ترک انٹیلی جنس تحقیقات میں الاخوان المسلمون پر منی لانڈرنگ اور جاسوسی کے الزامات

ترکیہ میں اخوان کے ارکان سے مصر میں دہشت گردی کی کارروائیوں کی تفتیش کی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

العربیہ اور الحدث چینلز کو ذرائع کے حوالے سے ملنے والی معلومات میں بتایا گیا ہے کہ ترک انٹیلی جنس نے الاخوان المسلمون کے ارکان سے مصر میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے تفتیش کی ہے ۔ ترکیہ کی انٹیلی جنس تحقیقات میں اخوان پر شام میں داعش کی حمایت کے الزامات کو بھی شامل کیا گیا۔

العربیہ اور الحدث کے ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ اخوان کے ساتھ ترک انٹیلی جنس تحقیقات میں منی لانڈرنگ کی کارروائیوں میں ان کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ ترکی نے اخوان کے ارکان پر عرب کمیونٹیز کی جاسوسی کیلئے نوجوانوں کو بھرتی کرنے کا بھی الزام لگایا۔

تفصیلات میں العربیہ اور الحدیث کے ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ ترکی میں اخوان کے متعدد ارکان سے تحقیقات اس نقطہ کے گرد گھرم رہی ہے کہ وہ مصر میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں کس حد تک ملوث تھے اور انہوں نے ملک سے باہر دہشتگردی کی منصوبہ بندی کیسے کی تھی۔

عسکریت پسندوں کو شام اور لیبیا منتقل کرنا

ذرائع نے بتایا کہ ترکیہ کی انٹیلی جنس سروس اخوان کے ارکان کے معاملات کی چھان بین کر رہی ہے کہ وہ شام اور لیبیا میں جنگجوؤں کی منتقلی میں ملوث تھے اور انہوں نے شام میں مسلح گروپوں میں شامل ہونے کے لیے اخوان کے ارکان کی منتقلی میں کس طرح سہولت فراہم کی تھی۔

ذرائع کے مطابق ترک انٹیلی جنس نے گزشتہ چند دنوں کے دوران ترکی میں الاخوان المسلمون سے وابستہ ان عناصر کے بارے میں چھان بین کی ہے جو شام میں دہشت گرد تنظیم داعش سے منسلک ہیں۔ یہ عناصر سابق ادوار میں اس تنظیم کو مالی مدد فراہم کرنے میں بھی ملوث رہے ہیں۔

ترک انٹیلی جنس تحقیقات سے اخوان سے وابستہ عطیات، فنڈز اور انجمنوں کا انکشاف ہوا جنہوں نے داعش سے وابستہ خاندانوں کی مدد کی اور شامی ثالثوں کے ذریعے تنظیم کے عناصر کی مالی مدد کی۔

ذرائع نے مزید کہا کہ ترکیہ نے اخوان کے مزید ارکان کو ترکیہ میں داعش کے متعدد ارکان کی جانب سے رقم کے عوض شامیوں اور دیگر قومیتوں کے لیے رہائش اور پاسپورٹ کی جعلسازی کے پس منظر میں گرفتار کیا ہے۔

منی لانڈرنگ کی کارروائیاں

ترک انٹیلی جنس تحقیقات میں ترکی کے اندر اخوان کے متعدد ارکان اور دیگر عناصر کے ملوث ہونے کا بھی انکشاف ہوا ہے جو منی لانڈرنگ کی کارروائیوں کیلئے لندن گئے تھے اور ترکیہ میں ہسپتالوں کو کھولنے سے غیر ملکی شخصیات کے اعضاء کی غیر قانونی پیوندکاری میں نمائندگی کی گئی تھی۔

حیران کن بات یہ بھی ہے کہ ترکیہ نے گزشتہ 90 دنوں کے دوران اخوان کے متعدد ارکان کو مسلح تنظیموں کے ساتھ تعلقات کی بنا پر اور مصر میں دہشتگردانہ کارروائیاں کرنے والے خطرناک عناصر کے خاندانوں کیلئے چندہ جمع کرنے کی وجہ سے ملک بدر کردیا ہے۔

تحقیقات میں انکشاف کیا گیا کہ ترکیہ میں اخوان کے عناصر اخوان سے وابستہ نوجوانوں اور ان کے اہل خانہ کو دہشت گرد تنظیموں میں شمولیت کیلئے سہولت فراہم کرنے میں ملوث رہے ہیں۔

اخوان کے ارکان نے گزشتہ مہینوں کے دوران لندن اور امریکہ کے بینکوں میں بڑی مقدار میں رقم منتقل کی ہے اور اس رقم کا اصل ذریعہ نامعلوم ہے۔ اخوان کے متعدد رہنماؤں کے ترکیہ میں منی لانڈرنگ کی منظم کارروائیوں میں ملوث ہونے کا معلوم ہوا ہے۔

اب ترک سیکورٹی سروسز نے اخوان سے وابستہ ان انجمنوں کو بند کر دیا جن کا تعلق شام اور یمن میں امدادی کاموں سے ہے۔ کیونکہ یہ انجمنیں دہشت گرد عناصر کی حمایت میں ملوث تھی۔

تحقیقات سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اخوان کے عناصر ترکیہ میں عرب کمیونٹیز کی جاسوسی میں ملوث ہیں، یہ عناصر عرب کمیونٹیز سے متعلق معلومات اکھٹا کرتے ہیں، اس مقصد کیلئے نوجوانوں کو بھرتی کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں