گزرے جولائی نے اب تک عالمی سطح پرگرمی کا کیا ریکارڈ توڑا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اقوام متحدہ کے موسمیاتی ادارے نے منگل کو بتایا کہ گذشتہ ماہ اب تک ریکارڈ کیے گئے تین گرم ترین جولائی میں سے ایک تھا،اس میں عالمی درجہ حرارت اوسط سے قریباً نصف ڈگری زیادہ رہا تھا۔

عالمی موسمیاتی تنظیم (ڈبلیو ایم او) کی ترجمان کلیر نولیس نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ گزرا جولائی دنیا میں اب تک ریکارڈ پرموجود تین گرم ترین جولائی کے مہینوں میں سے ایک ہے۔

یورپی مانیٹرنگ سروس کوپرنیکس کے تازہ اعداد و شمارکی طرف اشارہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ 2022کا جولائی 2019 کے اسی مہینے کے مقابلے میں قدرے ٹھنڈا رہا ہے اور 2016 کے مقابلے میں قدرے گرم رہا ہے۔

نولیس نے وضاحت کی کہ تین مہینوں کے درمیان درجہ حرارت کا فرق بہت تھوڑا ہے، لہٰذا اسی وجہ سے ہم تین گرم ترین مہینوں میں سے ایک کَہ رہے ہیں۔انھوں نے بتایاکہ اس سال کا جولائی اسپین میں ریکارڈ کیا گیا اب تک کا گرم ترین مہینہ تھا۔

ڈبلیو ایم او کے مطابق گذشتہ ماہ عالمی سطح پر درجہ حرارت 1991-2020 کی اوسط سے 0.4 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ تھا۔اس حقیقت کے باوجود کہ موسمی مظہریت لانینا نے ستمبر 2020 سے دنیا کوقریباً بلا تعطل اپنے حصار میں لے رکھا ہے اور یہ ’’ٹھنڈا اثر ڈالنے کے لیے ہے‘‘۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ یورپی موسم گرما میں گرمی کی شدید لہراور خشک سالی دیکھنے میں آئی ہے اور بعض ممالک میں بارشیں کم ریکارڈ کی گئی ہیں۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ بار بار آنے والی گرمی کی لہرعالمی حدت (گلوبل وارمنگ) کی واضح علامت ہے۔گذشتہ ماہ ڈبلیو ایم او نے خبردار کیا تھا کہ مغربی یورپ کو پکانے والی گرمی کی لہراب عام ہوتی جا رہی ہے اور آنے والی دہائیوں میں یہ ایک نیا معمول بننے والی ہے۔

ایجنسی کا کہنا ہے کہ یورپ اوردیگرجگہوں پر شدید گرمی کے باوجود گذشتہ ماہ جولائی نے گرمی کا عالمی ریکارڈ واضح طور پر نہیں توڑا کیونکہ مغربی بحرہند ،وسط ایشیا اور آسٹریلیا کے بیشترعلاقوں سمیت دیگرخطوں میں اوسط درجہ حرارت کم دیکھا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں