.

28سعودی ڈاکٹروں کی ٹیم نے یمنی سیامی جڑواں بچّیوں کو کامیابی سے الگ کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

28 سعودی ڈاکٹروں پرمشتمل ٹیم نے دارالحکومت الریاض کے ایک اسپتال میں پانچ گھنٹے کی سرجری کے یعد یمنی سیامی جڑواں بچّیوں کو کامیابی سے الگ کر دیا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مودہ اور رحمہ کو بغیرکسی پیچیدگی کے الگ کیا گیا ہے اور ان کی صحت کی حالت بہت اچھی ہے۔

سرجری کرنے والی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹرعبداللہ بن عبدالعزیزالربیعہ نے بتایا کہ سعودی عرب میں یہ دھڑیا سرسے جڑے ہوئے بچّوں کا 52 واں کامیاب آپریشن ہے۔ان میں سیامی جڑواں بچّوں کو مملکت میں کامیابی سے الگ کیا گیا ہے۔

جڑواں بچوں کے والد حذیفہ نعمان نے ایسی انسانی کوششوں کی سرپرستی کرنے پرسعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کیا ہے۔

انھوں نے بچّوں کی علاحدگی کے لیے آپریشن کرنے والی طبی ٹیم کا بھی شکریہ ادا کیا۔یہ دونوں بچیّاں سینے اور پیٹ کے نچلے حصے سے باہم جڑی ہوئی پیدا ہوئی تھیں۔

اس طرح دھڑے سے جڑے جڑواں بچوں کی پیدائش بہت ہی نادرواقعہ ہے۔ایک اندازے کے مطابق ہر49,000 سے 189,000 تک بچّوں میں سے کوئی ایک اس طرح جڑواں جوڑا پیدا ہوتا ہے کہ جن کا سینہ یا پیٹ آپس میں جڑا ہوتا ہے۔

ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق مئی میں سعودی عرب میں ڈاکٹروں نے 15 گھنٹے کے ’’پیچیدہ‘‘ آپریشن کے بعددھڑ سےجڑے جڑواں بچوں کو الگ کیا تھا۔ ان کا تعلق بھی جنگ زدہ یمن سے تھا۔

ان بچّوں کے نام یوسف اور یاسین تھے۔ ان کےکئی اعضاء مشترکہ یعینی صرف ایک یا آپس میں جڑے ہوئے تھے۔24 ڈاکٹروں کی ٹیم نے انھیں الگ کرنے کے آپریشن میں حصہ لیا تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان جڑواں سے میں ایک بچے کی موت واقع ہوگئی تھی کیونکہ اس کا سرجری کے دوسرے روزبھی خون بہتا رہا تھا اورخون کی گردش میں شدید کمی واقع ہوئی تھی جس سے اس کے دل کی حرکت بند ہوگئی تھی حالانکہ اس کی مکمل طبی نگہداشت کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ سعودی عرب میں یمن سے تعلق رکھنے والے سر یا دھڑسے جڑے جڑواں بچّوں کوالگ کرنے کے لیے باقاعدگی سے ہر دوسرے چوتھے مہینے ڈاکٹر حضرات سرجری کرتے رہتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں