فیفاعالمی کپ:ارجنٹائن کے خلاف میچ کی فاتح سعودی ٹیم میں شامل شاہینوں کامختصرتعارف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

قطرمیں جاری فیفاعالمی کپ کے پہلے گروپ میچ میں سعودی عرب نے ارجنٹائن کوحیران کن طورپر شکست دی ہے اور اس بڑے اپ سیٹ کے بعد سعودی ٹیم کی فتح کی خبردنیا بھرکے میڈیا میں شہ سرخیوں کے ساتھ شائع اور نشر کی گئی ہے۔

سعودی عرب کی دو ایک کی فتح کا دنیا بھر میں جشن منایا گیا ہے اور اس نے جنوبی امریکی ٹیم کے 36 میچوں کے ناقابل شکست ریکارڈ کو ختم کردیا ہے۔ اس تاریخی میچ میں مملکت کی نمایندگی کرنے والے کھلاڑیوں کا مختصر تعارف قارئین کی نذرہے:

سالم الدوسری

سالم الدوسری سعودی عرب کی جانب سے ارجنٹائن کے خلاف دوسرا گول کرنے کے بعد خوشی کا اظہار کرتے ہوئے۔
سالم الدوسری سعودی عرب کی جانب سے ارجنٹائن کے خلاف دوسرا گول کرنے کے بعد خوشی کا اظہار کرتے ہوئے۔

ارجنٹائن کے خلاف فالکنز کے میچ کے 52 ویں منٹ میں گول کرکے ونگر سالم الدوسری نے تاریخ رقم کی تھی۔

31 سالہ کھلاڑی نے نہ صرف اس گول سے اپنے ملک کے لیے جیت حاصل کی ، بلکہ 2018 کے ورلڈکپ کے گروپ مرحلے میں مصر کے خلاف گول کرنے کے بعد سمیع الجابر کے ساتھ دوعالمی کپ مقابلوں میں گول کرنے والے دوسرے سعودی کھلاڑی بن گئے ہیں۔

الدوسری نے اپنے کیریئر کا آغاز الریاض کے الشباب کلب سے کیا تھا اور اس کے بعد وہ الہلال کا حصہ بن گئے تھے۔

انھوں نے 2018 میں ورلڈ کپ میں اپنے عالمی فٹ بال کیرئیر کا آغاز کیا تھا اوراس ٹورنا منٹ میں انھوں نے دو گول اسکور کیے تھے۔اگر وہ اس سال تیسرا گول کرتے ہیں تو وہ الجابر کے ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ گول کرنے کا ریکارڈ برابری کردیں گے۔

صالح الشہری

صالح الشہری نے ارجنٹائن کے خلاف سعودی عرب کا پہلا گول کیا تھا۔
صالح الشہری نے ارجنٹائن کے خلاف سعودی عرب کا پہلا گول کیا تھا۔

29سالہ صالح الشہری نے پرتگیزی کلب ایس سی بیرا مار میں اپنے فٹ بال کیرئیرکاآغاز کیا ،جہاں وہ مبیّنہ طور پرالاہلی کلب کی طرف سے ایک سال تک مستعار کھیلتے رہے تھے۔

وہاں ، موریرینس کلب کے خلاف ایک میچ میں ، انھوں نے اپنا پہلا گول اسکور کیا۔بعض لوگوں کے مطابق اس واقعے نے انھیں یورپ میں گول کرنے والا پہلا سعودی شہری بنادیا لیکن العربیہ اس دعوے کی تصدیق نہیں کرسکا۔

وہ فارورڈ اسٹرائیکر پوزیشن میں کھیلتے ہیں۔منگل کو ارجنٹائن کے خلاف میچ میں سعودی عرب کی طرف سے دو میں سے ایک اورپہلا گول انھوں پہ نے اسکور کیا تھا۔

محمدالاویس

سعودی گول کیپرمحمد الاویس نے ارجنٹائن کے خلاف مملکت کے میچ کے دوران میں پانچ یقینی گول بچائے اور 1 درست پاسوں کے ساتھ دنیا بھر کے تماشائیوں کو حیران کردیا۔31 سالہ الاویس کوان کی شاندار کارکردگی پر اس تاریخی میچ کا بہترین کھلاڑی قراردیا گیا ہے۔

ارجنٹائن کے خلاف میچ کی گرما گرمی کے دوران میں ایک افسوسناک واقعہ ہوا اورالاویس حادثاتی طور پر اپنے ساتھی یاسرالشہرانی سے ٹکراگئے۔الشہرانی اب اسپتال میں ہیں اورصحت یاب ہو رہے ہیں۔

یہ ان کا دوسرا ورلڈ کپ ہے ۔انھوں نے2018 میں روس میں منعقدہ ٹورنامنٹ میں پہلی مرتبہ سعودی عرب کی نمایندگی کی تھی۔الاویس نے 10 سال قبل سعودی عرب کے الشباب کلب سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا تھا اور اب وہ الہلال کی جانب سے کھیلتے ہیں۔

یاسرالشہرانی

سعودی دفاعی کھلاڑی یاسر الشہرانی کا اب تک کا فٹ بال کیریئرمتاثرکن رہا ہے۔ 30 سالہ کھلاڑی نے پہلی بار 2011 کے فیفا انڈر 20 ورلڈ کپ میں اپنی کارکردگی سے دوسروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانا شروع کی تھی جہاں انھوں نے گوئٹے مالا کے خلاف گول کیا تھا۔

ارجنٹائن کے خلاف میچ میں الشہرانی سعودی گول کیپرمحمد الاویس کے ساتھ ایک خوفناک تصادم میں زخمی ہوگئے تھے جس کی وجہ سے ان کاجبڑا ٹوٹ گیاتھا، چہرے کی بعض ہڈیاں ٹوٹ گئی تھیں اوراندر خون بہنا شروع ہوگیا تھا۔

الشہرانی کو پہلے دوحہ کے ایک اسپتال میں لے جایا گیا اور وہاں الریاض منتقل کردیا گیا۔اب ان کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔

وہ 2012 میں القدسیہ کلب سے الہلال میں منتقل ہوئے تھے۔2018 کے ورلڈ کپ میں مملکت کے حتمی اسکواڈ میں انھیں منتخب کیا گیا تھا۔

فراس البریکان

اسٹرائیکرفراس البریکان نے منگل کے روز ارجنٹائن کے خلاف ورلڈکپ کا اپنا پہلا میچ کھیلا۔88 ویں منٹ میں ہیثم عسیری نے ان کی جگہ لی تھی اور اس سے پہلے میچ کا زیادہ تر حصہ انھوں نے کھیلا تھا۔

22 سالہ کھلاڑی الأحساء میں قائم الفتح کلب کے لیے کھیلتے ہیں۔اس سے قبل وہ الریاض کے النصرکلب کے لیے کھیل چکے ہیں۔انھوں نے الفتح کے ساتھ اپنےکیریئرمیں 15 گول کیے ہیں، نیزالنصر کے لیے کھیلتے ہوئے چارگول کیے ہیں۔

سلمان الفرج

33سالہ مڈفیلڈرسعودی عرب کی قومی ٹیم کے کپتان ہیں۔ وہ الریاض میں قائم فٹ بال کلب الہلال کے سربراہ ہیں۔اس سے قبل وہ 2018 میں روس میں منعقدہ ورلڈ کپ میں سعودی قومی ٹیم کی نمائندگی کر چکے ہیں۔

الفرج زخمی ہونے کی وجہ سے سعودی ٹیم کے گذشتہ چند میچوں کا حصہ نہیں تھے۔ اطلاعات کے مطابق ان کھیلوں کے دوران میں میدان میں ان کی کمی شدت سے محسوس کی گئی تھی۔

وہ اس سے قبل ارجنٹائن، پولینڈ اور میکسیکو کے خلاف کھیل چکے ہیں۔اس تجربے کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ منگل کو میسی کی قیادت میں ٹیم کے خلاف سعودی عرب کی جیت میں وہ اپنے تجربے کے بروئے کار لائے ہیں۔

فیفا کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق ، "بائیں پاؤں سے کھیلنے والے سلمان الفرج ہرکھیل میں اوسطاً ایک شاٹ لیتے ہیں، ہر کھیل میں دفاع کے پیچھے اوسطاً 2.1 خطرناک پاس تیارکرتے ہیں (بشمول کراس ، گیندوں اور لمبی گیندوں کے ذریعے) ، نیزاوسطاً مخالف ٹیم کے 1.6حملوں کو توڑتے ہیں‘‘۔

الفرج سال کے آغاز میں تین ہفتوں تک زخمی رہے تھے لیکن انھوں نے اے ایف سی کوالیفائرز میں چین کے خلاف اپنی بہترین فارم کو دوبارہ دریافت کیا تھا۔ انھوں نے سعودی پروفیشنل لیگ میں الہلال کو دوبارہ ٹائٹل جیتنے میں مدد دینے میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔

عبداللہ المالکی

سعودی عرب کی قومی ٹیم کے 28 سالہ مڈفیلڈر عبداللہ المالکی فیفا کے 25 میچوں کا حصہ رہ چکے ہیں۔

2014 سے پانچ سال تک المالکی الہدیٰ کلب کے ساتھ رہے ہیں۔رپورٹس کے مطابق انھوں نے کلب کوپرو لیگ میں ترقی دلانے میں اہم کردارادا کیا۔بعد ازاں انھوں نے 2019 میں الاتحاد میں شمولیت اختیار کی اور 2021 میں الہلال کلب میں چلے گئے۔

گذشتہ سیزن کی پرو لیگ میں ، المالکی الاتحاد کے لیے 26 میچوں میں نمودار ہوئے۔انھوں نے دو گول اسکور کیے اور سوکر وے کے مطابق ،تین گول کرنے میں اپنی ساتھی کھلاڑیوں کی مدد کی تھی۔

اب وہ مبیّنہ طور پر الہلال کے ساتھ چارسالہ معاہدے کے تحت منسلک ہیں۔

سعودعبدالحمید

23 سالہ سعود عبدالحمید سعودی عرب کی قومی فٹ بال ٹیم کے لیے دفاعی پوزیشن پر کھیلتے ہیں۔ وہ الہلال کلب کا حصہ ہیں۔

ای ایس پی این کے مطابق انھوں نے سعودی عرب کی نمائندگی کرنے والی انڈر 20 اور انڈر 23 ٹیم کے ساتھ ایک سیزن ، الہلال کلب کے ساتھ دو سیزن اور الاتحاد کلب کے ساتھ ایک سیزن کھیلا ہے۔

اب تک انھوں نے فیفا کے 21 میچ کھیلے ہیں اوران میں ایک گول کیا ہے۔انھوں نے 2020 کے ٹوکیو اولمپکس میں سعودی عرب کی نمائندگی کی تھی۔

سعودی ٹیم کی نمائندگی کے لیے فیفاورلڈ کپ کے لیے منتخب ہونے کے بعد ، انھوں نے یہ ٹویٹ لکھا:’’ورلڈ کپ میں اپنے ملک کی نمائندگی کرنا بہت سے بچوں کا خواب ہے۔ آج مجھے اپنے ملک سعودی عرب کی نمائندگی کرنے پر فخرہے‘‘۔

محمد کانو

سعودی عرب کے مڈفیلڈر محمد کانو نے قطر میں 2022 ورلڈ کپ کے میچ میں گیند کو کنٹرول کررہے ہیں۔
سعودی عرب کے مڈفیلڈر محمد کانو نے قطر میں 2022 ورلڈ کپ کے میچ میں گیند کو کنٹرول کررہے ہیں۔

محمدکانو پہلی بار ورلڈ کپ میں سعودی عرب کی نمائندگی کررہے ہیں۔ انھوں نے 2018 میں روس میں ہونے والے عالمی کپ ٹورنامنٹ میں مملکت کے ابتدائی اسکواڈ کے لیے کوالیفائی کیا تھا۔

2017 میں ، کانو پانچ سالہ معاہدے پراتفاق کلب سے الہلال منتقل ہوگئے۔

حسن التمبکتی

ارجنٹائن کے لیونل میسی سعودی عرب کے حسن التمبکتی کے ساتھ گیند چھیننے کی کوشش میں!
ارجنٹائن کے لیونل میسی سعودی عرب کے حسن التمبکتی کے ساتھ گیند چھیننے کی کوشش میں!

التمبکتی فالکنز کے تاریخی میچ میں سینٹر بیک کے طورپرنمودار ہوئے۔ 23 سالہ کھلاڑی نے پورے 90 منٹ میچ کھیلا اور مجموعی طور پر 24 کامیاب پاس بنائے۔

انھوں نے مئی 2018 میں الشباب کے ساتھ اپنے پہلے معاہدے پر دستخط کیے تھے مگر انھیں مکہ کے الہدیٰ کلب کو مستعار دے دیا گیا تھا۔

وہ دفاعی کھلاڑی ہیں مگرقومی سطح پر اپنے انڈر 20 کیریئر میں دو گول اسکور کیے۔ ارجنٹائن کے خلاف ان کا ورلڈ کپ کا پہلا میچ تھا۔

علی آل بلیہی

 2019 میں فیفاکلب کپ میں اپنی ٹیم کی فتح کا جشن مناتے ہوئے الہلال کےدفاعی کھلاڑی علی آل بلیہی پانی کاچھڑکاؤ کررہے ہیں۔
2019 میں فیفاکلب کپ میں اپنی ٹیم کی فتح کا جشن مناتے ہوئے الہلال کےدفاعی کھلاڑی علی آل بلیہی پانی کاچھڑکاؤ کررہے ہیں۔

علی آل بليہی دوسری بار فیفا ورلڈ کپ میں سعودی عرب کی نمائندگی کررہے ہیں۔انھوں نے روس میں منعقدہ عالمی ٹورنامنٹ بھی کھیلا تھا۔33 سالہ دفاعی کھلاڑی 2017 سے الہلال کلب کے لیے کھیل رہے ہیں۔

آل بلیہی نے اپنے کیریئرکا آغاز 2011 میں العمل کلب سے کیا تھا،اس کے بعد 2014 میں النہضہ کے لیے کھیلا اور 2015 میں الفتح میں شمولیت اختیار کی تھی۔

محمدالبریک

محمدالبریک میچ کے دوران میں لیونل میسی کے ساتھ ایکشن میں!
محمدالبریک میچ کے دوران میں لیونل میسی کے ساتھ ایکشن میں!

ارجنٹائن کے خلاف میچ میں محمد البریک آخری چند منٹوں میں آئے تھے۔ انھوں نے یاسرالشہرانی کی جگہ لی جو اس وقت بری طرح زخمی ہوگئے جب گول کیپر محمد الاویس ایک شاٹ کو روکنے کی کوشش کے دوران میں ان سے ٹکرا گئے تھے۔

30 سالہ البریک الہلال کی جانب سے کھیلتے ہیں اور روس میں 2018میں منعقدہ ورلڈکپ میں سعودی عرب کی ٹیم کا حصہ تھے۔

ہیثم عسیری

فیفا عرب کپ 2021 کے گروپ سی فٹ بال کے دوران سعودی عرب کے فارورڈ ہیثم عسیری گیند کے ساتھ دوڑتے ہوئے۔

21 سالہ عسیری نے 88 ویں منٹ میں اسٹرائیکر فراس البریکان کی جگہ لی۔

الریاض سے تعلق رکھنے والے عسیری الاہلی کے ونگر ہیں۔ وہ پہلی مرتبہ فٹ بال عالمی کپ میں سعودی ٹیم کا حصہ ہیں۔

عبداللہ العمری

Abdulelah al-Amri

25 سالہ العمری نے 87 ویں منٹ میں نواف العابد کی جگہ لی تھی۔وہ 2019 سے مملکت کی سینیر قومی ٹیم کے لیے کھیل رہے ہیں۔وہ پہلی مرتبہ اے ایف سی کپ میں نمودار ہوئے تھے اورانڈر 20 اور انڈر 23 کی سطح پر کھیل چکے ہیں۔

العمری نے 2017 کے فیفا انڈر 20 ورلڈ کپ میں سعودی انڈر20 ٹیم کی کپتانی بھی کی تھی۔

سلطان الغنم

الغنم نے میچ کے 77 ویں منٹ میں گول اسکورر صالح الشہری کی جگہ لی تھی۔وہ تب زخمی ہوگئے تھے۔

28 سالہ الغنم الریاض کے النصرکلب کے لیے دائیں طرف کھیلتے ہیں۔اس سے پہلے وہ الفیصلی اور ال زلفی کے لیے کھیل چکے ہیں۔

نواف العابد

العابد کو 48ویں منٹ میں سلمان الفرج کی جگہ زخمی ہونے کی وجہ سے ٹیم میں شامل کیا گیا۔ 32 سالہ ونگر نے میدان میں 39 منٹ گزارے جس کے بعد ان کی جگہ عبداللہ العمری نے لے لی۔

العابد الشباب کلب کے لیے کھیلتے ہیں۔وہ اپنے کیریئرکا بیشتر حصہ الہلال میں گزارنے کے بعدالشباب میں شامل ہوئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں