کیامراکش یاکروشیافٹ بال عالمی کپ کی نئی تاریخ رقم کرسکتے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

کروشیا اور مراکش قطر میں جاری فٹ بال عالمی کپ ٹورنا منٹ میں رہ جانے والی آخری چارٹیموں میں حیرت انگیزنئے مہمان ہیں۔کروشیا تو2018ء میں بھی سیمی فائنل میں پہنچا تھا لیکن مراکش کی ٹیم پہلی مرتبہ سیمی فائنل میں پہنچی ہے اورعالمی چیمپیئن بننے کے لیے صرف دوجیت کی دوری پرہے۔

گذشتہ بانوے سال سے زیادہ عرصے کے دوران میں عالمی کپ کے 21 ٹورنامنٹ کھیلے جاچکے ہیں۔ان میں دنیا کے 79 ممالک شرکت کرچکے ہیں لیکن اب تک صرف آٹھ ممالک فاتحین رہے ہیں اور صرف 13 نے فائنل میں جگہ بنائی ہے۔اسپین 2010 میں چیمپئنز کے ایلیٹ گروپ میں شامل ہونے والا آخری ملک تھا۔اس سے پہلے 1998ء میں فرانس اور 1978ء میں ارجنٹائن عالمی چیمپئن ممالک کی فہرست میں شامل ہوئے تھے۔

پولینڈ اوربیلجیئم سنہ1982ءاور1986ء میں بالترتیب فاتح اٹلی اورارجنٹائن سے ہارگئے تھے اورسابق فاتحین کی حیثیت سے انگلینڈ "لانگ شاٹس" گروپ میں شامل نہیں ہوسکا۔اس نے 1990 میں سیمی فائنل میں جگہ بنائی تھی اوروہ مغربی جرمنی سے ہارگیا تھا۔

یہ 1994ء کا ٹورنا منٹ تھا جب سیمی فائنل گروپ میں ایک نیا ملک بلغاریہ شامل ہوا تھا۔اس نے 16 کوششوں میں کبھی ورلڈ کپ کامیچ نہیں جیتا تھا۔اس کو امریکا کے خلاف اپنے پہلے میچ ہی میں گیارھویں مرتبہ شکست کا سامنا کرنا پڑا مگر اس کے بعد بلغاری کھلاڑیوں نے سب کچھ مکمل طور پر تبدیل کرکے رکھ دیا۔انھوں نے دو گروپ میچوں میں فتح حاصل کی اور گروپ 16 میں پینلٹی پر میکسیکو کو شکست دی اور پھر کوارٹرفائنل میں میزبان جرمنی کوجاندارمقابلے کے بعد شکست دی تھی۔

دوسری طرف سویڈن رومانیہ کے خلاف آخری 16 شوٹ آؤٹ جیت کے بعدپہنچا تھا مگرسیمی فائنل میں اٹلی نے بلغاریہ کے خوابوں کوختم کردیا اور برازیل نے سویڈن کوپچھاڑدیا تھا۔

بلغاریہ ، اپنے ہرسٹواسٹوئچکوف سے متاثر سنہری نسل کی عمرکے ساتھ ،چارسال بعد1998ء میں ایک پوائنٹ کے ساتھ گروپ مرحلے ہی میں باہرہوگیا اوراس کے بعد سے فائنل مقابلوں کے لیے کوالیفائی نہیں کرسکاہے۔

یوگوسلاویہ نے 1930 اور 1962 میں سیمی فائنل میں جگہ بنائی تھی لیکن ملک ٹوٹنے کے بعد کروشیا 1998 میں پہلی بارایک آزاد ملک کے طورپرنمودار ہوا۔اس سال ٹورنا منٹ کی آخری چارٹیموں میں شمولیت کے لیے ان کی جذباتی دوڑ کی خاص بات جرمنی کے خلاف کوارٹرفائنل میں 3-0 کی شاندار فتح تھی مگرانھیں سیمی فائنل میں میزبان فرانس کے ہاتھوں 2-1 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

سنہ 2002ء میں کھیلے گئے ٹورنامنٹ میں سیمی فائنل میں دو نئی ٹیمیں پہنچنے میں کامیاب ہوئی تھیں لیکن آخرکارٹورنامنٹ کے جادوگروں نے ان کی راہیں مسدود کردی تھیں۔اس ٹورنا منٹ کے مشترکہ میزبان جنوبی کوریا نے اپنے گروپ میں ٹاپ کرنے کے بعد اعتماد میں اضافہ کیا۔پھرآخری 16 میں اٹلی کو اضافی وقت میں سنہری گول سے شکست دے کر دنیا کو حیران کردیا۔پھر وہ اسپین کو پینلٹی پر شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنانے والی پہلی ایشیائی ٹیم بن گئی تھی۔

سینی گال اور ترکی کے درمیان دوسرے کوارٹر فائنل کا مطلب یہ تھا کہ ایک اور نئی ٹیم سیمی فائنل آئے گی اور یہ ترکی تھاجو سیمی فائنل میں پہنچنے میں کامیاب ہوگیا تھا مگراس میچ میں جرمنی اور برازیل نے بالترتیب کوریا اور ترکی کو شکست دی ، حالانکہ دونوں نے صرف 1-0 سے کامیابی حاصل کی۔ یہ ورلڈ کپ میں ترکی کی دوسری نمائش تھی اور اس کے بعد سے اس نے کوالیفائی نہیں کیا ہے۔

پرتگال 2006ء میں دوسری مرتبہ سیمی فائنل میں پہنچا تھا مگر وہ فرانس سے ہار گیا تھا جبکہ اس کے چارسال کے بعد تاریخی طور پر’’حیرت انگیز‘‘سیمی فائنلسٹ اسپین تھا۔اس نے اس سے پہلے کبھی اس گروپ چار میں جگہ نہیں بنائی تھی (حالانکہ وہ 1950 میں دوسرے گروپ مرحلے میں تھا)۔سیمی فائنل میں پہنچنے والا دوسراملک دو بار کاچیمپیئن یوروگوئےتھا۔اس نے آخری بار 1970 میں سیمی فائنل کھیلا تھا۔

اگرچہ اسپین یورپی چیمپئنز کی حیثیت سے جنوبی افریقا پہنچا تھا اوراس نے اپ سیٹ کیاتھا کیونکہ ہسپانوی کھلاڑیوں نے فائنل میں نیدرلینڈزکو شکست دینے کے لیے ورلڈ کپ کی دہائیوں کی ناکامی کا داغ دھودیا تھا۔

کروشیا نے 2018 میں سیمی فائنل میں جگہ بنائی تھی اور انگلینڈ کو شکست دے کر 20 سال پہلے کے مقابلے میں ایک بہترکارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا ، لیکن فائنل میں اسے فرانس سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

وہ اس مرتبہ ارجنٹائن کے خلاف سیمی فائنل میچ میں مدمقابل ہوگا لیکن یہ مراکش ہے جو حقیقی معنوں میں ’’انڈرڈاگ‘‘سمجھا جارہا ہے اور وہ آخری چار میں جگہ بنانے والی پہلی افریقی ٹیم ہے۔اس نے یورپی ہیوی ویٹ بیلجیئم، اسپین اور پرتگال کوحیرت انگیز طور پر شاندار کھیل میں شکست دی ہے۔

فرانس اورارجنٹائن دونوں ہی تیسری مرتبہ عالمی چیمپئن بننے کے خواہاں ہیں، وہ پریوں کی کہانی کوختم کرنے کے لیے فیورٹ ہوں گے لیکن ہرجگہ غیرجانبدارلوگ یقینی طور پرچاہتے ہیں کہ اس مرتبہ کسی نئی ٹیم کی جیت ہواوروہ نویں عالمی چیمپئن ٹیم بن جائے۔اب دیکھتے ہیں،مراکش یا کروشیا میں سے کون سی ٹیم فٹ بال عالمی کپ کی فاتح بن کر نئی تاریخ رقم کرتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں