شاہ چارلس سعودی عرب کے بہترین دوست، 9 مرتبہ دورہ کر چکے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دوم جمعرات کو دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ ملکہ الزبتھ کے بعد 73 سالہ شہزادہ چارلیس برطانیہ کے بادشاہ بن گئے ہیں۔

شاہ چارلس کے مملکت سعودی عرب سے تعلقات کی بابت دیکھا جائے تو یہ بڑے اچھے رہے ہیں اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا کہ کنگ چارلس اس سے قبل 9 مرتبہ سعودی عرب کا دورہ کر چکے ہیں۔

چارلس اسلام کے دفاع کیلئے بھی معروف ہیں۔ وہ ہمیشہ اسلامی دنیا کے حوالے سے رویہ میں نرمی لانے کی بات کرتے رہے ہیں۔ کئی سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق کنگ چارلس کی اسلام اور اسلامی فن تعمیر کے ساتھ خصوصی دلچسپی ہے۔ اسی دلچسپی کے باعث کنگ چارلس کے اسلامی دنیا کے ساتھ تعلقات بہتر رہے اور کئی اسلامی شخصیات ان کی دوست بھی بن گئیں۔

سال 2006 میں جامعہ امام محمد بن سعود کے دورہ کے موقع پر انہوں نے دین اسلام کا بھرپور احترام کرتے ہوئے ایسا اطمینان بخش ماحول پیدا کر دیا تھا کہ اس سطح تک رواداری کا مظاہرہ کسی دوسرے یورپی رہنما کیلئے ممکن نہ ہوتا۔

کنگ چارلس طویل عرصہ سے مشرق وسطی کے امور کے ماہر ہیں وہ عالم عرب اور عالم اسلام کے متعلق گہری فہم رکھتے ہیں۔ ماضی میں چارلس عالم اسلام سے متعلق گستاخانہ کارٹونوں کو افسوسناک قرار دے چکے ہیں۔

9 سے زیادہ مرتبہ سعودیہ کا دورہ

سعودیوں کا برطانوی کنگ چارلس کے ساتھ ایک خاص لگاؤ ہے۔ کنگ چارلس دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ سعودی مملک آ چکے ہیں۔ ہر پانچ سال میں کنگ چارلس نے مختلف ممالک کا صرف ایک مرتبہ دورہ کیا تاہم اسی عرصہ میں وہ 9 مرتبہ سعودی عرب تشریف لائے تھے۔

’’سربز سعودی اقدام" فورم کے افتتاح کے موقع پر اپنے خطاب میں شاہ چارلس نے کہا تھا کہ مملکت سعودی عرب کے پاس قابل تجدید توانائی کے وسیع امکانات ہیں۔ انہوں نے کہا شمسی توانائی، ونڈ انرجی اور سر سبز توانائی کے امکانات ہی ہیں جو سعودی عرب میں روزگار اور بڑی سرمایہ کاری لا سکتے ہیں۔

چارلس عربی

سعودی طرز کا لباس پہننے پر انہیں ’’چارلس عربی‘‘ کا لقب بھی دیا گیا تھا۔ یہ لباس انہوں نے اس وقت زیب تن کیا جب وہ مملکت سعودیہ میں ورثہ اور ثقافت کے قومی تہوار ’’الجنادرہ 29‘‘میں شریک ہوئے ۔ اس تقریب میں دیگر کئی رہنما بھی شریک تھے۔

چارلس نے سعودی عرب کا جو خاص لباس ’’عرضہ‘‘ پہنا تھا وہ لمبے بازؤں کے ساتھ سونے اور چاندی کے دھاگوں کی کڑھائی سے آراستہ ہوتا ہے۔

شہزادہ نے اس کے ساتھ سر پر پہنا جانے والا شماغ اور پٹی بھی پہنی تھی۔ یہ مخصوص لباس عام طور پر وہ لوگ پہنتے ہیں جو اسے پہن کر رقص بھی کرتے ہیں۔ عرب لباس زیب تن کرکے شاہ چارلس نے سونے کی تلوار تھام کر جھومنا شروع کیا تو لوگوں نے ان کو بہت سراہا تھا۔ یہ منظر دیکھ کر متحیر حاضرین نے برطانوی ولی عہد کی سعودیہ میں مہمان نوازی ’’ خوش آمدید‘‘ کے نعروں سے کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں