یواے ای:اسپتالوں میں لُولگنےکے مریضوں میں اضافہ،گرمی سے بچنے کےلیے کیاکریں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

متحدہ عرب امارات کے اسپتالوں میں موسم گرما کے مہینوں کے دوران میں شدید درجہ حرارت کی وجہ سے لُولگنے (ہیٹ اسٹروک) اور گرمی سے نقاہت کے روزانہ کیسوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

ایم بی زیڈ سٹی میں واقع برین انٹرنیشنل اسپتال کے انٹرنل میڈیسن کے ڈاکٹراحمدرضا خان نے العربیہ کوبتایاکہ’’ہم نے اس موسم گرما میں گرمی سے متعلق بیماریوں کے باعث اسپتال میں داخل ہونے والے مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا ہے‘‘۔

برجیل میڈیکل سٹی میں ایمرجنسی کنسلٹنٹ اور ایمرجنسی سروسز کے ڈائریکٹر ڈاکٹرزہیرالشرافی نے کہا کہ موسم گرما میں درجہ حرارت میں اضافے کے بعد سے ہم روزانہ ہیٹ سنکوپ، گرمی کی تھکاوٹ اور لُولگنے کے کیس دیکھ رہے ہیں۔اس طرح گرمی کی شدت سے بنیادی طور پرباہر کام کرنے والے افراد متاثر ہوتے ہیں۔

انھوں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ بیرونی کام کے دوران میں دوپہر کے وقفے کی وجہ سے لُولگنے کے شدید کیسوں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ سورج کی تمازت خاص طور پر زیادہ درجہ حرارت کے دوران میں صحت کے سنگین نتائج کا حامل ہوسکتی ہے۔

انھوں نے خبردارکیا کہ بعض عوامل سورج کی تمازت کے نتائج پربراہ راست اثرانداز ہوسکتے ہیں۔ ان عوامل میں ماحولیاتی درجہ حرارت، سورج کے نیچے گزارا گیا وقت، نمی، ہائیڈریشن کی حیثیت، دائمی بیماریاں اور کچھ ادویہ شامل ہیں۔

ڈاکٹراحمد رضاخان نے کہا کہ ہیٹ اسٹروک کسی کو بھی ہو سکتا ہے لیکن گرم اور مرطوب ماحول میں سخت ورزش کرنے کے بعد یہ زیادہ تر نیلے کالر کارکنوں اور کھلاڑیوں کو متاثر کرتا ہے۔

گرمی سے متعلق بیماریوں کی چار اقسام ہیں: دانے اور پٹھوں میں کھنچاؤ، گرمی سنکوپ (چکر آنا)، گرمی کی تھکاوٹ اور لُولگنا(ہیٹ اسٹروک)۔

گرمی کو کیسے شکست دی جاسکتی ہے؟

ہیٹ اسٹروک گرمی کی سب سے سنگین بیماری ہے، اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب کسی کا جسم اپنے درجہ حرارت کو کنٹرول نہیں کر سکتا۔ جسم کا درجہ حرارت تیزی سے بڑھتا ہے، پسینے کاعمل ناکام ہو جاتا ہے اور اس کے بعد جسم خود کو ٹھنڈا کرنے سے قاصررہتا ہے جس کے نتیجے میں ہیٹ اسٹروک ہوتا ہے۔

ڈاکٹرالشرافی نے العربیہ کو بتایا کہ گرمی کی لہر جسم کے درجہ حرارت میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے جس کے نتیجے میں پانی اور معدنی نقصان شروع ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے ابتدائی طور پر گرمی کی تھکاوٹ کی علامات پیدا ہو سکتی ہیں مثلاً: کمزوری، نقاہت،چکرآنا، سردرد اورمتلی۔

انھوں نے کہا کہ گرمی سےمتعلق بیماری سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیرہی بہترین طریق کار ہے۔انھوں نے لوگوں کو مشورہ دیا کہ وہ گرمی کے اوقات میں گھروں کے اندر رہیں تاکہ سورج کی براہ راست تمازت سے بچاجاسکے۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگرآپ عوامی جگہوں پرجانا چاہتے ہیں تو یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ طلوع آفتاب یا غروب آفتاب کے قریب جائیں۔نیز پانی اور نکمیات کی کمی سے بچنے کے لیے پانی کا بہ کثرت استعمال ضروری ہے جبکہ کیفین والے مشروبات سے پرہیز کیا جائے۔

الشرافی نے ڈھیلے ڈھالے، ہلکے رنگ کے کپڑے پہننے اور سورج کی روشنی کے نیچے براہ راست سرگرمیوں سے بچنے کی تجویز بھی دی،خاص طور پرشدیدگرمی کے اوقات میں۔انھوں نے کہا کہ سن اسکرین اور سن گلاسز پہن کر اپنی حفاظت کریں۔

ڈاکٹرخان کا کہنا تھا کہ ہیٹ اسٹروک سے بآسانی بچاجاسکتا ہے۔وہ یوں کہ کافی مقدارمیں پانی پی کر اچھاہائیڈریشن حاصل کیاجائے،دھوپ سے حفاظتی کپڑے اور ٹوپیاں پہن کرباہرکام کے دوران میں شیڈز اور چھتریوں کا استعمال کیا جائے۔انھوں نے یہ بھی مشورہ دیا کہ لوگ اپنی گاڑیاں سایہ دار علاقوں میں پارک کریں اوراس بات کویقینی بنائیں کہ کارمیں کوئی موجود نہ رہے۔نیزدوپہر کے وقت کام یا باہرجانے سے گریزکریں اورسورج روک کریم کا استعمال کریں۔گرمی کی تھکاوٹ یا ہیٹ اسٹروک میں مبتلا افراد کو فوری طبی امداد کی ضرورت ہوتی ہے۔ سنگین پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے یہ بہت ضروری ہے۔

مریض کے جسم کا درجہ حرارت ٹھنڈے پانی کی پٹیوں سے نیچے لایا جاسکتا ہے۔ہیٹ اسٹروک گرمی سے متعلق بیماری کی سب سے شدید شکل ہے کیونکہ یہ مرکزی اعصابی نظام، گردے اور جگر سمیت کثیر اعضاء کی ناکامی کا باعث بن سکتا ہے۔سورج کے نیچے زیادہ دیررہنے کے نتیجے میں کئی پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔

ڈاکٹرخان نے کہا کہ ہیٹ اسٹروک کی علامات سر درد، چکرآنا، متلی، جسم میں درد، کھنچاؤاوردل کی تیزدھڑکن کی شکل میں ظاہر ہوسکتی ہیں۔کچھ شدید صورتوں میں،اگر مناسب طریقے سے اور فوری طور پرعلاج نہ کیا جائے تو یہ جان لیوا ہوسکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں