ایران جوہری معاہدہ

امریکہ کی ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی امید بڑھ گئی

چند ہفتے پہلے مذاکرات جس سطح پر تھے اس سے آگے آئے ہیں: جان کربی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکہ کی جو بائیڈن انتظامیہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے بارے میں امید پہلے سے نسبتا بڑھی ہوئی ظاہر کی ہے۔ تاکہ 2015 والا جوہری معاہدہ بحال کیا جا سکے۔ امریکی قومی سلامتی کے ترجمان جان کربی کا کہنا ہے کہ یہ امید کا معاملہ ضروری نہیں کہ اسی طرح اس پر قائم رہا جائے۔ اس کے لیے بہر حال ایک ڈیڈ لائن ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن کا حوالہ دیتے ہوئے جان کربی نے کہا صدر جو بائیڈن کہہ چکے ہیں کہ' ہم ایک معاہدہ کرنا چاہتے ہیں اور ہم یہ معاہدہ سفارتی طریقے سے چاہتے ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اس کے لیے ہمیشہ کھڑے نہیں رہ سکتے۔ اس لیے ہم توقع کرتے ہیں وہ اس طرف تیزی سے بڑھیں گے تاکہ پیش رفت ہو سکے'۔

واضح رہے امریکہ اور ایران بالواسطہ طور پر اس جوہری معاہدے کے لیے کافی دیر سے مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اب تک مذاکراتی عمل کے 500 دن مکمل ہو چکے ہیں۔ ایران کی حکمت عملی معاملے کو زیادہ سے زیادہ لٹکانے کی ہے۔ اس لیے مہینوں سے مذاکراتی عمل کو لمبا کر رہا ہے۔ جبکہ فریقین سے اس بارے میں ایک متعین 'ٹائم فریم' کے لیے پوچھا جاتا ہے۔ جس کے جواب میں دونوں ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہراتی ہیں۔

جان کربی نے ' العربیہ ' کے ساتھ اپنے انٹرویو کے دوراان اس بارے میں سوال پر کہا 'یہ کسی بھی فریق کے لیے مناسب نہیں ہو گا کہ وہ فوری طور پر کوئی متعین تاریخ دے۔' البتہ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ جتنا ہم معاہدے کے آج قریب ہیں دو ہفتے پہلے اس قدر قریب نہیں تھے۔ جان کربی اس موقع پر ایران کی طرف سے بعض غیر حقیقت پسندانہ اور غیر متعلقہ مطالبات سے دستبرداری پر آمادگی کا بھی بتایا۔ '

دوسری جانب ایران نے واشنگٹن کے رد عمل میں کہا ہے 'یورپی یونین نے اس سے پہلے کہہ چکی ہے کہ یہ معاہدے کا حتمی مسودہ ہے۔ امریکی اہلکار نے اس پر فوری طور پر مایوسی ظاہر کی اور ' ایران کا انداز تعمیری نہیں' ۔

امریکی ترجمان برائے قومی سلامی انیڈرین واٹسن نے اپنے ایک جاری کردہ بیان میں یہ بھی کہا 'یہ مذاکرات ہیں ان میں پس و پیش ہوتی رہتی ہے۔' اس لیے ہم ان مذاکرات پر پبلک میں بات نہیں کریں گے۔ حالیہ ہفتوں میں کئی خلا دور کیے گئے ہیں لیکن ابھی کچھ باقی ہیں۔ '

جان کربی نے اس بارے میں ’’العربیہ‘‘ کو انٹرویو میں ایران کےساتھ معاہدے کا دفاع کرتے ہوئے کہا 'ایک ممکنہ معاہدے کے تحت ہی ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی کی جائے گی۔' اس سلسلے میں سامنے آنے والی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہا گیا ہے' پابندیاں اٹھنے کی صورت میں ایران کو 100 ارب ڈالر ملیں گے۔

ان رپورٹس کی بنیاد پر ناقدین کا کہنا ہے کہ ایران اس رقم کو ایرانی عوام اور انفراسٹرکچر پر خرچ نہیں کرے گا۔ جان کربی نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ' اقتصادی پابندیوں میں نرمی اس معاہدے کا حصہ ہوں گی ، جبکہ معاہدے کی وجہ سے ایران جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا۔ '

جان کربی نے مزید کہا 'معاہدے کی صورت میں پابندیاں اٹھیں گی اس کے بعد یہ ایران کا فیصلہ ہو گا کہ وہ اس رقم کو خطے کو غیر محفوظ رکھنے پر ہی خرچ کرتا ہے یا دہشت گردوں کی مدد کے لیے خرچ کرتا ہے۔ وہ جو بھی کرے گا امریکہ اور اس کے اتحادی بھی ادھر ہی موجود ہیں اور ہم سارے حوالوں سے اپنی آپشنز کو کھلا رکھیں گے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں