مرحوم بیوی کی گریجویشن تقریب میں شوہر کی شرکت، شرکا آبدیدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

محبت اور وفاداری کے ایک منظر میں، قانون کی فیکلٹی کے ڈین، بانی اور سابق ماہر تعلیم محمد مطلق الا شيقر نے اپنی اس اہلیہ کے نام کا اعلان کرتے ہوئے اپنے آنسو روکنے کی بھرپور کوشش کی تاہم جیسے ہی انہوں نے اپنی اہلیہ کا اعزازی سرٹیفکیٹ حاصل کیا تو آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے۔ دراصل ان کی اہلیہ اپنی اعزازی ڈگری وصول کرنے سے قبل ہی فوت ہوگئی تھیں۔

مطلق الا شيقر نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگومیں ان خصوصی لمحات کے احساسات کا بتایا۔ انہوں نے کہا ڈگری نوازے جانے کا یوم تکریم ایک ایسا دن ہے جس کا میں اور میری اہلیہ طویل عرصے سے انتظار کر رہے تھے۔ اس نے اپنی ملازمت کے باوجود اور کرونا وبا میں مبتلا ہونے کے باوجود تعلیم حاصل کرنا شروع کی تھی۔ اس نے پوری سنجیدگی اور تندہی سے اپنا ماسٹر کا تھیسز مکمل کیا تھا۔ مقالہ مکمل ہونے پر سب نے اس کی تعریف کی تھی۔ اس کی ہر طرف سے تعریف ہی تعریف کی جارہی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں اس کی پڑھائی کے تمام مراحل میں اس کے ساتھ تھا۔ اور خدا نے اس کو مالی، نفسیاتی اور فکری تعاون فراہم کرنے میں میری مدد کی اور وہ اس مرحلہ تک پہنچ گئی۔ پھر میں نے اس کی موت سے کچھ دیر پہلے اس سے گریجویشن کی تقریب میں شرکت کے لیے درخواست دی تھی۔ اسے کے بعد سے مجھے ڈر محسوس ہو رہا تھا۔ میں خوفزدہ تھا کہ کہیں وہ اعزازی تقریب میں موجود نہ ہو اور حقیقت میں ایسا ہی ہوگیا۔ تقریب سے پہلے اس کے مکمل نتائج اسے موصول نہیں ہوئے تھے۔ جب میں نے اسے بتایا کہ اس نے ماسٹر کی ڈگری مکمل کر لی ہے تو وہ بستر برگ پر تھی۔ اپنی ماسٹر کی ڈگری مکمل ہونے پر وہ ایک مسکراہٹ کےساتھ مسکرائی جس نے میرے دل کو گرما دیا۔

ماہر تعلیم مطلق الا شيقر نے بات جاری رکھی اور کہا اللہ نے گریجویشن کی تقریب سے چند روز قبل اسے اپنے پاس بلا لیا۔ میری خواہش تھی وہ اس تقریب میں موجود ہوتی اور اپنے کارنامے کو دیکھتی۔ اس صورتحال نے میرے دل کو نچوڑ کر ر کھ دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں اس لیے یہاں آیا ہوں کہ میں اسے "انا" یعنی "میں" کہتا تھا اور یہ اس لئے تھا کہ میرے لئے وہ "میں" ہی تھی۔ مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس دنیا سے چلی بھی گئی مگر پھر بھی میرے دل میں ہی ہے اور میں اس کی موجودگی کو اپنے ارد گرد محسوس کر رہا ہوں۔

انہو ں نے مزید کہا اس وقت جسمانی تھکاوٹ اور نفسیاتی درد کے باوجود میں نے اس تقریب میں اپنی موجودگی کو لازم سمجھا کیونکہ مجھے محسوس ہوا جیسے کوئی مجھے اندر سے یہاں آنے کیلئے دھکیل رہا ہو۔ میں نے کہا کہ وہ اس اعزاز کی مستحق ہے اور یہاں میری موجودگی کی بھی مستحق ہے۔ وہ عزت اور تعریف ، محبت اور احترام کی ایک مثال ہے۔

مطلق الا شيقر نے بتایا کہ ان کی اہلیہ نے 3 یونیورسٹیوں سے گریجویشن کیا تھا۔ میں نے اپنی گریجویشن کے بعد ایک بھی تقریب میں شرکت نہیں کی اور اس کی اعزازی تقریب پہلی اعزازی تقریب ہے جس میں میں نے شرکت کی ہے کیونکہ اس کی اعزازی اور گریجویشن کی یہ تقریب میرے لیے سب کچھ تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں