.

عمانی شاگرد کی سعودی استاد سے 42 سال بعد ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

استاد اور شاگرد کا روحانی رشتہ دونوں طرف سے ایک کشش رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ برسوں گذر جانے کے بعد بھی ہونہار شاگرد اپنے استادوں کو یاد رکھتے ہیں۔

اس رپورٹ میں العربیہ ڈاٹ نیٹ کے قارئین کو ایک عمانی شاگرد اور ان کے سعودی استاد کی 42 سال بعد ہونے والی ملاقات کا احوال پیش کر رہے ہیں۔ استاد شاگرد کی ملاقات کی ایک ویڈیو بھی منظرعام پر آئی ہے جس پر سوشل میڈیا پر ملا جلا رد عمل سامنے آ رہا ہے۔

ویڈیو میں عمانی محمود المندری اور ان کے استاد محمد العقیل کو ملاقات کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ منذری اپنے استاد سے ملنے سعودی عرب کے شہر حائل آئے۔ دونوں کے درمیان استاد شاگرد کا روحانی رشتہ 42 سال پرانا ہے۔ محمد العقیل سعودی عرب میں نہیں بلکہ عمان میں تھے جہاں منذری ان سے پڑھتے رہے۔

ویڈیو میں سعودی استاد کو اپنے طالب علم کا پرتپاک استقبال دکھایا گیا اور دونوں نے سلام دعا کی اور گلے ملے۔ ملاقات کا منظر دونوں کے درمیان محبت اور وفاداری کے جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔ سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیو پر سماجی حلقوں کی طرف سے آنےوالے رد عمل میں استاد شاگرد کے طرز عمل اور ایک دوسرے سے محبت کو سراہا ہے۔

سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ عمانی شہری کا اپنے استاد سے ملنے سعودی عرب پہنچنا ان کی استاد سے محبت کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک وفادار شاگرد ہی اپنے استاد کا احترام کرنے کے ساتھ ان سے ایسی والہانہ محبت رکھ سکتا ہے جو اسے ملاقات پر مجبور کر دے۔

ایک ٹویٹ میں منذری نے لکھا کہ پروفیسر محمد العقیل الظہیرہ گورنری میں عبری ریاست میں باسلیف کے عمر بن مسعود اسکول میں ہمارے استاد تھے۔ ہمارے درمیان آخری ملاقات 42 سال سے زیادہ پہلے ہوئی تھی۔ خدا سب کو سلامت رکھے‘۔

جبکہ جناب محمد العقیل کے طلباء نے اپنے استاد سے اپنی محبت اور وفاداری کا اظہار سلسلہ وار ٹویٹس کے ذریعے کیا جس میں استاد کے عظیم اثرات کے بارے میں بتایا گیا ہے۔

ان میں سے ایک نے ٹویٹ کیا کہ "یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ ایک معزز استاد جس کا سب احترام کرتے ہیں، کو برسوں پہلے سلطنت عمان میں پڑھانے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ انہوں نے سلطنت کے طلباء کو تعلیم دینے کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کیں۔ ہمیں اپنے اس عظیم استاد کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں