مریم بن لادن سعودی عرب سے مصر تک پیراکی کرنے والی دنیا کی پہلی عرب خاتون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کی پیراک اوردانتوں کی ڈاکٹرمریم بن لادن اپنے وطن سے تیر کر مصر پہنچ گئی ہیں۔ وہ یہ کارنامہ انجام دینے والی دنیا کی پہلی عرب اور سعودی خاتون بن گئی ہیں۔

انھوں نے شارک کے خطرے کے باوجود مرجان کی چٹانوں کے تحفظ اور حیاتیاتی تنوع کے بارے میں شعوراجاگر کرنے کی غرض سے مصر میں سی او پی 27 سربراہ اجلاس کی جگہ تک پہنچنے کے لیے بحیرہ احمر کو عبورکیا ہے۔مختلف انواع خاص طور پرموسمیاتی تبدیلی کے خطرے سے دوچار ہیں۔20 سے زیادہ مرجان انواع کو خطرے سے دوچار قراردیا گیا ہے اورامریکا کے خطرے سے دوچارانواع کے ایکٹ کے تحت دو کو معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار قراردیا گیا ہے۔

یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ مرجان کی چٹانوں میں کم سے کم 70 فی صد کمی واقع ہوگی یہاں تک کہ اگر عالمی حدت صرف 1.5 ڈگری درجہ حرارت تک محدود رہتی ہے اور اگر 2 ڈگری درجہ حرارت ہوجاتا ہے تو اس کی گرمی کے ساتھ ، دنیامیں مرجان کی قریباًتمام چٹانیں سنہ 2070 تک معدوم ہوسکتی ہیں۔

ڈاکٹرمریم بن لادن نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر اپنی پیراکی کی متعدد تصاویراور ویڈیوز پوسٹ کی ہیں۔ان میں ان کے طویل سمندری سفر کودستاویزی شکل دی گئی ہے۔

مریم بن لادن کے ساتھ اقوام متحدہ کے سمندروں کے سرپرست اور زبردست پیراک لیوس پگ بھی تھے۔آئندہ سی او پی 27 موسمیاتی سربراہ اجلاس 6 سے 18 نومبر تک مصر کے ساحلی سیاحتی مقام شرم الشیخ میں ہونے والا ہے۔

مریم بن لادن شامی پناہ گزینوں کے حقوق کی بھی علمبردارہیں، اس سے قبل انھوں نے شامی پناہ گزین بچّوں اوران کے مصائب کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کے لیے پیراکی کا ریکارڈ توڑاتھا۔انھوں نے 2015 میں یورپ سے ایشیا تک ترکی میں آبنائے ہیلیسپونٹ میں ساڑھے چارکلومیٹرپیراکی کی تھی۔وہ تیرکریہ سفر مکمل کرنے والی پہلی عرب خاتون بن گئی تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں