ہاتھ باندھنے کے انداز سے ہو جاتے ہیں شخصی اوصاف بھی آشکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

جسمانی لغت کی مطالعوں اور شخصیت کی جانچ کے ٹیسٹوں سے معلوم ہوا ہے کہ بازو باندھنے کے مختلف طریقے کسی شخصیت کے خصائص کا تعین کرنے میں بھی مدد دیتے ہیں۔ جاگرن جوش [JagranJosh] ویب گاہ پر نشر ہونے والی تحقیق میں تو بتایا گیا کہ بازو باندھنے کے طریقے سے کسی کے پیشے کا اندازہ بھی لگایا جا سکتا۔

1 ۔ دایاں بازو بائیں کے اوپر رکھنے والے

اگر کوئی اپنے بازوؤں کو اس طرح باندھتا ہے کہ دائیں بازو کو بائیں پر رکھتا ہے وہ شخص اپنے احساسات اور جذبات کے ساتھ گہری مطابقت رکھتا۔ اس کے جذبات و احساسات مکمل طور پر اس کے قابو میں رہتے ہیں۔ کسی کیلئے بھی اس کے ذہن پر حاوی ہونا آسان نہیں ہوتا۔ یہ عادت دراصل نشاندہی کرتی کہ اس کے دماغ کا بایاں حصہ زیادہ ترقی یافتہ ہے۔ چنانچہ یہ شخص زیادہ محنتی، منطقی اور منظم ہونے کا رجحان رکھتا ہے۔ یہ مسائل کو حل کرنے کیلئے عقلی طریقہ کار استعمال کرنے کا رجحان رکھتا اور نتیجہ پر پہنچنے کیلئے تنقیدی اور محتاط سوچ رکھتا ہے۔

دایاں بازو بائیں کے اوپر رکھنے کا انداز
دایاں بازو بائیں کے اوپر رکھنے کا انداز

دائیں بازو کو بائیں بازو پر رکھنے والا شخص وجدان یا جذبات پر انحصار نہیں کرتا بلکہ منطق کو ترجیح دیتا ہے۔ اس کی ذہانت کا درجہ عام افراد سے زیادہ ہے۔ اسی بنا پر پہیلیاں سلجھانا، ریاضی، سائنس کے مضامین اس کی دلچسپی کا محور ہوتے ہیں۔ یہ شخص زیادہ تر سائنسی تحقیق، بنکنگ اور قانون میں نمایاں نظر آتا ہے۔

2۔ بایاں بازو دائیں کے اوپر رکھنے والے

عام عادت کے طور پر بائیں بازو کو دائیں بازو پر رکھنے والے افراد انتہائی ذہین اور جذباتی ہوتے ہیں۔ کامل علمی مہارتین ان افراد کو تخلیقی، موجد اور بسا اوقات جذباتی ہونے کی طرف مائل کر دیتی ہیں۔ اس عادت سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے دماغ کا دایاں نصف حصہ زیادہ تیز ہے۔ اسی لئے یہ شخص منطق کے بجائے جذبات کے مطابق کام کرتا ہے تاہم فیصلے کرتے وقت منطق کا استعمال کرتا ہے۔

بایاں بازو دائیں کے اوپر رکھنے کا انداز
بایاں بازو دائیں کے اوپر رکھنے کا انداز

یہ شخص اپنے آس پاس کے لوگوں کے درمیان ہونے والی جذباتی تبدیلیوں کے ساتھ مطابقت پیدا کر لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کئی مرتبہ اسے زندگی میں گھبراہٹ اور مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ اسے اپنا مافی الضمیر بیان کرنے میں مشکل کا سامنا ہوتا ہے تو یہ اس مقصد کیلئے فنی سرگرمیوں کا استعمال کر لیتا ہے۔ یعنی یہ شخص مصوری، رقص، موسیقی اور اداکاری کے ذریعے اپنے احساسات بیان کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ ظاہر ہے یہ افراد آپ کو سیاست، اداکاری، مصوری، رقص اور موسیقی جیسے شعبوں میں ہی نظر آ سکتے ہیں۔

3۔ دونوں بازو ایک دوسرے کے اوپر رکھ رکھنے والے

اب آتے ہیں اس فرد کی طرف جو اپنی دونوں ہاتھوں کو دونوں بازوؤں پر رکھتا ہے۔ اس شخص میں مذکور بالا دونوں اقسام کی خصوصیات جمع ہو جاتی ہیں۔ اس کے دماغ کا دایاں اور بایاں حصہ بیک وقت توازن میں ہے۔ یہ شخص عقل اور جذبات میں توازن رکھتا اور پیش آمدہ مسائل میں منطق اور جذبات دونوں کا اطلاق کرتا ہے۔ یہ ریاضی کے مسائل حل کرنے میں اتنا ہی بہتر ہے جتنا فنون لطیفہ کے کسی کام میں۔

دونوں بازو ایک دوسرے کے اوپر رکھنے کا انداز
دونوں بازو ایک دوسرے کے اوپر رکھنے کا انداز

اس شخص میں انوکھی خصلتیں ہوتی ہیں جو منطق، ذہانت اور کنٹرول کے ساتھ ساتھ جذبات، دیانتداری، مہربانی اور لفظی ذہانت کو مجسم کر دیتی ہیں۔ یہ لوگ ورسٹائل، ہنر مند اور باصلاحیت ہوتے ہیں۔ سمجھے لیجیئے کہ یہ افراد آپ کو ہر قسم کے پیشوں میں دکھائی دے سکتے ہیں۔

بازوؤں کے ذریعہ باتیں کرتا جسم

عوامی مقامات پر بازؤں کو باندھنے والے سے متعلق عمومی خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ وہ دفاعی موقف رکھتا، اضطراب اور عدم تحفظ کا شکار ہے یا یا ضدی رویہ اپنا رہا۔ تاہم جسمانی لغت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بازؤں کو باندھنے والوں میں مشکلات کو حل کرنے کا زیادہ امکان ہے۔ بازؤں کو پکڑنے سے غور وفکر اور احساس متحرک ہوتا ہے جس کے نتیجے میں دماغ کی مشکل کو حل کرنے کی طاقت بڑھ جاتی ہے۔ ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ دوران گفتگو ہاتھوں کو ایک دوسرے کے اوپر رکھنا اور پکڑنا بسا اوقات خود کو پرسکون کرنے اور تناؤ کو ختم کرنے کا بھی ایک طریقہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں