بارش سے بنی پینٹنگ: صحرا میں جھیل کی خوبصورتی فن پارہ کی حیثیت اختیار کرگئی

ریاض کے قریب ’’ خرارا باغ‘‘ لوگوں کی تفریح کا مرکز بن گیا، سعودی حکومت نے سیاحتی مقامات میں شامل کرلیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ریاض شہر کے مغرب میں المزاحمیہ گورنری کے قریب ریت پر بارش کے پانی نے سنہری ریت کے ساتھ مل کر ایک فنکارانہ پینٹنگ بنا ڈالی ۔ ایک منفرد اور دلکش منظر کو دیکھ کر گمان ہوتا ہے کہ یہ کوئی فن پارہ ہے جس میں کسی نامور مصور کے تخلیقی ذہن کی کاوشیں کار فرما ہیں۔ بارش کے پانی سے بننے والی اس جھیل کو ’’روضۃ الخرارہ‘‘ کا نام دیا گیا ہے

یہاں لوگ ہر سال سردیوں میں صحرائی ماحول سے لطف اندوز ہونے کیلئے جمع ہوئے ہیں۔

آنکھوں کو لبھانے والا نظارہ

فوٹوگرافر "محمد الطویل" نے اس ریت کے باغ کے وسیع اورعریض علاقے کے خوبصورت مناظر کو فلمایا اور ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو ان مناظر کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔

فوٹو گرافر محمد الطویل نے کہا کہ گزشتہ دنوں ہونے والی بارش کے بعد یہ منظر بہت خوبصورت تھا جس نے ریت کے ٹیلوں کو جھیل کی سرحدوں میں تبدیل کر دیا تھا جس سے اس منظر کی شان و شوکت میں اضافہ ہوگیا۔

انہوں نے بتایا کہ بارشوں نے اس جگہ کو ایک قدرتی جھیل میں تبدیل کر دیا ہے۔ یہ جھیل چاروں طرف سے ریت کے ٹیلوں سے گھری ہوئی ہے، اس دلکش منظر نے پیدل سفر کرنے والوں اور بیابانوں سے محبت کرنے والوں نے یہاں آنے کی طرف راغب کردیا ہے۔ یہ علاقہ شہر کے قریب ہے اور لوگوں کیلئے سیر گاہ بن گیا ہے۔ یہ المزاحمیہ سے 7 کلومیٹر اور ریاض سے 57 کلو میٹر کی مسافت پر ہے۔

محمد الطویل نے بتایا کہ ’’خرارۃ باغ‘‘ یا ’’خرارۃ جھیل‘‘ نے سعودی سیاحت میں ایک ممتاز مقام حاصل کرلیا ہے۔ سعودی ٹورازم اتھارٹی نے اسے مارچ کے آخر تک کے سعودی سرمائی سیزن میں سعودی عرب کے 17 سے زیادہ سیاحتی مقامات میں شامل کرلیا ہے۔

عرب بہترین سیاحتی مقام کے طور پر منتخب ہونے کے بعد ’’روضۃ الخرارۃ‘‘ ریاض میں سب سے نمایاں مقام بن گیا ہے۔ یہ موسم سرما میں ایک مخصوص سیاحت کی خصوصیت رکھتا ہے۔ موسم سرما میں اس کے دلکش ماحول کی وجہ سے، حیرت انگیز چٹانوں کے دلکش مناظر سے لے کر ریت کے دلکش ٹیلوں تک اسے ایک ممتاز مقام حاصل ہوجاتا ہے۔

پرکشش مرکز

محمد اطویل نے نشاندہی کی کہ "جھیل" کھیلوں اور جوش و خروش سے محبت کرنے والوں کو راغب کرنے کا ایک مرکز ہے۔ یہ سائیکل چلانے، سینڈ بورڈنگ اور پتنگ بازی کے لیے جگہیں فراہم کرتی ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس جھیل کا نام "الخرارۃ" رکھا گیا ہے ۔ یہ ہر سال العرید کے بلند پہاڑوں سے اس میں گرنے والے پانی کی وجہ سے بنتی ہے۔ اور بعض اوقات پانی اس میں 6 ماہ تک رہتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں