ایران جوہری معاہدہ

ایران ،امریکا مجوزہ جوہری معاہدہ؛لبنان کی حزب اللہ نقدرقوم کے ساتھ اورمضبوط ہوگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

عالمی طاقتوں اور بنیادی طورپرامریکا،ایران کے درمیان 2015 میں طے شدہ مگراب متروک جوہری معاہدے کے ناقدین اس کی کمزورشقوں کا اکثرحوالہ دیتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ ایران کو جوہری ہتھیارحاصل کرنے کی صلاحیت سے روکنے میں ناکام رہا ہے۔

اب اس معاہدے کی بحالی کے لیے مجوزہ نئے سمجھوتے پر بھی ناقدین اپنے ان خدشات کا اظہار کررہے ہیں کہ اس صورت میں ملنے والی رقوم کو ایران اپنے لوگوں خرچ کرے گا اور نہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں سرمایہ کاری کرے گا بلکہ خطے میں پھیلے اپنے آلہ کاروں اور ملیشیاؤں کونقد رقوم مہیا کرے گا۔

امریکی محکمہ خارجہ نے 2020 میں کہا تھا کہ ایران حزب اللہ کوقریباً 70 کروڑڈالر سالانہ مہیا کر رہا ہے۔ایک نئی رپورٹ سے پتاچلتا ہے کہ ایران کو نئے معاہدے کے تحت 275 ارب ڈالر اور 2030 تک دس کھرب ڈالر سے زیادہ مالیت کی پابندیوں سے نجات ملے گی۔

واشنگٹن میں قائم فاؤنڈیشن برائے دفاع جمہوریت (ایف ڈی ڈی) نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں خطرے کی گھنٹی بجادی ہے اوراس میں لکھا ہے کہ ایران کے نئے فنڈز کا ایک اہم حصہ لبنان کی ملیشیا حزب اللہ کو جائے گا۔

ایف ڈی ڈی نے 2015 میں طے شدہ مشترکہ جامع لائحہ عمل (جے سی پی او اے)کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ایران کے فوجی بجٹ میں 90 فی صد اضافہ ہوا تھاجس سے ایرانی حکومت کو حزب اللہ سمیت اپنے علاقائی آلہ کاروں پراربوں ڈالر نچھاور کرنے کا موقع ملا تھا۔

بائیڈن انتظامیہ کے حکام نے ایران کے ساتھ کسی نئے معاہدے تک پہنچنے کی کوششوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے بغیر مشرق اوسط کے مسائل حل کرنا آسان نہیں ہوگا۔موجودہ انتظامیہ کے تحت امریکی حکام نے پہلے کہا تھا کہ وہ اصل معاہدے سے زیادہ طویل اورمضبوط معاہدہ طے کرنے کے خواہاں ہیں۔تاہم حالیہ اطلاعات کے مطابق اب زیر بحث متن اور2015 کے ابتدائی معاہدے میں بہت کم فرق ظاہرکیا گیا ہے۔

مجوزہ متن میں جوہری ہتھیاروں کی تیاری کی جانب ایران کے کام کوسبزی جھنڈی دکھائی گئی ہے ۔اس کے علاوہ یہ موجودہ بات چیت علاقائی آلہ کاروں اور دہشت گرد گروہوں کے لیے ایران کی حمایت اور اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام سے نمٹنے میں بھی ناکام ہے۔

حزب اللہ کے بارے میں اب اندازہ لگایاجارہا ہے کہ اس کے پاس ایک ایسی فوج ہے جوکئی یورپی ممالک کی افواج کے برابر ہے۔ایف ڈی ڈی میں تحقیق کے سینئرنائب صدرجوناتھن شنزر نے کہا کہ یہ گروپ اب تہران کی مدد سے ہدف کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنانے والا اسلحہ بھی جمع کر رہا ہے۔انھوں نے کہا کہ ’’عالمی برادری بڑے پیمانے پرہتھیاروں کی تیاری کے ساتھ کھڑی ہے اور دیکھ رہی ہے۔ یہ خطے کے استحکام کے لیے ایک اہم خطرہ ہے‘‘۔

حزب اللہ کے حکام اور حامی اس سے قبل جوہری معاہدہ طے پانے سے متعلق اپنی خواہش کی تشہیر کر چکے ہیں کیونکہ اس سے اس شیعہ ملیشیا پر بین الاقوامی دباؤ کم ہوگا۔

سنہ 2015 میں حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ نے کہاتھا کہ ان کے گروپ کے ایران کے ساتھ تعلقات ’’نظریاتی بنیادوں پراستوار ہیں اور وہ سیاسی مفادات سے مقدم ہیں‘‘۔اس سے ایران کے حزب اللہ کی حمایت سے خود کو دور رکھنے اور کنارہ کشی اختیار کرنے کا کوئی جواز نہیں رہ گیا تھا۔

ایف ڈی ڈی کے ایک فیلو ٹونی بدران کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک نئے جوہری معاہدے سے حاصل ہونے والی نقد رقم حزب اللہ کو اپنے اسلحہ کے ذخائر میں اضافہ کرنے کے قابل بنائے گی۔بالخصوص وہ درست رہ نمائی اور ٹھیک ٹھیک نشانہ بنانے والے ہتھیار اور بغیرانسان بردار فضائی گاڑیاں حاصل کرے گی۔

ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کے پاس ایک لاکھ مسلح جنگجو، ایک بحری یونٹ، ڈرون، ہزاروں درست گائیڈڈ میزائل ، راکٹ اور فضائی دفاعی میزائل نظام ہے اور اس کو اس اسلحہ اور فوجی سازوسامان پر فخربھی ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک عہدہ دار نے کہاکہ اگرایران اپنی آلہ کاروں تنظیموں اوردہشت گردوں کی مدد کے لیے نئے جوہری معاہدے کےنتیجے میں ملنے والی رقم استعمال کرنے کا انتخاب کرتاہے توامریکا کے پاس ایران سے نمٹنے کے اور بھی’’راستے‘‘ہیں۔

امریکاکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نےالعربیہ کوبتایا کہ اگرایران اس رقم کو خطے کوغیرمحفوظ بنانے کے لیے استعمال کرنے کا انتخاب کرتا ہے تو امریکا اورہمارے اتحادیوں اور شراکت داروں کے پاس اس سے نمٹنے کے مختلف راستے دستیاب ہیں اور ہم ایسا کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں