.

سعودی عرب میں الیکٹرانک کھیلوں سے قومی پیداوار میں 50 ارب ریال تک کا اضافے متوقع

نئی سعودی پالیسی کی بدولت 2030 تک بلا اور بالواسطہ 39 ہزار سے زاید روزگار کےمواقع پیدا ہوں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے جمعرات کو سعودی عرب میں الیکٹرانک کھیلوں اور سپورٹس کی نئی حکمت عملی جاری کر دی۔ یہ اقدام 2030 تک سعودی عرب کو سپورٹس کے میدان میں عالمی حیثیت دلانے اور قائدانہ کردار کا مالک بنائے گا۔

شہزادہ محمد بن سلمان کا کہنا تھا ’’کہ سعودی نوجوانوں کی توانائی اور ان کی تخلیقی صلاحیت نیز الیکٹرانک کھیلوں کے شائقین نئی قومی حکمت عملی کا حقیقی محرک ہیں۔ الیکٹرانک کھیلوں اور سپورٹس کی حکمت عملی کے 3 بڑے اہداف ہیں۔ یہ سعودی عوام، پرائیویٹ سیکٹر اور دنیا کے مختلف علاقوں میں الیکٹرانک کھیلوں اور سپورٹس کے شائقین پر براہ راست اثر انداز ہوں گے۔ نئی حکمت عملی کے باعث کھلاڑیوں کو اپنی صلاحتیں بہتر بنانے کے مواقع ملیں گے۔ نئی حکمت عملی مجموعی قومی پیداوار میں براہ راست اور بالواسطہ 50 ارب ریال تک کا اضافہ کرے گی۔‘‘

اس کی بدولت 2030 تک براہ راست اور بالواسطہ 39 ہزار سے کہیں زیادہ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ عالمی سطح پر الیکٹرانک کھیلوں اور سپورٹس میں سعودی عرب کی حیثیت مضبوط ہو گی۔ 30 سے زیادہ عالمی مسابقتی گیمز سعودی سٹوڈیوز میں تیار کیے جائیں گے، الیکٹرانک کھیلوں کے پیشہ ور کھلاڑیوں کی تعداد کے حوالے سے سعودی عرب دنیا کے 3 بہترین ملکوں کی فہرست میں شامل ہو جائے گا۔

مملکت کی جانب سے حکمت عملی 86 انشیٹو کے ذریعے نافذ کی جائی گی۔ تقریبا 20 سرکاری اور نجی ادارے الیکٹرانک گیمز کے بڑے پروگراموں کی میزبانی کریں گے۔ سعودی عرب 86 انشیٹو کے تحت 8 شعبوں میں کام کرے گا۔ کھیلوں کی ٹیکنالوجی اور آلات جدید خطوط پر استوار کیے جائیں گے۔

ای گیمز کا شعبہ ابلاغی فیلڈ میں تیزی سے ترقی کرنے والا سیکٹر ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ 2023 تک اس شعبے کا حجم 200 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ اس میں دلچسپی رکھنے والوں کی تعداد 21 ملین تک پہنچ جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں