شامی طالبہ نے تعلیم کی تکمیل پر سبزی فروش والد کے ہاتھ چوم کر لوگوں کو رُلا دیا

"بابا میری بہترین تعریف" کے عنوان سے ویڈیو نے جنگ زدہ ملک کے جذبات کو ہلا کر رکھ دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

دو منٹ سے بھی کم وقت کی ایک ویڈیو کے ذریعہ ایک نوجوان شامی خاتون نے گزشتہ دو دنوں میں عرب مواصلاتی ویب سائٹس پر بڑے پیمانے پر توجہ حاصل کرلی ہے۔ خاص طور پر فیس بک پر ہزاروں شامی نوجوانوں نے خاتون کو داد دی ہے۔

خاتون کی تعریف میں اس بڑے پیمانے پر پیغامات دئیے گئے ہیں کہ ان کا جواب نہیں دیا جا سکے گا حتی کہ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ نے خاتون کے اکاؤنٹ پر پیغام چھوڑا تو اس کا جواب بھی نہ مل سکا۔ خاتون کی ویڈیو پر سینکڑوں افراد نے مختصر تبصرے لکھے اور کہا کہ اس ویڈیو نے ان کے آنسو بہا ڈالنے ہیں کیونکہ اس ویڈیو میں جو کچھ دیکھا اس سے وہ بہت متاثر ہوئے۔ .

ویڈیو میں دیکھا گیا کہ 20 کی دہائی کی عمر کی خاتون رزان یوسف سلیمان یونیورسٹی کا گریجویشن گاؤن پہنے اور پر پر کالی ٹوپی لئے ہوئے ہیں۔ رزان کے بائیں ہاتھ میں سفید گلابوں کا گلدستہ ہے۔ دائیں ہاتھ میں ایک سرٹیفکیٹ ہے۔ درجنوں افراد جشن منا رے ہیں۔ یہ سب المدینہ یونیورسٹی کی فیکلٹی آف ایجوکیشن سے فارغ التحصیل ہوئے ہیں، رزان بھی انہیں میں سے ہے۔

یہ بحیرہ روم پر مغربی شام میں پھیلا ہوا طرطوس کا علاقہ ہے۔

اس کے بعد کا منظر ایک جذباتی نوعیت میں بدل جاتا ہے۔ جس میں رزان يوسف سليمان کو پیدل آتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے وہ اپنے والد کے سبزیاں فروخت کرنے والے خیمے میں آتی ہے۔ گلاب کے پھولوں کا گلدستہ لاکر اپنے والد کو پیش کرتی ہے۔ ایک کیک بھی لاتی ہے جس پر لکھا ہوا ہے ’’بابا میری سب سے پیاری تعریف ہے‘‘ ۔ رزان والہانہ انداز میں اپنے والد سے گلے ملتی ہے۔ اپنے والد کو بار بار چومنا شروع کردیتی ہے۔ ابو خضر اپنی بیٹی کو پدرانہ شفقت سے گلے لگاتا ہے۔ اسی بازار میں سب پڑوسی بیٹی کے اس طرح والد کیلئے پیار کے اظہار کو تعجب سے دیکھ رہے ہیں۔

والد کے ساتھ خوشی منانے میں فخر و عزت کا احساس

"فیس بک" پر رزان سلیمان کے بارے میں بہت کم معلومات فراہم کی گئی ہیں، بشمول یہ کہ وہ ایک سکول ٹیچر، ایک میڈیا پرسن اور طرطوس میونسپل کونسل کی رکن ہیں۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ نے یہ معلومات رزان کے قریبی افراد سے حاصل کیں۔ ویڈیو میں کہا گیا کہ رزاق اپنے والد سے سبزی منڈی میں ان کے کام کی جگہ ملنا چاہتی تھی تاکہ اپنی کامیابی کو اان کے ساتھ فخر اور اعزاز کے ساتھ منا سکے۔ اس کا تذکرہ فیس بک اکاؤنٹ پر بھی کیا گیا ۔ رزان کے فیس بک اکاؤنٹ 460 سے زیادہ تصاویر سے لبریز ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size