متحدہ عرب امارات میں نافذالعمل نئی بے روزگاری انشورنس اسکیم کیا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

متحدہ عرب امارات میں نئی بے روزگاری انشورنس اسکیم گذشتہ ہفتے سے نافذالعمل ہوگئی ہے۔اس میں ایسے غیرملکی مکینوں اورمقامی شہریوں کے لیے ایک حفاظتی نیٹ ورک پیش کیا گیا ہے جو برسرروزگارنہیں رہے ہیں اور انھیں مختلف وجوہ کی بنا پر ملازمتوں سےہاتھ دھونا پڑے ہیں۔

اس پروگرام کو وسیع تر اصلاحات کے حصے کے طور پرمئی میں متعارف کرایا گیا تھا۔اس کا مقصد ملک میں زیادہ سے زیادہ ٹیلنٹ اور سرمایہ کاری کو راغب کرنا تھا۔العربیہ نے متحدہ عرب امارات میں قانونی ماہرین سے رابطہ کیا۔انھوں نے اس نئی اسکیم کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالی ہے۔

کیا کچھ شامل ہے اورکون اہل ہے؟

متحدہ عرب امارات کی وزارت برائے انسانی وسائل اورمقامی کاری (ایم او ایچ آر ای) کی جانب سے رواں ماہ کے اوائل میں کیے گئے اعلان کے مطابق نئی بے روزگاری انشورنس اسکیم کے تحت بیمہ شدہ افراد اپنی ملازمت سے محروم ہونے کی صورت میں تین ماہ کی مدت تک ایک مخصوص نقد رقم کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔

متحدہ عرب امارات میں قائم پی آر او پارٹنر گروپ کے سی ای او نذر موسیٰ نے العربیہ کو بتایا کہ نئی اسکیم ’’زیادہ تر ملازمین کو فائدہ پہنچانے کے لیے وضع کی گئی ہے‘‘۔

موسیٰ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس اسکیم کے تحت کسی ملازم کے بے روزگار ہونے کی تاریخ سے تین ماہ تک نقد رقم کی شکل میں معاوضہ ادا کیا جائے گا‘‘۔

یواے ای میں قائم ایک اورقانونی فرم بی ایس اے لیگل کے پارٹنر اور ہیڈ آف انشورنس اینڈ ری انشورنس سائمن اسگر نے بتاتے ہیں کہ’’ بے روزگار افراد ملازمت سے برطرفی کے بعد معاوضے کے طور پر ملازم کی فی کلیم تن خواہ کا کم سے کم 60 فی صد کا دعویٰ کرسکیں گے۔البتہ وہ ملازمین اسکیم کے تحت کچھ شرائط پر پورا اُترتے ہوں‘‘۔

اس اسکیم کا اہل ہونے کے لیے برطرف ملازم کو کم سے کم 12 مسلسل مہینوں کے لیے انشورنس کی ضرورت ہوتی ہے۔اس کا حساب اس تاریخ سے لگایا جاتا ہے جب اس نے پہلی بار اسکیم سے استفادہ کیا تھا۔

موسیٰ نے مزید کہا، "اس اسکیم سے سرمایہ کار (جیسے کسی ایسی جگہ کے مالکان جہاں وہ کام کرتے ہیں)، گھریلو معاونین، جزوقتی ملازمین، 18 سال سے کم عمر کے کارکن اور ریٹائرڈ افراد مستثناہیں جو پنشن وصول کرتے ہیں اور نئے کام کا آغاز کرچکے ہیں۔

جن ملازمین کو تادیبی وجوہ کی بناپربرطرف کیا گیا ہے،وہ معاوضہ وصول کرنے کے اہل نہیں ہوں گے۔

دیگر خلیجی ممالک جیسے سعودی عرب، عمان، قطر اور کویت اس سے قبل بھی شہریوں کو کسی نہ کسی طرح کی بے روزگاری کی مد میں امداد مہیا کرتے ہیں۔بحرین میں رہائشی،غیرشہری کارکنوں اور شہریوں کے لیے بے روزگاری انشورنس کی ایک شکل نافذالعمل ہے۔

اسگر نے وضاحت کی کہ ’’اس اسکیم کوایک عبوری مالی اقدام کے طور پر سمجھا جانا چاہیے تاکہ بے رو گار ہونے والے ملازم کو کسی دوسری جگہ ملازمت تلاش کرنے میں مدد مل سکے۔ملازم انشورنس کے تحت معاوضہ کوریج کے مزید ادوار پربات چیت کرسکتا ہے۔تاہم ، ہم توقع کرتے ہیں کہ اس کے لیے مزید توثیق وتصدیق کی ضرورت ہوگی اور یہ معاوضہ ادا کی جانے والی اعلیٰ پریمیم ادائی سے مشروط ہوگا‘‘۔

معاوضہ کیسے مل سکتا ہے؟

بنیادی طور پر، ملازم یہ پالیسی لے گا اور متحدہ عرب امارات کی انشورنس کمپنی کے ساتھ قانون کے مطابق خدمات مہیا کنندہ کے طور پرپریمیم طے کرے گا۔

اسگر نے مزید وضاحت کی کہ ’’ہمارے خیال میں انشورنس کمپنی کو قانون کے مطابق فوائد کا کم سے کم سیٹ پیش کرنے کی ضرورت ہوگی، لیکن ملازمین، اگر وہ چاہیں تو، انشورنس کمپنی کے ساتھ انشورنس پالیسی کے تحت مزید فوائد پر بات چیت کرسکتے ہیں‘‘۔

نئے سوشل سکیورٹی پروگرام میں متحدہ عرب امارات کے شہریوں اور رہائشیوں دونوں کا احاطہ کیا گیا ہے اور یہ لازمی ہے۔تمام ملازمین اس اسکیم میں ادائی کریں گے، لیکن ابھی تک حکام کی طرف سے یہ نہیں دیکھا گیا ہے کہ تن خواہ سے کٹوتی کے طور پر، یا براہ راست آجر کے ذریعہ کس طرح سے شراکت کی جائے گی۔

موسیٰ نے کہا کہ ہم نے جو کچھ سنا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بنیادی بیمے کے لیے سالانہ 40 درہم سے 100 درہم تک کا چندہ دیا جا سکتا ہے۔تاہم، پالیسی کو حتمی شکل دینے کے بعد ملازمین اعلیٰ درجے کا انتخاب کرسکتے ہیں۔

فوائد کیا ہیں؟

متحدہ عرب امارات کی حکومت کی جانب سے حالیہ اصلاحات کے تحت جن رہائشیوں کے ویزے منسوخ کر دیے گئے ہیں وہ اب 30 دن کے بجائے چھے ماہ تک ملک میں رہنے کے اہل ہیں۔

اسگر نے کہا:’’ہمیں یقین ہے کہ یہ اسکیم پیشہ ورانہ اور تکنیکی دونوں معیاروں کے لحاظ سے افرادی قوت کے معیارمیں اضافہ کرے گی، یہ جانتے ہوئے کہ انھیں ملازمت کے خاتمے کے بعد کسی نہ کسی طرح کا مالی تحفظ حاصل ہے‘‘۔

اسی طرح، آجروں کو ملازمین کے ایک باصلاحیت فائدہ ہوگا۔یواے ای کی کابینہ نے حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے ملازمت کی ضمانت کے ایک بڑے اقدام کے حصے کے طور پر اس اسکیم کی منظوری دی۔

موسیٰ نے کہا کہ ’’معاوضے کا نیا نظام سماجی تحفظ فراہم کرتا ہے اوراماراتیوں اوررہائشی ملازمین کو ان کی بے روزگاری کی مدت کے دوران میں پائیدار زندگی کو یقینی بناتا ہے اور کاروباری خطرات کو کم کرتا ہے‘‘۔

اسگر نے وضاحت کی کہ’’بے روزگاری انشورنس یا آمدن کا تحفظ گذشتہ کئی سال سے مارکیٹ میں رہا ہے ، بشمول متحدہ عرب امارات کی انشورنس مارکیٹ کی اسکیمیں، جواکثرکریڈٹ سہولت کے لیے بینک کے ضمانتی انتظامات کے ذریعہ پیش کی جاتی ہیں۔ انشورنس کمپنیاں ان مصنوعات کو ان کی توثیقی شرائط کی بنیاد پر پیش کرتی ہیں اور وہ کم قیمت ہوتی ہیں۔

مگر بیمے کی ان مصنوعات کوضرورت سے زیادہ استعمال نہیں کیا جاتا ہے۔نیزان کی تقسیم کم زور ہے۔ مگراب متحدہ عرب امارات کی حکومت نے منفرد اقدام کرتے ہوئے اس بیمہ کاری کا بوجھ بھی اٹھالیا ہے۔

اسگر نے وضاحت کی کہ انھوں نے ’’متعلقہ فریم ورک کے عمومی جائزے کے طورپر یہ تبصرے کیے ہیں اور ان پر انحصار نہیں کیا جانا چاہیے کہ وہ مخصوص مسائل پرمکمل قانونی مشاورت ہیں یا ان امور کا متبادل ہیں جو پیشہ ورانہ قانونی مشورے کے ساتھ حل کیے جاسکتے ہیں۔ان کی گفتگو کی نوعیت صرف عام تبصرے کی سی ہے اوراس کا مقصد قوانین کا جامع تجزیہ یا وضاحت کرنا نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں