوڈل‘‘ کی علامت تھا۔

وادی کے لیےالدویان کا ٹکڑا’’کہانیوں کا نخلستان‘‘ العلاء کے قدیم قصبے میں بکھرے ہوئے مٹی کی اینٹوں والے گھروں کو خراج عقیدت پیش کرے گا۔

العلاء کی مقبولیت میں اضافہ

شاہی کمیشن برائے العلاء کی آرٹس اور تخلیقی صنعتوں کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نورالدبل نے کہا کہ وادی فنون لطیفہ زیادہ ثقافتی سیاحوں کو راغب کرنے کے لیے برسوں سے جاری مہم کا حصہ ہے۔

العلاء کی مقبولیت میں گذشتہ کئی سال سے اضافہ ہو رہا ہے۔ العربیہ کے ساتھ ایک حالیہ انٹرویو میں آر سی یو کی ڈائریکٹربرائے منزل مارکیٹنگ میلانی ڈی سوزا نے کہا کہ قدیم شہر نے صرف 2021 میں ایک لاکھ 46 ہزار زائرین کا خیرمقدم کیاتھا 2022 میں مزید زائرین کی آمد کی توقع ہے کیونکہ فضائی کمپینوں اور ہوٹل کی صلاحیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

الدبل نے وال اسٹریٹ جرنل کو بتایا کہ رواں سال کے اوائل میں منعقد ہونے والی ڈیزرٹ ایکس العلاء نمائش کے دوسرے ایڈیشن میں 24,000 زائرین کا خیرمقدم کیا گیا۔اس طرح پہلی تقریب کے مقابلے میں زائرین کی تعداد 9,000 سے زیادہ تھی۔

وادی فنون لطیفہ کا منصوبہ سعودی عرب کو ایک بڑی بین الاقوامی آرٹ منزل میں تبدیل کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے،یہ ایک ایسااقدام ہے جوسعودی وژن 2030ء کے عین مطابق ہے۔سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے 2016 میں مملکت میں وسیع تر معاشی اور سماجی اصلاحات کے لیے یہ منصوبہ پیش کیا تھا اور اس کا بڑا مقصد سعودی معیشت کو متنوع بنانا ہے۔

سعودی عرب اس ویژن کے تحت کئی عجائب گھر بنانے کا ارادہ رکھتا ہے جو مملکت پر تیل، دھوپ اور بحیرۂ احمر کے اثرات کا جائزہ لیں۔قومی نوادروفنون کورکھنے کے لیے عجائب گھروں کا بھی منصوبہ ہے جس میں لیونارڈو دا ونچی کا فن پارہ سلواتورمنڈی شامل ہوگا۔

العلاءدو لاکھ سال سے زیادہ قدیم ہے۔یہ خطے کی نئی سیاحتی منزلوں میں سے ایک کے طور پرابھر رہا ہے اور دنیا بھر کے مسافروں کو اپنی طرف راغب کر رہا ہے۔اس کو گذشتہ سال باضابطہ طور پر دنیا کے لیے کھولا گیا تھا۔اس کے بعد اس نے اپنی پروازوں کی خدمات میں توسیع کی ہے اور مختلف مقامی اور بین الاقوامی فضائی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کی ہے تاکہ علاقے میں پروازوں کے راستوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں