سعودی عرب کے "جریش" اور "کبسہ" میں عالمی کھانا بننے کا رجحان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ریاض بین الاقوامی کتاب میلے 2022 کی سرگرمیوں کے اندر "سعودی پکوانوں کی عالمگیریت" پر بھی مباحثہ کیا گیا۔ سمپوزیم کے شرکا نے سعودی فوڈ ورثہ کی اہمیت پر اتفاق کیا۔ شرکا نے کہا سعودی طعام ورثہ کی خصوصیت تنوع ہے۔ مباحثہ میں سعودی طعام کی ثقافت کو فروغ دینے کے امکانات پر بھی بحث کی گئی۔

سعودی کھانوں کے دنیا بھر میں فروغ کیلئے قائم کُلنری آرٹس اتھارٹی نے اس مباحثہ میں معاونت فراہم کی۔

سمپوزیم کے شرکا نے زور دیا کہ "جریش" سمیت دیگر مقبول سعودی کھانوں کو عالمی افق پر بھی مشہور کرنے کیلئے سعودی باورچیوں کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو متحرک کرنا ہوگا۔ اس حوالے سے کھانے کی پیشکش کے طریقوں میں بہتری ان کھانوں کو بین الاقوامی کھانا بنا سکتی ہے۔

سعودی ڈش 'جریش'
سعودی ڈش 'جریش'

مقامی کھانوں کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرکے پیش کرنے کے حامی "تکیہ" ریسٹورنٹ کے بانی حدیل المطاوی نے کہا سعودی پکوانوں کو اپنی شناخت برقرار رکھنا چاہیے تاہم ان کھانوں کی پیشکش کے طریقوں کو بہتر بنانے کی ضرروت ہے۔ انہوں نے کہا سعودی کھانوں کو دنیا میں مشہور کرنے میں سعودی شہریوں کا بھی اہم کردار ہوگا۔

انہوں نے ایک اور مقبول سعودی کھانے "کبسہ" کی طرف بھی توجہ دلائی اور کہا اس کھانے کو سعودی مملکت کے رسم و رواج سے اخذ کردہ کئی طریقوں کے ذریعہ پیش کیا جا سکتا ہے۔

مخصوص ذائقہ

شیف نواف رمیحی نے کہا کہ سعودی پکوانوں کا ایک الگ ذائقہ ہوتا ہے جس میں ایک ایسی بصری شناخت شامل کرنے کی ضرورت ہے جو اس کے عالمی پھیلاؤ میں مدد گار بن جائے۔ کھانے کو منہ سے پہلے آنکھ سے کھایا جاتا ہے۔

شیف خلود اولقی نے کہا کہ ریاض اور جدہ میں سعودی پکوانوں میں مہارت رکھنے والے ریستورانوں کی اچھی دیکھ بھال کی جارہی ہے۔ یہ ریسٹورنٹ سعودی عرب کے مختلف خطوں کے مشہور پکوانوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان شہروں سے "جریش" اور ’’ کبسہ‘‘ کے پھیلاؤ کے ذریعے عالمی سطح پر سعودی طعام کی شناخت آگے بڑھائی جا سکتی ہے۔

واضح رہے کہ سال 2020 میں سعودی کھانوں کے دنیا بھر میں فروغ کیلئے ’’کلنری آرٹس اتھارٹی‘‘ قائم کی گئی تھی۔ یہ اتھارٹی سعودی پکوانوں کو مقامی اور بین الاقوامی سطح پر متعارف کرانے اور کھانے کے ورثے پر اظہار فخر کے فروغ کی کوشش کرتی ہے۔

ریاض عالمی کتاب میلہ 29 ستمبر سے شروع ہو کر 8 اکتوبر 2022 تک جاری رہے گا۔ اس میلہ میں 32 ملکوں کی نمائندگی کرنے والے 1200 اشاعتی ادارے شریک ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں