.

مقتدیٰ کے حامیوں کو ’شیشے میں اتارنے‘ کی ایرانی کوشش ناکام

ایرانی کوشش نے الٹا عراق کو شیعہ شیعہ کی لڑائی کی جانب دھکیل دیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں صدری تحریک کے رہنما مقتدی الصدر کی جانب سے امن کا دور آج جمعہ کو چہلم حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے موقع پر باضابطہ ختم ہو رہا ہے اور عراق میں ایک مرتبہ پھر تناؤ سیاسی منظر نامہ ابھر کر سامنے آ گیا ہے۔

گذشتہ کئی ماہ سے جاری مقتدی الصدر کی صدری تحریک اور ایرانی حمایت یافتہ سنڈیکیٹ کے درمیان جھگڑے کو پر امن ختم کرنے کی کوششیں بظاہر کامیاب نہیں ہوئیں، اسی لئے اب عراق میں تناؤ مزید بڑھ گیا ہے حتی کے ملک میں شیعہ شیعہ کی لڑائی کا امکان پیدا ہو گیا۔

امریکی میگزین ’’فارن پالیسی‘‘ کے تجزیہ کے مطابق گذشتہ دو ہفتوں کے دوران عراق میں جو تشدد دیکھنے میں آیا اس میں ایرانی براہ راست اثر و رسوخ کا عمل دخل ہے۔ اس صورتحال نے ملک کو بظاہر خانہ جنگی کے دھانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

مقتدی الصدر کا رسوخ کم کرنے کی کوشش

اگست میں شیعہ عالم کاظم الحیری نے مذہبی اتھارٹی میں اپنے عہدے سے سبکدوشی اعلان کر دیا تھا اور ان کے حامیوں نے مطالبہ کیا تھا کہ عراق میں ایرانی رہنما علی خامنہ ای کی پیروی کی جائے۔ اس پیش رفت سے عراقیوں میں غم وغصہ بڑھ گیا تھا۔ عراقیوں نے بالخصوص یہ سمجھا کہ ایران نے مقتدی الصدر جو ایک غیر معمولی اہمیت کے حامل رہنما ہیں ان کی صدری تحریک کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔

اس سب کے باوجود تہران نے مقتدی الصدر کے حامیوں کو کنٹرول میں لانے کی کوشش کی۔ فارن پالیسی کی رپورٹ کے مطابق اب ایران اپنی اس کوشش میں ناکام رہا ہے۔

شیعہ شیعہ کی لڑائی

مقتدی الصدر کے حامیوں پر رسوخ حاصل کرنے کی ایرانی کوشش نے الٹا عراق کو شیعہ شیعہ کی لڑائی کی جانب دھکیل دیا ہے۔ جس کے آثار گزشتہ ماہ اگست کے آخر میں وسطی بغداد میں صدر کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ ان جھڑپوں میں 30 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

سابق صدر صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد شیعہ آبادی کی اکثریت بڑی حد تک متحد رہی تھی۔ تاہم اب یہ تصادم ملک میں بدترین شیعہ تنازعہ کی نمائندگی کر رہا ہے۔

اگر دونوں فریق اپنے مطالبات پر قائم رہیں گے تو عراق دوبارہ پر تشدد جنگ کی دلدل میں پھنس جائے گا۔ خاص طور پر مقتدی الصدر قبل از وقت الیکشن کے اپنے مطالبے سے کسی صورت دستبردار ہوتے نظر نہیں آ رہے۔

لیکن ملک میں جاری سیاسی ہنگامی آرائی کے تناظر میں یہ امکان بھی دکھائی نہیں دے رہا کہ کوئی قبل از وقت الیکشن ملک میں اختلافات کی دراڑ کو بھر دے گا۔

سیاسی مفلوج ملک

گذشتہ برس دس اکتوبر کو ہونے والی ابتدائی پارلیمانی انتخابات کے بعد سے عراق سیاسی طور پر مفلوج نظر آٰ رہا ہے۔ بالخصوص جولائی کے بعد سے حالات مزید بگڑ گئے ہیں۔ فریقین کے مابین اختلافات اس حد تک بڑھ گئے ہیں کہ معاملہ اب سڑکوں پر احتجاج اور بغداد کے وسط میں دھرنے تک پہنچ گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں