ریاض کتاب میلہ نے ادبی مکالمے سائبر سپیس پر منتقل کر دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب میں ثقافت کو ہر جگہ تک پہنچانے کا نیا تجربہ سامنے آیا ہے۔ ریاض کے بین الاقوامی کتاب میلے میں اس مقصد کیلئے ایک ’’ سپیس ٹوئٹر‘‘ بنا لیا گیا جس کا مقصد یہ ہے مییلے میں ہونے والی ادبی مباحثے ان لوگوں تک بھی پہنچا دی جائیں جو میلے میں شرکت نہیں کر سکتے۔

اس ٹوئٹر اکاؤنٹ پر پہلی ادبی بحث ترجمہ پر ہونے والی ورکشاپ تھی۔ کتاب میلے میں ہونے والی اس ورکشاپ کو ٹوئٹر کے ذریعہ ساری دنیا تک پھیلا دیا۔

اس بحث میں تجزیہ کار طارق قرنی نے اپنی بات کی اور وضاحت کی کہ ترجمہ کا کام صرف جنگوں کی وجہ سے پروان چڑھا ہے۔ ترجمہ کے باعث ایک قوم کے خیالات اور تفصیلات کو دوسری قوم میں منتقل کیا جاتا ہے۔ ترجمہ سے ہی اس عمارت کی بنیاد رکھی گئی جو بعد میں ثقافتی سیاق و سباق کی تفہیم کی باعث بنی۔

ترجمہ کے عہد کی کوئی عمر نہیں

انہوں نے توجہ دلائی کہ ترجمہ اور ادب کی دیگر سرگرمیوں کی کوئی خاص عمر نہیں ہوتی۔ وقت کے ساتھ ساتھ ترجمہ کی عمارت کا دروازہ بھی کھلے رہنا چاہیے اور اس کا مسلسل جائزہ لیتے رہنا چاہیے۔

اپنے خطاب میں انہوں نے ایک افسانوی قصے کی بھی نشاندہی کی جسے ترجمہ کی تاریخ سے جوڑا جا سکتا ہے۔ یہ’’ ٹاور آف بابل‘‘ کا افسانہ ہے۔ اس افسانے میں بتایا گیا ہے کہ فطرت سے باہر جاکر دیکھنے کیلئے بابل میں ایک اونچا ٹاور تعمیر کیا گیا تھا۔ اس ٹاور کے ذریعہ سے ذہنی طور پر ناموس اور نہ سمجھی جانے والی زبان کو سنا جاتا تھا۔ یہ ٹاور سمجھنے کی الجھن کی ایک علامت کے طور پر ہے جو ایک قول کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر سکتا ہے۔ ترجمہ کو بھی اسی ٹاور سے جوڑ کر سمجھا جا سکتا ہے۔

بحث میں حصہ لیتے ہوئے سعودی ٹرانسلیشن آبزرویٹری کے بانی فیاض الشہری نے انکشاف کیا کہ ترجمے کے لیے کوئی مخصوص تاریخ تلاش کرنا ممکن نہیں ہے۔ یہ قدیم ترین پیشوں میں سے ایک پیشہ ہے۔ اس کو انسانی ضرورت کے پیش نظر اپنایا گیا تھا۔

بلاشبہ ترجمہ کا قدیم تاریخ سے گہرا تعلق ہے۔ تاہم محتاط مطالعہ کی بنیاد پر پانچویں صدی کو ترجمہ کے آغاز کیلئے موزوں دور قرار دیا جا سکتا ہے۔

ترجمہ کا نشاۃ ثانیہ میں کردار

انہوں نے مزید کہا کہ ترجمہ نے لوگوں کی نشاۃ ثانیہ میں اہم کردار ادا کیا ۔ ترجمہ کی بدولت ہی ایک قوم نے رسم و رواج کی سطح پر دوسرے کی ترقی اور خوشحالی کا علم حاصل کیا۔

کتاب میلہ: فائل فوٹو
کتاب میلہ: فائل فوٹو

انہوں نے کہا ساٹھ کی دہائی میں ترجمہ اور اس کے متعلق کچھ مسائل بھی پیدا ہوگئے تھے ۔ ترجمہ کی حیثیت طے کرنے کیلئے مختلف مکاتب فکر سامنے آئے۔ ان میں یورپی اور امریکی مکاتب فکر نمایاں رہے۔ ان مکاتب فکر کے مطابق ترجمہ لوگوں کے درمیان رابطے اور انسانی علم کی تعمیر کی بنیاد ہے۔

خیال رہے ’’ریاض بین الاقوامی کتاب میلہ‘‘ جمعرات سے جاری ہے اور اس میلے میں مختلف موضوعات پر ادبی ورکشاپس کا بھی انعقاد کیا جارہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں