'شوگر فری' اور مصنوعی مٹھاس کی حامل اشیائے خور ونوش بھی خطرناک

ایسی چیزوں کا بکثرت استعمال فالج، ہارٹ اٹیک اور ذیابیطس کا باعث بن رہا ہے: ماہرین طب و غذا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

متحدہ عرب امارات میں ڈاکٹروں نے شہریوں کو خبر دار کیا ہے کہ بظاہر 'شوگر فری ڈرنکس ' سے بھی احتیاط کریں کہ یہ بھی امراض قلب، فالج اور شوگر کا باعث بنتے ہیں۔'

طبی موضوعات سے متعلق برطانوی جریدے میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بیان کیا گیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کی زیادتی عام طور پر 'شوگر فری' بوتلوں میں پائی جاتی ہے۔ اشیائے خورد ونوش جن میں مصنوعی مٹھاس استعمال کی جاتی ہیں بشمول ڈائٹ کوک اور ڈائٹ پیپسی کا استعمال ہارٹ اٹیک اور فالج کا باعث بنتا ہے۔

یہ اشیاء متحدہ عرب امارات اور پاکستان سمیت دوسرے ممالک کی سپر مارکیٹوں میں عام طور پر موجود ہوتی ہیں اور خوب استعمال کی جاتی ہیں۔ نئی نسل ان سے سب زیادہ متاثر ہو رہی ہے ۔ جس کی صحت کے مسائل ابھی سے سنگینی کی طرف مائل ہیں۔

زیادہ برطانوی طبی جریدے کے مطابق کہ دنیا بھر میں 72 بلین ڈالر بوتلوں کی خرید وفروخت سے کمائے جاتے ہیں۔ اس سے ان ڈرنکس کے استعمال کے رجحان کا اندازہ کیا جا سکتا ہے، نیز انسانی صحتوں پر پڑنے والے اثرات بھی سمجھے جا سکتے ہیں

ڈاکٹر اس بات سے پریشان ہیں کہ لوگ اپنی خوراک میں چینی کا استعمال بظاہر کم کرنے کے لیے جن اشیا کو شامل کر رہے ہیں یا انہیں استعمال کرائی جاتی ہیں وہ ان کے لیے کسی بھی طرح کم خطرناک ثابت ہوتی ہیں۔

العربیہ سے بات کرتے ہوئے این ایم سی رویل ہاسپٹل دبئی میں بطور ان ڈوکرانالوجسٹ کی ذمہ داریاں نبھانے والے ڈاکٹر اشون پنکاجاکشن کہنا تھا عام طور پر سنیکس میں بھی مصنوعی مٹھاس شامل ہوتی ہے لیکن ڈائیٹ پیپسی اور ڈائیٹ کوک میں مصنوعی مٹھاس کی زیادہ مقدار شامل ہوتی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ 'ڈائیٹ کوک کا استعمال کرنے والے سمجھتے ہیں کہ اس سے انھیں نقصان نہیں ہوگا اور بعض لوگ تین یا چار کین بھی پی لیتے ہیں۔ لیکن یہ ٹھیک نہیں ہے۔

انھوں نے ڈرنکس کے عادی لوگوں اور ان کی طرف رجحان رکھنے والے لوگوں کو انتباہ کرتے ہوئے کہا ' لوگوں کو سوڈا والے مشروبات پینے میں کافی کمی کرنی چاہیے اور مصنوعی مٹھاس سے تیار ہونے والی دہی، آئس کریم اور سیریلز کو بھی کم سے کم لینا چاہیے۔

انہوں نے بتایا ' ایک کیمیکل جو بطور خاص انسانی صحت کے لیے نقصان کا باعث ہیں اور ان مصنوعی مٹھاس والی اشیائے خوردو نوش میں' aspartam' ہے جو مصنوعی مٹھاس والی ساٹھ فیصد اشیا میں کام آتا ہے ۔ نیز ٹوتھ پیسٹ اور جیمز وغیرہ میں استعمال کیا جانے والا کیمکل 'Acesulfame 'ہے۔

کلینیکل ڈائٹیشن اور الشرق ہسپتال فجیرہ کی ماہر غذائیات ڈاکٹرحنان ابراہیم خطیب کا کہنا ہے 'مارکیٹوں میں جو اشیا شوگر فری کہہ کر فروخت کی جاتی ہیں ان میں انسانی فائدے کی کوئی چیز نہیں بلکہ نقصان کی چیزیں ہوتی ہیں، حتیٰ کہ ان میں کلوریز بھی موجود نہیں ہوتی ہیں۔ '

ان کے مطابق ' یہ آنتوں میں خرابی پیدا کرنے والی ، معدے کا نظام خراب کرنے والی اور آہستہ آہستہ ذیابیطس کا باعث بنتی ہیں۔ '

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں