کون سے جاندار سعودی عرب میں مکمل طور پر ناپید ہو چکے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے نیشنل سینٹر فار وائلڈ لائف ڈویلپمنٹ نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے بتایا کہ عربی شیر، عربی شترمرغ، چیتا اور سعودی ہرن ان جنگلی جانداروں میں شامل ہیں جو سعودی عرب کی سرزمین سے مکمل طور پر ناپید ہو چکے ہیں۔

ان معدوم ہونے والے جانوروں کے بارے میں جنگلی حیات میں دلچسپی رکھنے والے اور "رحمہ" ایسوسی ایشن فار اینیمل ویلفیئر کے ترجمان حمزہ الغامدی نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایا کہ سعودی ہرن معدوم ہو چکا ہے اور یہ اس نام کی ایک آزاد نسل ہے۔ اس کے معدوم ہونے کا باضابطہ طور پر 2008ء میں اعلان کیا گیا تھا، تاہم امید ہے اس کی نسل کو دورباہ دریافت کرلیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ عربی چیتا تیز ترین ممالیہ جانور ہے جو تقریباً پچاس سال پہلے معدوم ہو گیا تھا۔ یہ بلی کے خاندان کی ایک منفرد نوع ہے اور اس کی خصوصیت بہت زیادہ چست ہے۔

الغامدی نے کہا کہ عرب شیر کے بارے میں عرب شعرا نے بہت سی نظمیں لکھ رکھی ہیں مگر یہ جانور سعودی عرب میں 100 سال سے زائد عرصہ قبل ناپید ہو گیا تھا، اور یہ ایشیائی شیر جیسا ہے، لیکن یہ باقی شیروں کے مقابلے سائز میں چھوٹا ہے۔ چٹانوں اور ریتلی علاقوں میں رہتا ہے۔ عربی شتر مرغ کے بہت سے قدیم انڈے کے خول ربع الخالی ، صحرائے نفود اور دیگر جگہوں کی ریت میں پائے گئے ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ سعودی عرب کی جغرافیائی توسیع نے جنگلی حیات کے لیے ایک خطہ اور دوسرے خطے کے درمیان بڑا اور غیر مساوی حیاتیاتی تنوع پیدا کر دیا ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ سعودی عرب میں صحرائی ماحول میں چیتا اور عرب شیر رہتے تھے۔ اسی طرح سعودی ہرن، عربی شتر مرغ اور یہ سب کچھ عرصہ پہلے ناپید ہو گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں