کرونا وائرس

دواسازادارے کووِڈ-19 کی تمام اقسام کاتریاق ایک ہی ویکسین کی تیاری کے لیے کوشاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سائنس دان اس خدشے کا اظہار کررہے ہیں کہ اس موسم خزاں میں اومیکرون شکل سے نمٹنے کے لیے ویکسین کووِڈ-19کے پہلے آنے والے شاٹس سے زیادہ بہترنہیں ہوگی۔ اس کے پیش نظر دواسازاداروں پر زوردیا جا رہا ہے کہ وہ اب ایسی ویکسین کی تیاری پرکام شروع کریں جس کو اکثر جدید بنانے کی ضرورت پیش نہ آئے۔نیزوہ وائرس کی تمام شکلوں کا تریاق ثابت ہو۔

ویل کارنیل میڈیکل کالج میں مائیکروبائیولوجی اور ایمیونولوجی کے پروفیسر جان مور کے مطابق جانچ سے پتاچلتا ہے کہ ماڈرنا انکارپوریٹڈ کی اومیکرون کے لیے مخصوص ویکسین اور فائزرانکارپوریٹڈ اور بائیو این ٹیک کی شراکت داری سے تیار کردہ نئی ویکسین فی الحال دستیاب تقویتی بوسٹرز کے مقابلے میں کم تر ہوگی یا ان سے کوئی بہترثابت نہیں ہوگی۔

مور نے کہا کہ ویکسین کے آمیزے کو تبدیل کرنے کا فائدہ بہ مشکل ہی قابل شناخت ہے۔ماڈرنا اورفائزر دونوں نے کہا ہی کہ ان کی اومیکرون کی مخصوص ویکسین نے موجودہ فارمولے کے مقابلے میں اومیکرون کے ذیلی متغیّرات بی اے.4 اور بی اے.5 میں زیادہ اینٹی باڈیزپیدا کیے ہیں۔

لیکن تشویش ناک امریہ کہ ہے کہ وائرس تیزی سے شکلیں تبدیل کررہا ہے اور ان کے تریاق کے لیے اضافی تقویتی خوراکیں کام نہیں دے رہی ہیں۔

میو کلینک کے ویکسین ریسرچ گروپ کے سربراہ گریگ پولینڈ نے کہا کہ آج کی غالب شکلوں کی جگہ نئے متغیّرات ستمبر کے آخرمیں ظہورپذیرہوں گے اورتب تک نئے شاٹس بھی تیارہوکردستیاب ہوجائیں گے۔

صدر جو بائیڈن کے طبی مشیراعلیٰ ڈاکٹرانتھونی فاؤچی کا کہنا ہے کہ مزید پائیدار تحفظ دینے کے لیے اگلی نسل کی ویکسین ٹیکنالوجی پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’’ایم آراین اے کے انتہائی لچکدار پلیٹ فارم کے ساتھ بھی، جو ہمارے پاس پہلے کی کسی بھی چیز سے زیادہ لچکدار ہے، نئے ظہورپذیرہونے والے متغیّرات کی رفتار کے مطابق مقابلہ کرنا بہت مشکل ہوگا اور یہ مظہر ہمیں اس سوال کی طرف لے جاتا ہے کہ پان کرونا وائرس ویکسین کے بارے میں کیا خیال ہے؟‘‘

جون میں فائزراور بائیو این ٹیک کی تحقیق سے پتا چلا تھاکہ ان کی اومیکرون شکل کے لیے تیارکردہ ویکسین نے دومتغیّرات بی اے.4 اور بی اے.5 کو بے اثر کردیا، اگرچہ اصل اومیکرون شکل بی اے.1 سے کم حد تک اثرکیا تھا۔

کروناوائرس کی اصل ویکسین شدید بیماری اور اسپتال میں داخل ہونے کے خلاف ایک حفاظتی بند ہے لیکن جیسے جیسے نئی شکلیں سامنے آرہی ہیں،چین کے صوبہ ووہان سے پھیلنے والے اصل وائرس سے جینیاتی مواد پرمبنی شاٹس انفیکشن کی روک تھام میں کم مؤثر ہوگئے ہیں کیونکہ وہ اس وقت گردش کرنے والی مختلف اقسام سے بہت مختلف ہیں۔

ویکسین کی پائیداری کے بارے میں تشویش اپریل میں امریکی مشیرانِ صحت کے اجلاس میں سامنے آئی تھی جب وہ اس بات پر بحث کر رہے تھے کہ آیا اس وقت دستیاب ویکسین کے ساتھ متغیّرات اورمختلف شکلوں کا علاج ایک مناسب حکمت عملی ہے۔

اگرچہ دستیاب ویکسینیں شدید بیماری، اسپتال میں داخل ہونے اور موت کے خلاف انتہائی مؤثر ہیں لیکن اس اجلاس میں اس تشویش کا اظہارکیا گیا تھاکہ وائرس ان لوگوں میں تبدیل ہوتا رہے گا جواس سے متاثر ہوتے ہیں۔

اس پینل میں شامل ریاست منیسوٹا کے محکمہ صحت کے ایک عہدہ دار لین باہٹا نے کہا کہ ہمیں اس بارے میں سوچنا چاہیے کہ بہتر ویکسین کیسے بنائی جائے۔ ہمیں اپنی مہارت کو کسی ایسی چیز کی وکالت کے لیے استعمال کرنے کی ضرورت ہے جو بہترہو، یا ایسی چیزجو بیماری کے برے اثرات کو واقعی حل کر سکے چاہے وہ ہلکے ہوں یا شدید۔

ماڈرنا کا کہنا ہے کہ وہ کووِڈ کی ویکسین کی اگل نسل تیار کررہی ہے جو ممکنہ طور پر زیادہ طاقت ور، طویل عرصے تک پائیداری اور شیلف لائف میں اضافہ کرتی ہے۔ کمپنی نے ایک ای میل میں کہا کہ اس کی اس کی نئی ویکسین پہلے ہی کلینیکل جانچ کی جارہی ہے۔

چیف سائنٹفک آفیسر میکائل ڈولسٹن نے بلوم برگ کو ایک انٹرویومیں بتایا کہ فائزر کا مقصد شدید کووڈ اور نئی اقسام کے خلاف تحفظ کی پائیداری کو بڑھانے کے لیے نئی ٹیکنالوجی کو بروئے کارلاناہے۔

جولائی کے آخر میں فائزراور بائیواین ٹیک نے نئے شاٹس کی جانچ شروع کی تھی۔ یہ ایک ہی وقت میں متعدد تناؤ سے لڑتے ہیں۔ یہ طویل عرصے تک قائم رہنے والے مدافعتی ردعمل پیدا کرنے میں نئی حکمت عملی کا آغاز ہے۔

فائزر مدافعتی ٹی خلیوں کے ردعمل کو بڑھانے پر بھی کام کر رہی ہے جوکووِڈ کے شدیدکیسوں کی صورت میں تحفظ کے لیے اہم ہیں۔اس کے علاوہ کمپنی ویکسین کے نئے ورژن کی تیاری میں درکار وقت کو تین سے کم کرکے دو ماہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں