کرّۂ ارض پرگرم ترین ممالک میں سے ایک کویت میں نایاب ژالہ باری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

دنیا کے گرم ترین ممالک میں سے ایک کویت میں نایاب ژالہ باری ہوئی ہے۔اس سے بچےاور ان کے والدین خوب محظوظ ہوئے ہیں۔بدھ کے روز سوشل میڈیا پرموسم سرما ژالہ باری کی تصاویر بڑے پیمانے پر شیئر کی گئی ہیں۔

کویت کے محکمہ موسمیات کے سابق ڈائریکٹرمحمد کرم نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’’ہم نے گذشتہ 15 برسوں میں سردیوں کے موسم میں اتنی زیادہ اولے نہیں دیکھے‘‘۔

سوشل میڈیا پرشیئر کی گئی ویڈیوز اور تصاویر میں کویت کی جنوبی سڑکیں اولوں اور برف سے ڈھکی ہوئی ہیں اور نایاب موسمی واقعہ کا جشن منانے کے لیے لوگ گھروں سے باہرنکل آئے ہیں۔

کویت شہرسے قریباً 50 کلومیٹر (30 میل) جنوب میں واقع ضلع اُ مّ اَلْهَيْمَان میں بچوں نے اسکارف اوربرساتی کوٹ پہن رکھے تھے۔

کویت کے محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ منگل کے روز سے 63 ملی میٹر تک بارش ہوچکی ہے لیکن موسم صاف ہو رہا ہے۔

کرم نے کہا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ یہ رجحان دوبارہ رونما ہوگا کیونکہ آب وہوا کی تبدیلی موسم کے نمونوں میں خلل ڈالتی ہے۔

تیل کی دولت سے مالامال اس خلیجی ملک کو شدید گرمی کا سامنا ہے اور سائنس دانوں نے پیشین گوئی کی ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے مستقبل میں یہ زندگی گزارنے کے قابل نہیں ہوسکتا۔

سنہ 2106ءمیں، موسم گرما کا درجہ حرارت 54 ڈگری (129 ڈگری فارن ہائیٹ) تک پہنچ گیاتھا۔ماحولیات پبلک اتھارٹی نے خبردارکیا ہے کہ کویت کے کچھ حصوں میں سنہ2071 سے سنہ2100ء کے درمیان تاریخی اوسط کے مقابلے میں درجہ حرارت 4.5 ڈگری درجہ زیادہ گرم ہوسکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں