تشدد سے بے گناہ کو موت کے گھاٹ اتارنے پرعدالت نے 49 افراد میں موت بانٹ دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

الجزائر کی ایک مقامی عدالت نے 49 افراد کو سزائے موت سنائی ہے۔ ان افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو تشدد کر کے ہلاک کر دیا تھا۔ تشدد سے ہلاک کیے گئے شخص پر یہ جھوٹا الزام لگایا گیا تھا کہ اس نے جنگل کو آگ لگائی تھی۔

واضح رہے الجزائر میں 1993 سے کسی شخص کو پھانسی نہیں دی گئی ہے۔ تشدد کر کے ہلاک کرنے والے تماشائیوں نے ایک 38 سالہ شخص جمال بن اسماعیل کو اس وقت مار مار کر ہلاک کر دیا تھا جب وہ یہ سن کر خود تھانے پہنچا تھا کہ اس پر جنگل کو آگ لگانے کا الزام لگایا گیا ہے، تماشائیوں نے اسے دیکھ اور پھر پکڑ کر مارنا شروع کر دیا، یہاں تک کہ اس کی پولیس تھانے میں ہی موت واقع ہو گئی۔

وہ صرف اس لیے مارا گیا کہ اس کے بارے میں یہ سنا گیا تھا کہ جنگل میں آگ اس نے لگائی ہے۔ جنگل میں لگی اس آگ سے 90 افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔

جمال بن اسماعيل
جمال بن اسماعيل

بعد ازاں انکشاف ہوا کہ جمال بن اسماعیل ملیانہ سے تعلق رکھنے والا ایک فنکار تھا اور وہ رضاکارانہ طور پر جنگل میں لگی آگ بجھانے اور لوگوں کی مدد کے لیے پہنچا تھا۔ افریقہ میں سب سے بڑے ملک الجزائر میں گذشتہ سال بحیرہ روم کے کنارے جنگلوں میں وسیع پیمانے پر آگ لگ گئی تھی۔

اس آگ لگنے پر تشدد سے مارے گئے ایک شہری کے قتل کے الزام میں دار البیدہ کی عدالت نے گذشتہ روز 49 افراد کے لیے سزائے موت کا حکم جاری کیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے پی ایس کے مطابق یہ سزائے موت بن اسماعیل کو تشدد سے مارنے اور بعد ازاں اس کی لاش مسخ کرنے کے باعث سنائی گئی ہے۔ علاوہ ازیں 28 دوسرے افراد کو اسی مقدمے میں سزائے قید بھی سنائی ہے۔

واضح رہے تشدد سے موت کے گھاٹ اتار دینے کے اس واقعے کی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح ایک شخص کو پولیس وین سے نکال کر ہجوم مار رہا ہے۔ پھر اسے آگ لگائی جاتی ہے اور بعض تشدد کرنے والے اس موقع پر اپنی سیلفیاں بناتے ہیں۔

اس ویڈیو کے وائرل ہو جانے پر پورے الجزائر میں شدید غم وغصے کی فضا بن گئی تھی۔ انسانی حقوق کے ادارے نے لوگوں سے پر سکون رہنے کی اپیل کی اور اس بہیمانہ قتل کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے مین لانے کا مطالبہ کیا۔

الجزائر کے جنگوں میں امسال اگست لگنے والی آگ
الجزائر کے جنگوں میں امسال اگست لگنے والی آگ

یہ ویڈیو بن اسماعیل کے اہل خانہ کے لیے مزید تکلیف کا باعث بنی۔ تاہم بن اسماعیل کے والد نور الدین بن اسماعیل نے ملک مین امن اور بھائی چارے کی فضا کی اپیل کی۔ ان کے اس جذبے کو ہر جگہ سراہا گیا۔

یہ بھی معلوم ہوا کہ جنگل میں تیزی سے پھیلنے والی والی آگ گرمی کی شدید ترین موسمیاتی لہر کی وجہ سے لگی تھی۔ تاہم حکام کا دعویٰ یہی تھی کہ آگ لگائی گئی ہے۔

اس کا الزام ایک آزادی چاہنے والے ایک بربر گروپ 'ایم اے کے' پر بھی لگایا گیا، جس کا سربراہ فرانس میں جلا وطنی کاٹ رہا ہے۔ حکام پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ حکام نے آگ سے نمٹنے کی کوئی تیاری نہیں کر رکھی تھی اس لیے الزام تراشی کی جاتی رہی۔

خیال رہے الجزائر کا بڑا حصہ صحرا پر مشتمل ہے اور دس ملین ایکڑ جنگل پھیلا ہوا ہے۔ موسم گرما میں ہر سال اس جنگل میں آگ لگ جاتی ہے۔ موسمیاتی تبدیل کے عالمی چیلنج کے دوران گرمی میں انے والی شدت سے الجزائر کے وسیع جنگل میں آگ لگنے کا خطرہ مزید زیادہ ہو سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں