گھمسان کی جنگ میں پوتین کی 70 ویں سالگرہ، روسی صدر بارے چند حیران کن معلومات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

کل جمعہ 7 اکتوبر کو روسی صدر ولادیمیر پوتین نے اپنی 70 ویں سالگرہ منائی۔ ان کی یہ سالگرہ ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب وہ پڑوسی ملک یوکرین کے ساتھ جنگ میں الجھے ہوئے ہیں۔ یہ ایک خوفنا اور وسیع جنگ ہوسکتی ہے اور ممکنہ طور پراس جنگ میں جوہری ہتھیار استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ ولادی میر پوتین کی عمر 70 سال ہوگئی ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی کا ایک تہائی عرصہ کرملن میں اقتدار میں بیٹھ کر گذارا۔

ولادی میر پوتین کی زندگی کی گاڑی کئی مراحل اور اسٹیشنوں سے گذری۔ کسی وقت وہ سوویت یونین کی KGB کے انٹیلی جنس افسر تھے۔ یہاں تک کہ اس یونین کے کھنڈرات پر قائم ہونے والے ملک کی صدارت تک جا پہنچے۔ روس کی جدید تاریخ کو کئی حوالوں سے ولادیمیر پوتین کی تاریخ سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔

روسی صدر کی زندگی کے بارے میں میڈیا کی طرف سے رپورٹ کردہ چند دلچسپ واقعات اور معلومات کا خلاصہ پیش کیا جا رہا ہے۔

لینن اور اسٹالین کے باورچی کا پوتا

ولادیمیر ولادیمیرووچ پوتین 7 اکتوبر 1952 کو لینن گراڈ میں سوویت یونین کے دور میں پیدا ہوئے۔اب یہ شہر سینٹ پیٹرزبرگ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

ان کے دو بھائی تھے مگر وہ پوتین کی پیدائش سے پہلے ہی فوت ہوگئے تھے۔ ایک بھائی کا نام وکٹور تھا۔ اس کی موت دوسری جنگ عظیم میں لینن گراڈ کے نازی محاصرے کے دوران ہوئی۔

بعد میں اپنی زندگی میں پوتین نے بتایا کہ ان کے دادا سپیریڈن پوٹن نے لیڈر ولادیمیر لینن اور جوزف اسٹالن کے خانسامہ کے طور پر کام کیا تھا۔

پوتین کی پرورش سینٹ پیٹرزبرگ میں ہوئی، جہاں انہوں نے جوڈو، مارشل آرٹ کی تربیت حاصل کی اور شہر کی یونیورسٹی میں قانون کی تعلیم حاصل کی۔

سوویت انٹیلی جنس

سنہ1975 میں گریجویشن کرنے کے بعد پوتین نے فوری طور پرانٹیلی جنس ایجنسی KGB میں شمولیت اختیار کی۔

واشنگٹن پوسٹ نے 2000ء میں پوتین کے حوالے سے بتایا کہ "مجھے بہت زیادہ ترغیبات حاصل تھیں، اس لیے میں نے سوچا کہ میں اپنی صلاحیتوں کو کمیونٹی سروس کے بہترین خدمات کے لیے استعمال کر سکوں گا۔"

KGB نے انہیں 1985 میں جرمن شہر ڈریسڈن بھیجا، جہاں ان کا مشن بیرون ملک سفر کرنے کے خواہشمند جرمنوں کو تلاش کرنا تھا تاکہ انہیں مغرب میں جاسوسی کے لیے بھرتی کیا جا سکے۔

غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق 1980ء کی دہائی کے دوران پوتین نے نیوزی لینڈ میں کام کیا اور ’کے جی بی‘ میں کام کرتے ہوئے پوتین کرنل کے عہدے تک پہنچ گئے۔

ولادیمیر پوتین 1990ء میں KGB کے فعال ریزرو کے حصے کے طور پر لینن گراڈ واپس آئے۔ اس وقت سوویت یونین ٹوٹنے کے دہانے پر تھا۔

پوتین یونیورسٹی کے اپنے سابق پروفیسر اناتولی سوبچک کے مشیر بن گئے جو لینن گراڈ سٹی کونسل کے سربراہ بنے اور بعد میں سوبچک شہر کے پہلے منتخب میئر بنے۔ پوتین بڑے پیمانے پر "سوبچک گائیڈ" کے نام سے مشہور ہوئے۔

اہم موڑ

پوتین کی سیاسی زندگی میں بڑی تبدیلی 1996ء میں آئی جب وہ دارالحکومت ماسکو چلے گئے جہاں انہوں نے کریملن میں کام کرنا شروع کیا۔

وہ 1998 میں روسی فیڈرل سکیورٹی سروس کے سربراہ کے عہدے پر فائز ہوئے۔

اس عہدے کے ایک سال سے بھی کم عرصے میں پوتین کو نائب وزیر اعظم نامزد کیا گیا اور اس وقت کے روسی صدر بورس یلسن نے انہیں قائم مقام وزیر اعظم مقرر کیا۔

جب یلسن نے استعفیٰ دیا تو پوتین 1998ء میں روس کے قائم مقام صدر بنے اور 2000 میں صدر منتخب ہوئے۔

مشکلات

پوتین کا عہدہ صدارت آسان نہیں تھا کیونکہ انہیں اپنے ملک کے اندر اور باہر کئی مشکل امتحانات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے باوجود وہ اپنے ملک کو سوویت یونین کے زوال کے بعد افراتفری اور پسپائی کے چکر سے نکالنے، روسی فوج کی تشکیل نو اور اس کی بہتری میں کامیاب رہے۔ اپنے ملک میں معاشی صورتحال کی بہتری، "وارسا معاہدہ" سے ملتی جلتی ایک تنظیم کو فعال کرنے کی قیادت کرتے ہوئے وہ 2018 ورلڈ کپ کا انعقاد کرنے میں کامیاب رہے۔

لیکن پہلا مشکل واقعہ جس کا سامنا پوتین کے اقتدار سنبھالنے کے مہینوں بعد ہوا وہ اگست 2000 میں جوہری آبدوز کرسک کا ڈوبنا تھا، جس میں 118 ملاح جو آبدوز کے عملے کے رکن تھے ہلاک ہو گئے۔

اکتوبر 2002 میں چیچن بندوق برداروں نے ماسکو کے ایک تھیٹر میں یرغمال بنائے 130 افراد کو ہلاک کر دیا۔ اس واقعے میں پوتین کو چیچن باغیوں کو سخت جواب دینے پر مجبور کیا گیا۔

سنہ 2000 سے پوتین روس کے صدرچلے آ رہے ہیں۔ سنہ 2008-2012 کے درمیانی عرصے کو چھوڑ کر جب دمتری میدویدیف روس کے صدر منتخب ہوئے، اس عرصے کے دوران پیوتین نے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالا۔

کریمیا

سنہ 2014ء میں یوکرین میں صدر وکٹر یانوکووچ کی حکمرانی کے خلاف مظاہروں کے نتیجے میں انہیں اقتدار چھوڑنے پر مجبور کیا۔ اس معاملے نے کریمیا سمیت یوکرین کے کچھ علاقوں میں روسی نژاد افراد کی آبادی کو بڑھایااور پھر ماسکو کے وفاداروں نےجزیرہ نما علاقے کا انتظام سنھبال لیا۔

بعد ازاں پوتین نے ریفرنڈم کے بعد کریمیا کے روس کے ساتھ الحاق کے معاہدے پر دستخط کیے۔ اس نام نہاد ریفرنڈ کے بارے میں کہا جاتا ہے اس میں 96.7 افراد نے روس میں شمولیت کا فیصلہ کیا تھا۔

اس کے بعد مشرقی یوکرین میں ڈون باس کے علاقے لوگانسک اور ڈونیٹسک کے علاقوں میں بغاوت کا منظر دہرایا گیا اور باغیوں نے ان دونوں خطوں کی زیادہ تر زمینوں پر قبضہ کر لیا۔

یوکرائن کی جنگ

24 فروری سے ولادیمیر پوتین کا نام دنیا بھر میں خبروں میں ہے۔

اس دن پوتین نے روسی عوام سے خطاب کیا جس میں انہوں نے یوکرین میں ایک خصوصی فوجی آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا۔ ان کے بقول ڈونباس علاقے میں آپریشن روسی بولنے والے باشندوں کو ظلم و ستم سے بچانے کے لیے شروع کیا گیا جارہا ہے۔ان کے بقول کیف ان کے خلاف کارروائیاں کر رہا ہے اور اسے ماسکو کے خلاف مغرب کی پشت پناہی حاصل ہے۔

جنگ اپنے آٹھویں مہینے میں داخل ہو چکی مگر اس کا انجام ابھی تک نامعلوم ہے۔ ستمبر میں روس نے یوکرین کے چار مقبوضہ علاقوں کے الحاق کا اعلان کیا تھا۔

پوتین نے ان علاقوں میں ہونے والے ریفرنڈم کے نتائج پر اتفاق کیا مگر مغرب نے ریفرنڈم کو فراڈ قرار دیتے ہوئے یوکرین کے چار خطوں لوگانسک، ڈونیٹسک، زپوریزیا اور کھیرسن کے روس سے الحاق کو مسترد کردیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں