ایرانی صوبہ سیستان میں سنی عالم اغوا کے بعد قتل، تحقیقات کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کے جنوب مشرقی صوبے سیستان بلوچستان میں سنی عالم کو اغوا کے بعد قتل کر دیا گیا ہے۔ یہ بات ایرانی حکام نے جمعہ کے روز بتائی ہے۔ قتل کے اس تازہ ترین واقعے کے بعد ایک نئی بد امنی پیدا ہوگئی ہے۔

سیستانی صوبہ ایران کا غریب ترین صوبہ ہے۔ نسلی طور پر یہ بلوچ آبادی کا علاقہ ہے۔ اس علاقے میں عام طور پر تشدد بھرے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ حتیٰ کی بائیس سالہ مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد جاری ملک گیر احتجاج کے اثرات اس صوبے میں بھی آئے ہیں۔

صوبے کی سکیورٹی کونسل کا کہنا ہے کہ مولوی عبدالوحید ریگی کو جمعرات کے روز نامعلوم افراد نے اغوا کیا تھا، بعد ازاں انہیں شہید کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق انہیں کاش شہر سے اغواکیا گیا تھا، حکام کا یہ بھی کہنا کہ اس واقعے کے بارے میں تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

سولہ ستمبر سے احتجاج اور بد امنی کی بد ترین لہر کے شکار ایران میں سنی عالم کا اس طرح قتل ایک اور بڑا واقعہ ہے۔ ایران کے اعلیٰ ترین سکیورٹی فورم نے 3 دسمبر کو کہا تھا کہ اب تک 200 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

جبکہ ناروے کے دارالحکومت اوسلو سے ایرانی کی صورت حال کو مانیٹر کرنے والے ادارے کے مطابق اب تک ایران میں458 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ ان میں سے 128 کا تعلق اسی صوبہ سیستان سے تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں