ریاض عالمی کتاب میلہ میں ’’ گیس سلنڈرز‘‘ کا کیا کام؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں ریاض عالمی کتاب میلہ زور و شور سے جاری ہے، میلے میں شریک مہمان گھومتے گھماتے نارنجی رنگ کے گیس سلنڈروں کے لئے مخصوص بوتھ پر پہنچتا ہے تو حیران رہ جاتا ہے کہ ایک عالمی کتاب میلے میں گیس کے سلنڈروں کا کیا کام ہے؟ تاہم اس وقت بوتھ پر موجود افراد اسے’’ سپیک عربک‘‘ کے آئیڈیا اور اقدام کا تعارف کرنا شروع کرتے ہیں۔

’’سپیک عربک‘‘ اقدام 2017 میں اٹھایا گیا تھا اور اس کا مقصدتھا کہ عربی زبان کی حیثیت کو روزمرہ زندگی میں نہ صرف برقرار رکھا جائے بلکہ آگے بڑھایا جائے۔ اسی طرح اس اقدام کا مقصد مقامی اور غیر مقامی افراد کو عربی سکھانا تھا۔

گیس کے سلنڈروں والے اس پویلین کے منتظمین بتاتے ہیں کہ گیس سلنڈر رکھنے کا عجیب خیال اس لئے پیش کیا گیا ہے کہ جیسے ایندھن روز مرہ زندگی کا لازمی حصہ ہے اسی طرح عربوں کی روز مرہ زندگی میں عرب زبان کی اہمیت ہے۔ عربی زبان کے بغیر زندگی گزارنا مشکل ہوجائے گا۔

اس اچھوتے خیال کی بنا پر ریاض عالمی کتاب میلہ کے ’’ سپیک عربک‘‘ والے حصہ میں گیس سلنڈرز رکھے گئے ہیں۔ ’’سپیک عربک‘‘ اقدام کا مقصد عربی زبان کو عالمی سطح پر لانے کے ساتھ ساتھ سرکاری اداروں اور نجی شعبوں کے ساتھ شراکت داری قائم کرنا بھی ہے تاکہ عربی زبان گلی کی زبان بن جائے اور کام کی جگہ کی زبان بن جائے ۔ کوئی بھی اور کسی بھی قسم کا موقع ہو وہاں بلا تکلف عربی زبان میں بات کی جاسکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں