تنازعات کے درمیان کشمیرمیں پنپتی کبوتر بازی کی صدیوں پرانی روایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

نو عمر سیدنا اسماعیل حسین بانڈے نے بھارتی مقبوضہ کشمیر کے قلب میں کبوتر بازی کا مشغلہ اپنائے رکھا۔

تین دہائیاں گزرنے کے بعد اب جبکہ وہ سول انجینئر ہیں اور ایک تعمیراتی کمپنی کے مالک بن چکے ہیں، اس روایتی مشغلے کے لیے ان کی محبت ہنوز زندہ ہے۔ چوالیس سال کی عمر میں وہ ایک پیشہ ور کبوتر باز بن چکے ہیں اور انکے پاس چار سو 400 سے زائد کبوتر ہیں۔

بانڈے کہتے ہیں ’’کہ اس پرندے کی سنگت نے مجھے صبر اور نظم و ضبط سکھایا اور اب یہ میری زندگی کا لازمی جزو ہیں۔‘‘

کبوتر پالنے کی صدیوں پرانی روایت سری نگر کے پرانے کوارٹرز میں آج بھی زندہ ہے جہاں چھتوں پر، مساجد اور مزاروں کے صحنوں میں اور بازاروں کے آس پاس کبوتروں کے جھنڈ، ایک عام منظر ہے۔ ان میں سے بہت سے پالتو ہیں، جن کی پرورش وہاں کے ہزاروں کبوتر پالنے والوں نے کی ہے۔ ہر ہفتے جمعہ اور اتوار کو، پالتو اور جنگلی کبوتروں کی مختلف نسلیں کھلے بازار میں فروخت ہوتی ہیں، جسے مقامی طور پر کبوتر مارکیٹ کہا جاتا ہے۔

کبوتر ہینڈلر اپنے پرندوں کو دوسرے کبوتروں کے ساتھ گھل مل جانے کے لیے ہوا میں چھوڑ دیتے ہیں۔ ان کی واپسی اکثر آوارہ کبوتروں کے ساتھ ہوتی ہے۔

مغربی ممالک کے برعکس جہاں ریسنگ کبوتر غالب ہیں، ہینڈلرز کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا میں اونچی اڑان والے کبوتروں کو ترجیح دی جاتی ہے۔

بانڈے کی طرح، 33 سالہ عمران احمد بھٹ، ایک ٹیکسی سروس فراہم کرنے والا، کبوتر پالنے کا شوقین ہے۔"میرے پاس ایک کبوتر کا بچہ تھا جس کے والدین فوت ہو گئے تھے۔ میں اناج چبا کر اسے کھلاتا،‘‘ اس نے کہا۔

چونکہ کشمیر کا طویل تنازع جاری ہے، کبوتر پالنے خاص طور پر سری نگر کے مرکز میں، ذرا دشوار ہے۔

ہمالیائی کشمیر کے ہندوستان کے زیرِ انتظام حصے میں، 1989 کے بعد سے، بہت سے مسلم کشمیریوں کی حمایت یافتہ مسلح جہدوجہد آزادی برپا ہے جو اس علاقے کو یا تو پاکستانی حکمرانی کے تحت یا ایک آزاد ملک کے طور پر متحد کرنا چاہتا ہے۔

ہندوستانی پولیس نے کئی بار کبوتروں کو جاسوسی کے شبے میں حراست میں لیا ہے جب پرندے پاکستان کی طرف سے بھاری حفاظتی سرحد کے ساتھ ہندوستانی علاقے میں داخل ہوئے تھے۔

انتھک لڑائی، طویل حفاظتی لاک ڈاؤن، باقاعدہ شٹر ڈاؤن اور مظاہروں کے درمیان جو اکثر پرتشدد ہو جاتے ہیں، بہت سے نوجوانوں نے کبوتروں کو شوق اور جز وقتی کاروبار کے طور پر پالنا اور فروخت کرنا شروع کر دیا۔

لیکن کبوتر پالنا مشکل کام ہے۔ مالکان کرفیو اور سخت سردیوں کا مقابلہ کرتے ہیں۔ وہ کوپس کو صاف کرتے ہیں، چھتوں پر پرندوں کو کھانا کھلاتے ہیں اور کبوتروں کی سال بھر دیکھ بھال کرتے ہیں، انہیں ویکسین اور غذائی سپلیمنٹ دیتے ہیں۔

بانڈے نے کہا کہ کبوتر کی کچھ اقسام بہت مہنگی ہیں۔ اس کے پاس دو "ٹیڈی" کبوتر ہیں جن کے بارے میں اس نے کہا کہ اس جوڑے کی قیمت 2,700 امریکی ڈالر ہے۔

انہوں نے کہا کہ "ایک عام آدمی کے لیے، وہ تقریباً ایک جیسے ہوتے ہیں۔ لیکن کبوتر کی کچھ نسلیں بہت حساس ہوتی ہیں اور انہیں محتاط دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں