مصری نو سر باز لبنانی بن کر دنیا کے 100 ملک گھوم آیا!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر میں سونے کے زیورات بنانے والی کمپنی کے مالک کی گرفتاری کے ساتھ ہیروں، قیمتی پتھروں اور اسمگل شدہ سونے کے زیورات کی تجارت کے الزام میں ایک نیا حیران کن انکشاف سامنے آیا ہے اور وہ ہے ملزم کے ساتھ ایک اس سے بھی زیادہ پراسرار شخص کی موجودگی۔

’’قاہرہ 24‘‘ نامی ویب گاہ کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ دوسرا ملزم مصری شہری ہے، جس نے 10 سال تک ایک لبنانی شخص کا سوانگ رچائے رکھا اور اس طرح تقریباً 100 ممالک کا سفر کیا۔ ملزم سونے اور قیمتی زیورات کی مصر سے بیرون ملک اور بیرون ملک سے مصر میں سمگلنگ کے ذریعے تجارت میں بھی ملوث رہا ہے۔


"سونے کی وہیل"

یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ملزم نے دس سال تک ہیروں کے جڑاؤ زیورات کی اسمگلنگ کی ہے اور سونے کے تاجروں کے درمیان وہ اپنے لبنانی ہونے کی تشہیر کرتا رہا ہے اور اپنے آپ کو "گولڈ وہیل" کہلواتا رہا ہے۔

لبنانی شہری کا سوانگ

ملزم نے سکیورٹی سروسز کے سامنے اعتراف کیا ہے کہ وہ مصر اور لبنان کے مابین سونے کا کاروبار کرتا رہا ہے۔ ملزم نے انکشاف کیا کہ قاہرہ کے ہوائی اڈے پر اپنی آمد ورفت کے دوران سکیورٹی سروسز کی نظروں سے بچنے کے لیے اس نے ایک لبنانی کا روپ دھار لیا تھا۔

تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ ملزم نے قیمتی پتھروں کو ڈالروں میں فروخت کر کے اپنی سرگرمیاں انجام دینے کے لیے قاہرہ کے علاقے مصر الجدیدہ میں ایک اپارٹمنٹ خریدا اور ریگولیٹری حکام کے ملازمین سے بچنے کے لیے اپنی کمپنی میں بڑی مقدار میں قیمتی پتھر اور نمونے اسمگل کر لیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں