مغربی جنگوں کے ناموں نے لڑائی کی ہولناکی پر ظرافت کا کیسے پردہ ڈالا؟

’جینکن کے کان‘ سے لیکر ’گلدستہ‘، ’بالٹی‘ اور ’عالمی میراتھن‘ جیسی جنگوں کے پیچھے چھپی دلچسپ داستانیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

ضرب المثل کی حیثیت اختیار کرنے والے ایک جملے میں اس رائے کا برملہ اظہار کیا جاتا ہے "کہ جنگوں کا کبھی کوئی فائدہ نہیں ہوا۔"

موسیقی کے بینڈ "بیٹلز" میں اپنی شاعری اور آواز کے جوہر دکھانے والے جان لینن نے بھی ایسا ہی خواب دیکھا تھا "کہ اگر دنیا سے دنگا فساد ختم ہو جائے تو راوی ہر سو چین ہی چین لکھے گا۔"

لیکن صاحب رکیئے! جان لینن کا خواب پورا ہو جاتا تو دنیا کو عجیب وغریب ناموں سے یاد کی جانے والی دسیوں جنگوں اور ان وابستہ دلچسپ کہانیوں سے محروم ہونا پڑتا۔

جینکن کے کان

دنیا امن وآتشی کا گہوارہ رہتی تو ہمیں برطانیہ اور سپین کی 1739 سے لیکر 1748 تک چلنے والی جنگ ’’جینکن کے کان‘‘ سے آشنائی نہ ہوتی۔ اس جنگ کو یہ نام طنزیہ مضامین کے لکھاری تھامس کارلائل نے دیا تھا۔

اس نام کی وجہ تسمیہ یہ تھی کہ سپین کے کوسٹ گارڈز نے ویسٹ انڈیز کے کیپٹن رابرٹ جینکن کے تجارتی بحری جہاز ’’ریبیکا‘‘ پر چڑھائی کر دی تھی۔ لوٹ مار کی اور اس کے ملاحوں کو قتل کر دیا، پھر انہوں نے کیپٹن جینکن کے کان کاٹ لئے۔

کیپٹن جینکن نے اپنا کٹا ہوا کان برطانوی پارلیمان کے سامنے سرکہ سے بھرے مرتبان میں رکھ کر پیش کیا، جس کا مقصد ویسٹ انڈیز میں ہسپانیوں کے مظالم کی گواہی پیش کرنا تھا۔ اس عمل نے ارکان پارلیمان کے غضب کو آواز دی اور انہوں نے طبل جنگ بجانے میں دیر نہ لگائی۔ اس کے بعد دسیوں برس جنگ جاری رہی اور بعد میں اس جنگ میں فرانس اور پرتگال بھی کود پڑے۔

بالٹی کی جنگ

بلوط کے درخت سے بنی ہوئی بالٹی پر ایک دوسری خوفناک جنگ کا نام رکھ دیا گیا۔ یہ جنگ تو قرون وسطی میں ہی ختم ہو چکی مگر اٹلی کے موڈینا شہر میں لکڑی کی یہ بالٹی آج بھی نمائش کیلئے موجود ہے۔

گرجا گھر کے حکام کے درمیان تقسیم شدت اختیار کر گئی تھی جو اٹلی کے شہر موڈینا کے قریب بولونیا میں مقیم تھے۔ اسی مقام پر رومن شہنشاہ بھی رہتے تھے۔

سنہ 1325 میں بولونیا کے فوجیوں نے موڈینا پر حملہ کیا اور لکڑی کی بالٹی میں گرجا گھر کا خزانہ لے اڑے تھے۔ اس بالٹی اور اس میں موجود مقدس خزانے کو واپس لینے کیلئے 15 نومبر 1325 میں جنگ "بالٹی" اس وقت لڑی گئی جب دو فوجیں ایک دوسرے کے سامنے آئیں اور یہ جنگ گرجا گھر کے سامنے رومن شہنشاہوں کی جیت پر ختم ہوئی۔ اس معرکہ نے یورپ کے حالات بدل کر رکھ دئیے جس کے بعد گرجا گھر کا کردار کم ہو گیا۔

گلابوں کی جنگ

جنوبی امریکہ میں "ازٹیک" قوم نے گلابوں کی جنگ بھی لڑی۔ سنہ 1450 اور 1454 کے درمیان لڑی جانے والی یہ جنگ اس اعتبار سے خونی اور باعث مذاق بھی تھی کہ اس میں خاندانوں کا کھیل کھیلا گیا تھا جس میں دونوں طرف کے بچے کھیل رہے تھے۔

ازٹیک جنگ دو قبیلوں کے درمیان تھی۔ اس میں خشکی کے خدا کیلئے جانوں کی قربانی دینے کی جنگ تھی، ہر قبیلہ مخالف قبیلے کے زیادہ سے زیادہ افراد کو پکڑنے کی تگ و دو میں تھا۔ اس جنگ میں دونوں طرف سے عام جنگوں والا خوف نہیں پایا جا رہا تھا کیونکہ پکڑے جانے والے افراد کی قربانی خدا کیلئے کی جا رہی تھی۔

خوشگوار جنگ

اہل پرتگال نے سپین کے ساتھ ایک ’’حیران کن جنگ‘‘ بھی لڑی۔ یہ 1762 میں اس وقت لڑی گئی جب سپین نے غیر جانبدار پرتگالیوں پر حملہ کر دیا۔ تام دشوار گزار پہاڑی علاقہ نے اس جنگ کو انتہائی مشکل بنا دیا اور سپین کی فوج کی بڑی تعداد بھی جنگ میں مشکلات کا ایک سبب بن گیا۔ اس طرح پرتگالیوں نے اس مختصر جنگ جس میں زیادہ جانی نقصان نہ ہوا کو ’’خوشگوار جنگ‘‘ کا نام دے دیا۔

عالمی میراتھن ریس

قدیم جنگوں پر نظر دوڑائیں تو ہمیں ایک جنگ یونان اور فارس کے درمیان "معرکہ میراتھن" کے نام سے ملتی ہے۔ اسی جنگ کی وجہ سے 42 کلومیٹر طویل عالمی دوڑ کو میراتھن کا نام دیا گیا۔ اس جنگ میں ایک یونانی فوجی میدان جنگ سے فتح کی خبر دارالحکومت ایتھنز تک بلا توقف دوڑتے ہوئے دینے پہنچا۔

بڑے واقعات

امریکی میگزین ’’ہسٹری‘‘ کی ویب گاہ پر "بعض خانہ جنگیوں کو دو ناموں سے کیوں موسوم کیا جاتا ہے‘‘ کے عنوان سے چھپنے والی تحقیق میں باربرا مارنزانی سوال کرتے ہیں ایٹیٹام یا شامس برگ؟ معرکہ ماناسس یا بل رن؟

لکھاری کا ماننا ہے کہ اکثر امریکی سمجھتے ہیں کہ سول وار کے شمال اور جنوب میں ہونے کے باعث ان جنگوں کو ان مقامات کا نام دے دیا جاتا ہے۔ یہ اس لئے ہیں کہ شمال کی نچلے علاقوں کے شہری اور تمدنی علاقوں کے فوجی پہاڑوں، چوٹیوں، نہروں اور جنوب کی ندیوں سے واقف نہیں ہوتے۔ لہذا انہوں نے کئی جنگوں کو مظاہر قدرت کے ممتاز نام دے دئیے۔

دوسری طرف جنوبی علاقوں کے فوجی ان جنگوں کو ان کے مقامات سے پہچانتے تھے۔ اسی وجہ سے ایک ہی جنگ کے مختلف نام معروف ہو گئے۔

بوسٹن یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات اور تاریخ کے پروفیسر اینڈریو جے بیسویچ نے ’’اعتماد کے بحران‘‘ نامی کتاب میں تذکرہ کیا ہے کہ امریکہ نے اپنے فوجیوں اور ملک کو دنیا بھر میں بے فائدہ جنگیں لڑ کر کیسے ہزیمت کا شکار کیا ہے؟ وہ سوال کرتے ہیں کہ امریکہ نصف صدی سے حالت جنگ میں ہے کیا اس طویل جنگ کو کوئی نام دیا جا سکتا ہے۔

بیسیوچ نے کہا 11 ستمبر 2001 کی جنگ کے آغاز میں نیو کنزر ویٹیو حلقوں نے اس جنگ کو چوتھی عالمی جنگ قرار دینا شروع کر دیا تھا، تاہم 2009 میں صدر بننے کے بعد اوباما نے دنیا کے امن کے نعروں کی آڑ میں اس نام کو متروک کردیا۔

اس طرح نام بدلنے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ جنگ رک گئی ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتا کہ اس جنگ کو بغیر کسی تعریف کے کوئی بھی نام دیا جا سکتا ہے، اسی ضمن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ڈیموکریٹس جنگ کا تذکرہ نہ کرکے یا جنگ کو کوئی معین نام دے کر یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں گویا یہ جنگ ہوئی ہی نہیں۔

جنگ کے مجہول نام کی اہمیت

محقق سوال کرتے ہیں کہ ’’کیا جنگ کا نام مجہول رہنے کی کوئی اہمیت ہے؟‘‘ وہ پھر اس کا ہاں میں جواب دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ظاہر کے کوئی بھی اسم فعل کے معنی میں اضافہ کرتا ہے اور جب یہ معاملہ جنگ کا ہو تو جنگ کا نام تاریخ کے ساتھ بھی جڑا ہوتا ہے۔

تو عین ممکن ہے کہ کسی تاریخ سے ملا ہوا نام جنگ کیوں ہوئی سے متعلق ہمارے فہم کو خاص شکل دے دے اور جنگ کے آغاز اور اختتام کی تاریخ پر توجہ مبذول کرا دے لیکن اسی دوران جنگ کے شعلے بڑھکانے والے اسباب کو نگاہوں سے اوجھل کرنے کا سبب بن جائے۔

بیسیوچ اور اشتہار اور پراپیگنڈا کے میدان کے دیگر محققین کا خیال ہے کہ ایک لفظ کا چناؤ خریداروں کو متعین نتیجہ کی طرف لے جاتا ہے۔ پس ایڈ دینے میں لفظ کی تاثیر ہے تو اسی طرح جنگ میں بھی لفظ اپنی تاثیر رکھتا ہے۔

مثال کے طور پر جب ہم امریکہ اور سویت یونین کی جنگ کو "ویتنام وار" کا نام دیتے ہیں تو اس جنگ کی تاثر تبدیل ہو جاتی ہے۔ پہلا نام ہمیں ویتنام کے گھنے جنگلوں، تباہ شدہ دیہات اور بے گھر مہاجرین کی طرف لے جاتا ہے یا ہم امریکی فوجیوں کو نفرت سے دیکھتے ہیں اور ان کو برا بھلا کہتے ہیں۔

ادھر دوسرا نام ہمارے خیالات کو امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان حقیقی جنگ کے تصور تک جانے سے روک دیتا ہے کیونکہ اسے سرد جنگ کا نام دیا گیا ہے جبکہ ویت نام کی جنگ تو گرم تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں