شام کی ’سنہری فصل‘ اپنی کھوئی چمک بحالی کے لیے سرگرداں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

کئی برسوں پر محیط جنگ کے بعد پستے کے درخت اگانے والے شامی کسان ایک مرتبہ پھر اپنی قیمتی فصل کو ہرا بھرا دیکھنے کے لیے پر امید ہیں۔ ان کی امیدوں کو جھلسے ہوئے درختوں اور موسمیاتی تبدیلیوں کی تباہ کاریوں نے چکنا چور کر دیا تھا۔

شام میں پستے کے درخت کو’’غریب سرزمین میں سنہری درخت‘‘ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہ تعبیر طویل عرصے سے پھل کی شرق اوسط اور یورپ برآمد کے حوالے سے اس کی قدر وقیمت کا پتہ دیتی ہے۔ بادامی قرمزی رنگ کے گری دار میووں کے کچھوں سے لدے پھدے درختوں سے پھل موسم گرما میں اتارا جاتا ہے۔

شامی شہر معان کے جنوبی مغربی گاؤں کے قریب رہنے والے ایک کسان نایف ابراہیم نے بتایا “کہ جنگ سے پہلے ہم پستے کی جتنی فصل حاصل کرتے تھے، اب اس کا بہ مشکل ایک چوتھائی حصہ حاصل کر رہے ہیں۔”

دو ہزار گیارہ شروع ہونے والے تنازعہ کے بعد جب یہ علاقہ شورش کا خط اول بنا تو ابراہیم اور ان کے اہل خانہ اس وقت اپنے کھیتوں سے نقل مکانی کر گئے۔ دو ہزار انیس میں حکومتی فورسز نے اپوزیشن کو یہاں سے نکالا تو اس کے بعد ابراہیم اور اہل خانہ نے علاقے میں واپس لوٹ آئے۔

ابراہیم نے بتایا ’’کہ تنازع کے دوران پستے کے درخت انہیں جلے اور کٹے ہوئے ملے ۔ اور نئے لگائے جانے والے پستے کے درختوں پر 12 سال بعد پھل آئے گا۔‘‘
برطانوی خبر رساں ادارے ’رائیٹرز‘ سے بات کرتے ہوئے ابراہیم کا کہنا تھا: ’’بارش کی کمی، مجموعی موسمیاتی تبدیلی اور کسانوں کو درکار بنیادی لوازمہ کی فراہمی میں سست روی کی وجہ سے ہماری کاشتکاری کو کامیابی کی منزل تک پہنچنے میں زیادہ وقت لگنے کا امکان ہے۔‘‘

انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی ایڈ گروپ کے مطابق 2021 میں شام کو 70 سالوں میں تاریخ کی بدترین خشک سالی کا سامنا کرنا پڑا جس سے ملک بھر میں فصلوں کو سخت نقصان پہنچا۔

ابراہیم کے تخمینے کے مطابق اس کے کھیتوں میں گذشتہ برسوں کے مقابلے میں نصف بارش ہوئی، لیکن ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے کھیتوں کو پانی دینے کے متبادل ذرائع فی الحال اس کے پاس میسر نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ’’زرخیز زمین اس کی پیداوار بڑھا سکتی ہے، جو فی الوقت مہنگی ہونے کی وجہ سے اس کی دسترس سے باہر ہے۔‘‘ ’’مجھے کھاد چایئے، جو میرے پاس نہیں۔ مجھے پانی درکار ہے، وہ بھی میسر نہیں‘‘

فجر کے وقت چنائی

کھیتی باڑی کے لئے ایندھن، کھاد اور دیگر بنیادی لوازمہ مغربی دنیا کی شام پر گذشتہ دس برسوں سے عاید پابندیوں کی وجہ سے درآمد نہیں کیا جا سکتا۔ نیز مقامی کرنسی کی ڈالر کے مقابلے میں گرتی ہوئی قدر اور اب حالیہ یوکرین کے حالیہ تنازع کے باعث اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں۔

دو ہزار گیارہ میں شامی حکومت کی طرف سے حزب اختلاف کو کچلنے کے لیے طاقت کے بے دریغ استعمال اور بڑے پیمانے پر کی جانے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی پاداش میں مغربی دنیا نے شامی حکومت کے خلاف سخت پابندیاں عاید کر رکھی ہیں، تاہم کئی شامیوں کی رائے میں ان اقدامات نے عام شامیوں کی زندگی کو زیادہ اجیرن بنایا۔

ابراہیم نے ’رائیٹرز‘ کو بتایا کہ اقتصادی پابندیوں کے باعث کیڑے مار ادویہ کا حصول ایک کار دارد بن گیا ہے۔‘‘

چند کسانوں نے پستے کے ایک باغ میں سولر پینلز لگا کر شمسی توانائی کے ذریعے کھیتوں کو سیراب کرنے کی کوشش کی ہے۔

گری دار میوے کی چنائی طلوع اور غروب آفتاب کے وقت کی جاتی ہے- اس وقت پستے کا خول فطری طور پر کھلتا ہے اس سے چٹکنے کی آواز پیدا ہوتی جسے سن کر کسانوں کو پکے ہوئے پستے کو درختوں سے اتارنے میں مدد ملتی ہے۔

اتارے گئے پھل کو مشینوں میں ڈالا جاتا ہے جو انہیں چھیل کر سائز کے اعتباز سے الگ کرتی ہیں۔ اس کے بعد انہیں پچاس کلوگرام حجم کے تھیلوں میں ڈالا جاتا ہے جن پر ’’حلب پستہ‘‘ کے لیبل چسپاں کیے جاتے ہیں۔ اس نام کو مشرق وسطیٰ کے طول وعرض میں پہنچانا جاتا ہے۔

تازہ اتارے گئے پستے کا ایک گھچہ ہاتھوں میں لئے کسان یوسف ابراہیم نے کہا کہ انہیں اس کی گری دیکھ کر مایوسی ہوئی۔ ’’مناسب آبپاشی ہوتی تو پستے کی گری اس سے زیادہ بڑی بننی تھی۔‘‘

تقریباً تمام ہی شامی کسان ایسے ہی مسائل سے نبرد آزما ہیں۔ غیر معیاری گندم کی فصل سے متعلق تخمینوں نے ملک میں خوراک سپلائی سے متعلق تشویش بڑھا دی ہے۔ یہ تشویش ایک ایسے ملک میں اور بھی پریشان کن ہے کہ جس کے بارے میں اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ 2011 کے بعد سے شامیوں کو سب سے زیادہ فوڈ سپلائی کی ضرورت ہے۔

وزارت زراعت کے ایک اہلکار جہاد محمد نے بتایا کہ پستے کاشت کو پہنچنے والے نقصان کی بڑی وجہ یہ ہے کہ جن علاقوں میں یہ پیدا ہوتا ہے وہ جنگ سے بری طرح متاثر ہوئے اور بڑی تعداد میں درخت کاٹے گئے۔

اس سب کے باوجود، بہ قول جہاد محمد، شامی پستے کی سعودی عرب، مصر، اردن اور لبنان کی منڈیوں میں فروخت کے لئے برآمد کا سلسلہ جاری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں