چہرے، گردن اور سینے پر باربار گرمی کے احساس ہوتو فوری ڈاکٹر سے رجوع کریں

ان ’’ہاٹ فلیشز‘‘ سے بعض اوقات جلد سرخ اور پسینے والی ہوجاتی، دل کی بیماری کا خطرہ بڑھ جاتا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

نئی سائنسی تحقیق کے مطابق چہرے، گردن اور سینے پر بار بار گرمی کا احساس دل کی بیماری کے بڑھتے ہوئے خطرے سے منسلک ہوسکتا ہے۔ یہ ’’نا گہانی تپش‘‘عام طور پر چہرے، گردن اور سینے پر ہوتی ہے اور اس کی وجہ سے جلد سرخ ہو جاتی ہے جس سے پسینہ بھی آ سکتا ہے۔ اسے’’ ہاٹ فلیشز‘‘ بھی کہتے ہیں۔ یہ تپیش اس وقت پیدا ہوتی ہے جب جسم بہت زیادہ گرمی کھو دیتا ہے۔ لہذا انسان کو سردی لگ سکتی ہے۔ رات کے پسینے بھی ہاٹ فلیشز میں ہوتے ہیں جس کی وجہ سے جسم کو بعد میں ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے۔

جریدے مینوپاز کا حوالہ دیتے ہوئے ویب سائٹ بولڈسکی نے کہا ہے کہ ہاٹ فلیشز کی سب سے عام وجہ قلت حیض کی بیماری "ایمینوریا" ہے۔ اس بیماری میں ماہواری بے قاعدہ ہوتی ہے اور آخر کار رک جاتی ہے۔

خونی وریدوں کے کام کا ٹیسٹ

اس تحقیق جس میں خاص طور پر "اینڈوتھیلیم" اور خون کی شریانوں کے کام کو دیکھا گیا کے مطابق "نا گہانی تپش" دل کی بیماری کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔

تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ایتھروسکلروسیس کی پیشن گوئی کرنے میں ایک اہم عنصر دل کی بیماری کی ایک شکل ہے جو خون کی نالیوں کے پھیلنے اور سکڑنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے۔ یہ اینڈوتھیلیل کے فنکشن کا ایک جائزہ ہے۔ اگر علاج نہ کیا گیا تو ایتھروسکلروسیس مزید سنگین قلبی مسائل کا باعث بن سکتا ہے جیسے کہ دل کا دورہ یا فالج اور علاج نہ کرنے کی صورت میں دل کام کرنا چھوڑ بھی سکتا ہے۔

الٹراساؤنڈ اور خون کے ٹیسٹ

اس تحقیق میں 40 سے 60 سال کی عمر کے 272 شرکا کا جائزہ لیا گیا۔ان شرکا کو روزانہ یا مسلسل ہاٹ فلیشز کا مسئلہ تھا ۔ ان کی دل کی بیماری کی کوئی تاریخ بھی نہیں تھی۔

محققین نے خواتین میں ہاٹ فلیشز کی نگرانی کی۔ ان کے خون کی جانچ کی گئی اور الٹراساؤنڈ کے ذریعے اینڈوتھیلیل فنکشن کا جائزہ لیا گیا۔ محققین کو 54 سے 60 سال کی عمر کی خواتین میں ہاٹ فلیشز اور عروقی خرابی کے درمیان کوئی تعلق نہیں ملا۔

خطرے کی عمر 40 اور 53 سال

تاہم ’’ ہاٹ فلیشز‘‘ کو 40 اور 53 سال کے درمیان کی عمر کی خواتین میں اینڈو تھیلیل کے ناکارہ ہونے سے منسلک کیا جا سکتا تھا۔ اینڈو تھیلیل خون کی وریدوں کے لائنر کو کہا جاتا ہے ۔ مطالعہ کے نتائج بتاتے ہیں کہ ہاٹ فلیشز والی کم عمر خواتین میں خون کی شریانوں کا کام خراب ہو سکتا ہے اور جس سے قلبی صحت کے خطرات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ماہواری ختم ہونے کی عمر سے پہلے کے مسائل

تحقیق کے نتائج سے یہ بات سامنے آئی کہ جسمانی طور پر "ہاٹ فلیشز" کا تعلق قلبی تبدیلیوں سے ہوتا ہے۔ یہ تبدیلیاں "سن ایاس" یعنی ماہواری ختم ہونے کی عمر کے اوائل میں ہوتی ہیں۔ سن ایاس کو رجونورتی بھی کہا جاتا ہے۔ متعدد مطالعوں سے معلوم ہوتا ہے کہ کہ ’’ ہاٹ فلیشز‘‘ پہلے بیان کئے گئے وقت سے مختلف بھی ہوسکتے ہیں ۔ مثال کے طور پر مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ ’’ہاٹ فلیشز‘‘ رجونورتی کے دوران کے بجائے بعد کے تولیدی سالوں کے دوران شروع ہوسکتی ہیں۔ تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ "ہاٹ فلیشز" ایک دہائی سے زیادہ عرصہ تک چل سکتے ہیں۔

ابتدائی روک تھام کے طریقے

ماہرین کے مطابق اس تحقیق میں کم عمری میں خواتین کی صحت کا خیال رکھنے کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ ایک صحت مند غذا کھائیں جس میں چکنائی کم ہو اور فائبر زیادہ ہو اور اس میں مختلف قسم کے پھل، سبزیاں اور اناج شامل ہو۔ صحت مند وزن کو برقرار رکھنے کے علاوہ آپ کو کافی کیلشیم اور وٹامن ڈی حاصل کرنا ہوگی اور ساتھ ساتھ ہفتے میں کم از کم تین بار ورزش کا معمول بھی بنانا ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں