سعودی تاریخی علاقے الباحہ کی نئی یادداشت اور تصاویر مرتب

نئی پیش کش میں برطانوی سیاح کے ٓ76 سال قبل کے دورے سے موازنہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

تاریخی ورثہ کے تحقیق کار فہد الطلیسی نے جنوب مغربی سعودی عرب کے تاریخی علاقے الباحہ کا دورہ کیا اور اس علاقہ کی نئی تصاویر کے ساتھ تصویر کشی کی اور حالات کو تحریری طور پر سامنے لائے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں کا دورہ 1946 میں برطانوی سیاح ولفریڈ تھیسی گر نے کیا تھا۔ فہد الطلیسی نے تھیسی گر کے نقش قدم پر چلتے ہوئے الباحہ کے متعلق نئی معلومات فراہم کی ہیں۔

برطانوی سیاح، جو "مبارک بن لندن" کے نام سے معروف ہو گئے تھے، نے جزیرہ نما عرب کے علاقے میں اپنی سرگرمیوں کوانجام دیا۔ انہوں نے سعودی عرب، یمن، امارات، عمان اور عراق کے دورے کئے۔ انہوں نے ان اسفار کے متعلق کئی کتابیں لکھیں جن میں سب سے زیادہ مشہور ’’عرابین سینڈز‘‘ ہوئی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ساتھ اپنے انٹرویو میں فہد الطلیسی نے ان وجوہ سے آگاہ کیا جنہوں نے انہیں ان مناظر کو دوبارہ اسی زاویے سے تصاویر کی شکل میں لانے پر آمادہ کیا تاکہ 1946 اور 2022 کی تاریخوں کے درمیان رونما ہونے والے اختلافات اور تبدیلیوں کو دیکھا جا سکے۔ انہوں نے کہا میں نے الظفیر اور بنی سعد ان علاقوں میں سے ہیں جہاں کا میں نے دورہ کیا، اسی طرح غامد الزناد، العرضیات، سبت العلایہ، بلجرشی، وادی القلوب اور المندق وہ معروف مقامات ہیں جہاں کا دورہ کیا گیا۔

مسافر نے کیا کہا؟

اپنے انٹرویو میں سعودی محقق فہد نے اس مسافر کی بات کا بھی حوالہ دیا کہ المخواہ ایک ممتاز مقام پر ہے، یہ وادیوں کے سنگم پر سطح مرتفع پر واقع ہے، یہ شہر شدا اور پہاڑوں کے کنارے کے درمیان ہے۔ یہاں وادیاں اور کٹی ہوئی پہاڑیاں ایک دوسرے سے مل جاتی ہیں۔ ان چوٹیوں پر بہت سے قدیم دیہات کی باقیات پائی جاتی ہیں۔ یہاں پر کافی، نمک، کپڑا، مٹی کے برتن، چٹائیاں، ٹوکریاں، رسیاں، چکی کے پتھر، ساگ، شہد اور خوشبودار جڑی بوٹیاں پائی جاتی ہیں۔

الطلیسی نے اشارہ کیا کہ یہ یادداشتیں 1946 کے دور کے حالات اور تفصیلات کا تاثر دیتی ہیں۔ ان سے اس علاقے کے بازار، مقامات، علامتوں، تجارتی مقامات کا معلوم ہوتا ہے۔ یہ یادداشتیں کچھ اہم شخصیات کے بارے میں بھی بتاتی ہیں، اس کے سفر کی تصاویر کا پتہ چلتا ہے اور یہاں کے لوگوں کی روزمرہ کی زندگی گزارنے کا پتہ چلتا ہے۔ اسی سفر کے بعد تھیسی گر نے اپنی کتاب ’’ ؤاے جرنی تھْرو دا تہاما، دا عسیر اینڈ دا حجاز ماؤنٹینز‘‘ لکھی۔

دونوں سفروں میں فرق

فہد الطلیسی نے اندازہ لگایا کہ تھیسی گر نے جمعرات کے بازار کے بارے میں کہا تھا کہ غامید اور ظہران کے قبائلی خنجروں سے لیس بڑی تعداد میں اس بازار کا دورہ کرتے ہیں۔ جیسا کہ تمام حجاز میں رواج ہے وہ اپنے بیرونی لباس پر سرخ لکیروں کے ساتھ مخصوص نمونوں میں کڑھائی کرتے ہیں۔ خوشبو لگاتے ہیں اور ان میں سے کچھ افراد چاندی یا سونے کے دھاگوں سے مزین سرپوش پہنتے ہیں۔

انہوں نے اس قدیم روایات اور اب کے حالات کے درمیان فرق بیان کرتے ہوئے کہا کہ تھیسی گر کی فوٹو گرافی میں گاؤں پہاڑ کی چوٹی پر تھا اور اس کے نیچے جہاں تک آنکھ نظر آتی تھی زرعی چھتیں تھیں۔ کھیتی باڑی کی تیاری میں زمینوں پر ہل جوتا جا رہا تھا۔ اس وقت تصویر کھینچنے میں دشواری پیش آتی تھی۔ تاہم اب خطے میں سابقہ ادوار کے مقابلے میں حالات مستحکم ہیں۔ ظاہر ہے تھیسی گر کا دورہ تیسری سعودی ریاست کی نشاۃ ثانیہ کے آغاز میں ہی ہوا تھا اور اس وقت حالات کافی مختلف تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں