سفاک مصری جج نے بیوی کو گلاگھونٹ کرقتل کردیا،چہرہ نائٹرک ایسڈ سے جلا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

مصرکے ایک جج نے مبیّنہ طور پر اپنی بیوی،42 سالہ ٹیلی ویژن پیش کارکو گھریلوناچاقی پر سفاکانہ انداز میں قتل کردیا ہے اور نائٹرک ایسڈ (تیزب)کا استعمال کرتے ہوئے اس کا چہرہ جلا دیا ہے۔اس جج کی شناخت ایمن حجاج کے نام سے کی گئی ہے۔

واقعہ کی تفصیل کے مطابق جون کے اوائل میں ایمن حجاج نے، جو مبیّنہ طور پر ریاستی کونسل کی نائب صدر بھی ہیں، یہ اطلاع دی تھی کہ ان کی اہلیہ شیماء جمال لاپتا ہو گئی ہیں اور انھیں آخری بار جیزہ کی گورنری میں واقع 6 اکتوبرسٹی میں ایک مال کے سامنے دیکھا گیا تھا۔

مگر ان کی بیوی کی گم شدگی کے ارد گرد کے حالات اس وقت واضح ہوگئے جب ایک مبیّنہ گواہ نے آگے بڑھ کر حکام کو بتایا کہ شیما جمال کو قتل کیا جاچکا ہے اور کی لاش کہاں دفن ہے؟

مقامی نیوزویب سائٹ مصراوی نے منگل کے روزخبردی ہے کہ اس واردات کے عینی شاہد کو ایچ ایم کے ابتدائی حروف کے ساتھ شناخت کیا گیا ہے اور اس کے وکیل ابراہیم طنطاوی نے وضاحت کی کہ ان کا مؤکل اس وقت موقع پرموجود تھا جب حجاج نے اپنی اہلیہ کو اس فارم میں قتل کیا جہاں سے اس کی لاش ملی تھی۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ مقتولہ شیماء جمال جج حجاج کی دوسری بیوی تھی۔ان کی شادی ’’خفیہ‘‘تھی ۔انھوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ جج کی پہلی بیوی اس شادی کے بارے میں کچھ نہیں جانتی تھی۔گواہ کے مطابق ایمن حجاج نے شدید جھگڑے کے بعد بیوی شیما کے سر پر بندوق سے تین بار وار کیا اور پھراس کے اسکارف سے اس کا گلا گھونٹ دیا جس سے اس کا دم گھٹ گیا اور وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گئی۔

مبیّنہ طور پراس جرم کا مشاہدہ کرنے والے ایچ ایم کو حجاج نے سنگین نتائج کی دھمکی دی تھی اور اسے پولیس کے پاس جانے سے روکنے کے لیے اسیر رکھا تھا۔

اخبارالمصری الیوم کے مطابق وکیل براہیم طنطاوی نے بتایا کہ گواہ ایک ٹھیکے دار ہے۔اس نے ایک ماہ قبل حجاج کو فارم کرائے پر دیا تھا اور جب حجاج شیماء جمال کو وہاں لے گیا تو وہ فارم میں تھا۔ نیزجج اور ایچ ایم پڑوسی تھے اور ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے تھے۔

حجاج نے مبیّنہ طور پر ایچ ایم کو دھمکی دی کہ اگر اس نے واقعہ کے بارے میں کسی کوبتایا تو وہ یہ کہے گا کہ ایچ ایم بھی قتل کے اس جرم میں اس کا ساتھی ہے۔

طنطاوی نے وضاحت کی کہ ایچ ایم نے حجاج کو قائل کرنے کی کوشش کی تھی کہ وہ پولیس کے پاس جائے اور گھریلو بحث وتکرار کے دوران میں بیوی کو قتل کرنے کا اعتراف کرے۔تاہم اس نے انکار کردیا اور اس کے بجائے ایچ ایم کو یرغمال بنا لیا۔تاہم ایچ ایم اپنی رہائی کے لیے حجاج کو قائل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔اس نے جج کو یہ باورکرایا تھا کہ اس کا خاندان اس کے یوں لاپتا ہونے پر پریشان ہوگا۔اس لیے اس کا خاندان سے ملنے جانا بہترہوگا۔

ایچ ایم نے اپنی رہائی کے فوری بعد وکیل طنطاوی سے رابطہ کیا اور انھوں نے پولیس کے پاس جانے اور اس جرم کی اطلاع کا فیصلہ کیا۔منگل کو مصر کے مستغیث عام نے الگ سے ایک بیان میں کہا کہ ایک شخص نے مقتولہ پیش کار کے شوہر کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات کی تصدیق کی ہے اور اس نے بتایا کہ اس کے پاس ایسی معلومات ہیں جن سے پتاچلتا ہے کہ جج حجاج اپنی بیوی شیما جمال کو قتل کرنے میں ملوّث ہے۔

پبلک پراسیکیوشن نے کہا کہ گواہ نے جرم کا مشاہدہ کرنے کی تصدیق کی ہے اور وہ جانتا ہے کہ اس کی لاش کہاں دفن ہے۔اس نے مزید کہا کہ جس شخص نے مقتولہ جمال کی لاش تک پولیس کی رہ نمائی کی،اس نے’’جرم میں شرکت کا اعتراف کیاہے‘‘اور اس کے بعد اسے حراست میں لے لیا گیا ہے۔

مصراوی نے ایک باخبر ذریعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عوامی استغاثہ نے جج ایمن حجاج کی گرفتاری کا بھی حکم دیا ہے۔شیماء جمال کی لاش برآمد ہونے کی خبر نے مصریوں میں اشتعال پیدا کر دیا۔بالخصوص گذشتہ ہفتے ایک یونیورسٹی طالبہ کے دن دہاڑے قتل کے جرم کے بعد لوگوں میں سخت غم وغصہ پایا جارہا ہے۔اکیس سالہ مصری طالبہ نائیرہ اشرف کو اس کی یونیورسٹی کے داخلی دروازے کے سامنے ایک شخص نے قتل کردیا تھا۔اس طالبہ نے قاتل کی شادی کی تجویزمسترد کر دی تھی۔

ایک صارف نے ٹویٹر پر ہیش ٹیگ Shaymaa_Jamal کا اضافہ کرتے ہوئے لکھا کہ براہ کرم خواتین کے خلاف تشدد کا خاتمہ کریں۔

ایک اورشخص نے لکھا کہ’’یہ ایک تکلیف دہ ہفتہ ہے جس میں جذباتی طور پر پریشان مردوں کے ہاتھوں خواتین کو قتل کیے جانے کے بارے میں ہی تمام خبریں ہیں‘‘۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں