.

’’مقدس مقامات پر رش کنڑول کرنے کے لئے آرٹیفیشل انٹیلجنس کو بروئے کار لایا جائے گا‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں حرمین شریفین کی زیارت، عمرہ اور حج کے خواہش مند افراد کو فراہم کی جانے والی خدمات میں اب مصنوعی ذہانت کی تکنیک سے بھی کام لیا جائے گا۔ مملکت میں مجمع کو منظم کرنے کے لیے آرٹیفیشل ٹکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا۔ اس پیش رفت کی بازگشت ریاض میں ہونے والی آرٹیفیشل انٹیلجنس سمٹ کے دوران سنائی دی۔

اس بات کا اعلان سعودی عرب کی وزارت داخلہ میں پبلک سکیورٹی کے ڈائریکٹر لیفٹیننٹ جنرل محمد الباسمی نے سمٹ میں ’’آرٹیفیشل انٹیلجنس کے ہمہ جہت استعمال‘‘ کے عنوان سے منعقد ہونے والی ایک پینل ڈسکشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سعودی خبر رساں ایجنسی ’’ایس پی اے‘‘ کے مطابق سمٹ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر سرپرستی 13 ستمبر سے ریاض میں جاری ہے اور آج اس کا آخری روز ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل محمد الباسمی نے مجمع کو منظم کرنے سے متعلق امور پر بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ہر سال مملکت کے اندر اور بیرون ملک سے زائرین بڑی تعداد میں حرمین شریفین سمیت دوسرے مقدس مقامات کی زیارت کرنے سعودی عرب آتی ہے۔ زائرین کی بڑی تعداد کی وجہ سے ہونے والی بھیڑ کو کنڑول کرنے کے لئے جدید ٹکنالوجی اور طریقوں کو بروئے کار لایا جا رہا ہے۔

جنرل الباسمی نے بتایا کہ کم سے کم 2.5 ملین معتمرین مکہ اور مدینہ حج کی غرض سے آتے ہیں۔ مملکت کے ویژن 2030 پروگرام کی روشنی میں زیادہ سے زیادہ حجاج اور متعمرین کی مملکت آمد کے لئے کوششیں جاری ہیں، ایسے میں پیدا ہونے والے ازدھام کو ٹکنالوجی کے جدید طریقوں سے کنڑول کرنے کی کوششوں میں بہتری لائی جا رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مقدس مساجد میں حال ہی میں متعارف کرائی جانے والی منصوعی ذہانت تکنیک سے بڑی تعداد میں زائرین کے مساجد میں داخلے اور باہر نکلتے وقت رش کنڑول کرنے سے متعلق فوری نوعیت کے فیصلوں میں بڑی مدد ملی ہے۔ اس ٹکنالوجی کے ذریعے اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ کسی مخصوص وقت اور جگہ پر اتنے ہی افراد جمع ہوں جنتی وہاں گنجائش ہوتی ہے۔

ان ٹکنالوجیز کی مدد سے مجمع سے متعلق کسی بھی ہنگامی صورت حال کو کم سے کم پریشانی سے انتہائی تیزی سے نمٹا جا سکتا ہے۔

گلوبل سمٹ کا آغار 13 ستمبر کو ریاض میں ہوا: ٹوئیٹر
گلوبل سمٹ کا آغار 13 ستمبر کو ریاض میں ہوا: ٹوئیٹر

نیشنل سینٹر برائے منصوعی ذہانت کے اعلیٰ انتظامی سربراہ ڈاکٹر ماجد التويجری نے بتایا کہ یہ تعاون NCAI کی جانب سے مملکت کے مختلف شعبوں میں مصنوعی ذہانت کی مدد مختلف ایپلی کیشنز تیار کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل باسمی نے بتایا کہ شہزادہ عبدالعزیز بن سعود وزارت داخلہ کی راہنمائی میں بھیڑ کو منظم کرنے کے متعدد منصوبوں پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد رئیل ٹائم میں زائرین کے حرمین شریفین میں داخلے اور خروج کی مانیٹرنگ کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ منصوعی ذہانت کی تکنیک تمام ایجنسیوں کے درمیان زیادہ سے زیادہ رابطے کو مجتمع کرنے میں مدد دیتی ہے تاکہ زائرین کا حج اور عمرے کا تجربہ زیادہ محفوظ اور آسان بنایا جا سکے۔

گلوبل آرٹیفیشل انٹلیجنس سمٹ کا آغاز منگل کو دارلحکومت ریاض میں ہوا جس میں مختلف ماہرین اور سٹیک ہولڈرز ایک چھت تلے اس جدید ٹکنالوجی کے مستقبل اور اس کی بڑھوتری میں مملکت کے کردار جیسے امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔

عالمی سمٹ کا اہتمام سعودی ڈیٹا اینڈ اے آئی اتھارٹی [سدایا] نے کیا ہے۔ اس میں سرکاری اور نجی شعبوں بشمول صحت، ماحول، مواصلات، سمارٹ سیٹیز اور ثقافت میں منصوعی ذہانت کے اثرات پر سیر حاصل تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔ آج سمٹ کا آخری روز ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں