تبوک میں "صحرا حسمی" کے پہاڑوں کے دلکش مناظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے شمال مغرب میں واقع "صحرائے تبوک میں حسمی صحرا" میں شاندار پہاڑی نوعیت کے شاندار مناظر پائے جاتے ہیں۔ سعودی عرب کی پریس ایجنسی "ایس پی اے" کے فوٹو گرافر نے اس صحرا میں مشہور چٹانوں کی نقش و نگار کی خصوصیات کو کیمرے میں محفوظ کیا۔ یہ حیرت انگیز مناظرقدرت کی کاری گری کی بہترین مثال ہیں۔

ماہر ارضیات پروفیسر عبدالعزیز بن لبون کے مطابق ریتیلے پہاڑ صحرائے حسما کو قدرتی حسن اور ارضیاتی جہت دیتے ہیں جہاں پر موجودہ پہاڑ تاریخ کے ریکارڈ میں پھیلے ہوئے ہیں جو کہ 500 ملین سال سے زیادہ پرانے ہیں ۔

انہوں نےسعودی پریس ایجنسی کو ایک بیان میں کہا کہ ہزاروں برسوں کے دوران ان پہاڑوں نے ایسی شکلیں اختیار کرلی تھیں جو اب سیاحوں اور سیاحت کے لیے دلکش مناظر پیش کرتے ہوئے ایک کھلے میوزیم کی طرح بن گئےہیں۔ سیاح ان کے قدرتی حسن کو دیکھتے چلے جاتے ہیں۔ وہ اس قدر اس کے قدرتی حسن میں کھو جاتے ہیں کہ انہیں تھکاوٹ تک کا احسا نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ یہ واضح ہے کہ صحرائے حسمیٰ کے پہڑوں میں ریت کے پتھر اور مٹی ہیں۔ ان کی وادیوں اور زمینی تہوں میں زیر زمین پانی کے ذخائر پر ہیں۔ ان کی چٹانوں کی سطحوں کو مزین کرتے ہیں۔ وہاں پر موجود چٹانوں میں راک آرٹ کے نموں بھی ملتے ہیں۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ اس جگہ سے کچھ عربی نوشتہ جات دریافت ہوئے، جنہیں بعد میں حسمائی بولی کے نام سے جانا جاتا ہے جو کہ نبطیوں کی بولی سے ملتی جلتی عربی بولی ہے۔ یہ پہلی عربی تحریر ہے جس میں حروف ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں جیسا کہ کوفی رسم الخط میں ہوتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں