غذا، طرزِزندگی کےانتخاب کی وجہ سے جی سی سی ممالک میں بانجھ پن میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

ایک حالیہ تحقیق کے مطابق سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اورخلیج تعاون کونسل(جی سی سی) میں شامل دوسرے ممالک میں بانجھ پن کی شرح میں اضافہ ہورہا ہےاوریہ عالمی اوسط سے دُگنا ہے، ماہرین نے اس ضمن میں طرززندگی کے انتخاب، غذائی عادات اور غیر تشخیص شدہ طبی حالات کے رجحان کی نشان دہی کی ہے۔

اے آر ٹی فرٹیلٹی کلینک نے، جس کے جی سی سی بھر میں طبی مراکزہیں،بانجھ پن کی بڑھتی ہوئی شرح کے پیش نظرپورے خطے میں گہری تحقیق کی۔اس کے اعدادوشمار سے پتاچلتا ہے کہ اگرچہ بانجھ پن کے عالمی تخمینے قریباً 15 فصد ہیں لیکن جی سی سی میں اس کی شرح 35 سے 40 فی صد تک زیادہ ہے۔

اے آرٹی فرٹیلٹی دبئی کے کلینک کے میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹرکیرول کوفلان نے العربیہ کو بتایا کہ ’’ہم اپنے خطے میں بنیادی اورثانوی بانجھ پن میں مسلسل اوپر کی طرف رجحان دیکھ رہے ہیں جس کی وجہ جزوی طورپرثقافتی اور طرز زندگی سے متعلق مسائل ہیں۔ اس کلینک کی تحقیق سے پتاچلا ہے کہ جی سی سی کے مخصوص خطے میں اضافی عوامل موجود ہیں جو بانجھ پن کی شرح میں اضافے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’اس تحقیق میں بانجھ جوڑوں کی موجودہ معیاری تشخیص میں خطے کے لیے مخصوص مشاورت اورعلاج کے طریقوں کو شامل کرنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی گئی ہے‘‘۔

ڈاکٹر کوفلان نے بتایا کہ عالمی سطح پر موٹاپے میں اضافہ ہورہا ہے اور مشرق اوسط کے خطے میں تو موٹاپے کی شرح میں انتہائی زیادہ اضافہ ہورہا ہے۔اس کی وجہ سست طرزِزندگی، جسمانی ورزش کی کمی اور زیادہ کیلوری والی غذائیں ہیں۔یہ موٹاپے کی شرح میں عام معاون عوامل ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ بلند باڈی ماس انڈیکس (بی ایم آئی) ہارمون کی بے ضابطگیوں اور بیضوی خرابی کا سبب بن رہا ہے اور نتیجۃً بانجھ پن کاخطرہ بھی بڑھ رہا ہے۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ طبی ماہرین کو لوگوں کے طرزِ زندگی کے عوامل پرغورکرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ علاج کی کامیابی کو بری طرح متاثر کرسکتے ہیں لیکن حمل کی شرح کو بڑھانے اور مشرق اوسط کی آبادی کی مجموعی صحت اور بہبود کو بہتر بنانے کے لیے اس میں ترمیم کی جاسکتی ہے۔

ڈاکٹر کوفلان کے نزدیک عالمی سطح پر بانجھ پن کی بہت سی وجوہات ہیں۔ان میں زچگی کی عمر میں اضافہ، پولی سسٹک اووری سینڈروم، انڈومیٹریوسیس، یوٹرن فائبرائیڈز اور اکثر کم رپورٹ کیے جانے والے مردانہ عوامل بھی شامل ہیں۔

ان کی رائے میں بعض عوامل ہر ملک میں مختلف ہو سکتے ہیں اور ان کا تعلق آب و ہوا، سماجی، ثقافتی، معاشی یا مذہبی تفاوت سے ہوسکتا ہے۔ یہ ضروری ہے کہ ہر معاملے کا انفرادی طور پر جائزہ لیا جائے اور انفرادی تقاضوں کے مطابق مناسب علاج تجویز کیا جائے۔

مزید آگہی کی ضرورت

اے آر ٹی فرٹیلٹی کلینکس گروپ کے میڈیکل ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹرحومن فاطمی نے العربیہ کو بتایا کہ بانجھ پن کے بارے میں کافی بات نہیں کی جاتی اور اس معاملے کے بارے میں محدود آگاہی ہے۔

اس ضمن میں اے آر ٹی فرٹیلٹی گروپ ڈاکٹروں اور مریضوں دونوں کو اس خطے میں بانجھ پن کی شرح میں اضافے کے کیسوں میں معاون بہت سے عوامل سے آگاہ کرنے کے لیے تعلیمی کانفرنسیں اوراجلاس منعقد کرتا ہے۔ ایک گروپ کی حیثیت سے وہ صحت کے خطرات کے بارے میں عوامی آگاہی بڑھانے کے لیے اپنے علم اورتحقیق کے نتائج کو بانٹنے کی ذمہ داری محسوس کرتے ہیں جن سے وہ بے نقاب ہوتے ہیں اورصحیح اقدامات کے ساتھ ان کی روک تھام کی جاسکتی ہے۔

ابوظبی کے الریم جزیرے میں واقع برجیل ڈے سرجری سنٹرمیں زچگی اور گائناکالوجی کی ماہر اور شعبہ کی سربراہ ڈاکٹرمونیکاچوہان نے بھی شرح تولید میں کمی دیکھی ہے۔

انھوں نے کہا کہ کچھ حالیہ مطالعات اوراعدادوشمار کے مطابق متحدہ عرب امارات میں شرح تولید میں کمی کا رجحان ہے جس کی وجہ موٹاپے اور طرز زندگی کے انتخاب جیسی مختلف وجوہات ہیں۔ان میں سست طرزِزندگی اورمضر صحت غذائی عادات شامل ہیں۔

انھوں نے مزید کہا:’’مطالعات سے پتاچلتا ہے کہ ان مسائل کی وجہ سے پورے جی سی سی خطے میں بانجھ پن کا مسئلہ بڑھ رہا ہے۔لیکن بانجھ پن کا شکار جوڑوں کی بڑی تعداد اپنے مسائل کا حل چاہتی ہے اور اس ضمن میں رہ نمائی کی خواہاں ہے‘‘۔

شرح تولید میں کمی کا مسئلہ آفاقی ہے اورعام عوامل کی طرف اشارہ کرتا ہے جیسے شادی اور بچے پیدا کرنے میں تاخیر کے ساتھ ساتھ غیر صحت مند طرز زندگی اورغذائی عادات اپنانا وغیرہ۔

اسی کلینک کے گائناکولوجسٹ سرجن ڈاکٹرسندیش کڈے نے واضح کیا کہ بانجھ پن کو مرد اور عورت دونوں کے مسئلے کے طور پر دیکھا جائے۔بانجھ پن کے علاج کے لیے سب سے پہلے مرد اورخواتین کے عوامل کی نشان دہی کی جانی چاہیے۔ مسئلے کی جلد شناخت کے بعد اسے طب/جراحی کے ذریعے درست کیا جا سکتا ہے۔کڈے نے مزید کہا کہ حاملہ ہونے کے خواہاں جوڑوں کے لیے جدیدٹیکنالوجیزدستیاب ہیں اس لیے مناسب مشاورت، ماہرین کی جانب سے جلد گہرائی سے تشخیص اور اس کی وجہ کی شناخت کی اشد ضرورت ہے تاکہ جوڑے کے علاج کی جلد منصوبہ بندی کی جا سکے۔

ڈاکٹر نے کہا کہ ہارمونل عدم توازن کے لیے طبی انتظام اور یوٹرین، ٹیوبل اور بیضوی مسائل کے لیے سرجیکل مینجمنٹ عام طور پر جوڑوں کو حاملہ ہونے میں مدد کر سکتی ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ پولی سسٹک بیضہ دانی اور انڈومیٹریوسیس کے ارتقائی مسائل کو بھی مناسب دیکھ بھال اور انتظام کی ضرورت ہے۔

متحدہ عرب امارات کے ایم بی زیڈ سٹی کے برین انٹرنیشنل اسپتال میں زچگی اور گائناکالوجی کی ماہر ڈاکٹرنظوراصدیقی نے بھی تصدیق کی ہےکہ جی سی سی ممالک میں شرح تولیدمیں مجموعی طور پرکمی آئی ہے۔یہ کم شرح بنیادی طور پر معاشی عوامل کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ خواتین کی دیرسے شادیوں کی وجہ سے ہے،خواتین زیادہ تعلیم یافتہ اورکیریئرکے انتخاب کی وجہ سے اپنی شادی ملتوی کررہی ہیں اور پہلی بار دیر سے بچے کو جنم دینے کو ترجیح دیتی ہیں۔ یہ تمام عوامل حمل میں دشواری کا باعث بنتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ شرح تولید کی کم شرح کی دیگر وجوہات میں ماحولیاتی عوامل میں تبدیلی، فاسٹ فوڈ کا بڑھتا ہوااستعمال، ذیابیطس کے بڑھتے ہوئے کیس، موٹاپا اور پولی سسٹک بیضہ دانی شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں