انسانی ہمدردی: سعودی طالبعلم نے برفانی طوفان میں پھنسی معمر امریکی خاتون کو بچا لیا

سکالرشپ پر امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے والے محمد الساحلی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو تفصیلات بتائیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکہ میں مملکت کے سکالر شپ یافتہ طالب علم نے وسطی نیویارک کے علاقے بفیلو میں برفانی طوفان میں پھنسی معمر خاتون کو بچا کر انسانی ہمددردی کی اعلی مثال قائم کر دی۔

سائبر کرائم اور کرمنالوجی میں مہارت رکھنے والے سکالرشپ کے طالب علم محمد الساحلی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو پوری کہانی سنائی، الساحلی نے بتایا کہ میں اور میرا دوست بدر بطیہ خوراک کی قلت کے خوف سے سامان خریدنے کے لیے جا رہے تھے۔ برفانی طوفان میں ہم نے برف باری اور شدید موسم کے درمیان ایک خاتون کو تشویشناک حالت میں دیکھا، سردی اور حالات خراب ہونے کی وجہ سے اکثر راہگیروں نے خاتون کو پیسوں کے بدلے اپنی خدمات پیش کیں، امریکی خاتون شدید پریشان تھی کہ وہ اخراجات برداشت نہیں کر سکتی تھی۔‘‘

’’پھر ہم نے اسے مالی معاوضے کے بغیر مدد کی پیشکش کی۔ ہم نے خاتون کو خدمت فراہم کی۔ ہمارا جواب تھا کہ یہ ہمارے اسلامی مذہب کے اصولوں میں سے ایک ہے جس پر ہم پلے بڑھے ہیں۔ ہمارا دین ہمیں دوسروں سے تعاون کرنے اور دوسروں کی مدد کی ترغیب دیتا ہے۔ معمر خاتون نے ہم سے اصرار کیا ہم اس ریستوران کا دورہ کریں جہاں وہ کام کرتی ہے۔

امریکہ میں سردیوں کا موسم

انہوں نے مزید کہا کہ سردیوں کا موسم امریکہ میں سعودی سکالرشپ کے طالب علم کو درپیش مشکل ترین موسموں میں سے ایک ہے جس کی وجہ اس میں اور سعودی عرب میں بنیادی فرق ہے۔ یونیورسٹی تک اور آخر میں طوفان آنے سے پہلے لوگوں میں الرٹ بن جاتا ہے۔ زیادہ تر خوراک اور صحت کی مصنوعات سٹورز سے باہر ہیں۔

الساحلی نے برفانی طوفان کو امریکہ میں 40 سال سے زائد عرصے میں آنے والا بدترین برفانی طوفان قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس طوفان کے باعث 5 ہزار 400 پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ حد نگاہ محدود ہو گیا ہے۔ درجہ حرارت صفر سے نیچے 50 درجے تک چلا گیا ہے۔ برفانی طوفان نے نیویارک بلکہ نیو جرسی، اوہائیو، پنسلوانیا اور دیگر علاقوں میں لاکھوں امریکیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔

سعودی طلبہ کے اقدامات

انہوں نے بتایا کہ سعودی ثقافتی اتاشی کے تعاون سے امریکہ میں سعودی طلبہ نے اقدامات کئے ہیں۔ یہ امداد زیادہ تر سعودی کلبوں کے ذریعے دی جا رہی ہے۔ سعودی طلبہ سڑکوں پر ضرورت مندوں کی مدد کے لیے رضاکارانہ کام کرتے ہیں اور ان اقدامات کے سعودیوں پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

انسانی ہمدردی کے اقدامات اور امداد کے دوران ہمیں لوگوں سے کچھ سوالات موصول ہوتے ہیں آپ یہ مفت میں کیوں کر رہے ہیں؟ ہم ہمیشہ اس بات کو جوڑتے ہیں کہ ہمارا اسلام ہمیں دوسروں کے ساتھ تعاون اور مدد کرنے کی تلقین کرتا ہے، خاص طور پر جب بات بچوں اور بوڑھوں کی ہو۔

انہوں نے کہا ہم تارک وطن سعودیوں کی حیثیت سے ہر وقت اور ہر مقام پر اپنی مستند سعودی ثقافت کو اجاگر کرنے اور مغربی معاشروں کو سعودی کردار سے متعارف کرانے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ ظاہر ہے یہ وہ ثقافت ہے جو انسانیت اور امن پر مبنی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں