’کرنسی نوٹ جمع کرنے کا شوق ایسا سوار ہوا کہ اس کے لیے ملازمت چھوڑ دی‘

چالیس سال میں دس ہزار کرنسی نوٹ اور سکے جمع کرنے والے سعودی سے ملیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے محمد البراق مختلف ملکوں کے کرنسی نوٹ جمع کرنے کا مشغلہ اپنائے ہوئے ہیں۔ وہ گذشتہ چالیس سال سے دوسرے ملکوں کا سفر کرتے ہوئے ان ملکوں کی کرنسی اکھٹی کرتے رہے۔ آج ان کے پاس مختلف ملکوں کے مروجہ اور متروکہ کرنسی نوٹوں اور سکوں کی تعداد دس ہزار سے زیادہ ہوچکی ہے۔

محمد البراق نے کرنسی نوٹوں اور سکوں پر مشتمل ایک میوزم بھی بنا رکھا ہے اور اس کے گھر میں بنے کرنسی میوزیم کی شہرت دور دور تک پھیل چکی ہے۔

آثار قدیمہ کے سکے جمع کرنے میں دلچسپی رکھنے والے اور میوزیم کے مالک محمد البراق نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں 40 سال سے نایاب سکوں کو تلاش کر رہا ہوں۔ میرے پاس کاغذ سے بنے کرنسی نوٹ اور دھاتوں سے تیار کردہ سکوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے مشغلے کوآگے بڑھانے کے لیے ملازمت سے ریٹائرمنٹ لے لی اورخود کو اس کام کے لیے وقف کردیا۔

انہوں نے کہا کہ میوزیم کا مقصد نایاب سکوں اور کاغذ سے تیار کردہ کو محفوظ کرنا اور متعارف کرانا اور معاشرے اور ملکی و غیر ملکی تقریبات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ نایاب سکوں کو اکٹھا کرنا ایک خوبصورت مشغلہ ہے کیونکہ یہ مختلف ممالک کی ثقافت کو اکٹھا کرتا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے پاس جمع شدہ کرنسی نوٹوں اور سکوں کی نمائش کا اہتمام کیا جائے اور نوٹ جمع کرنے کے کلچر کو متعارف کرایا جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں