ایران میں اٹلی کے سفیر کی طلبی، اندرونی معاملات میں مداخلت پر احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایرانی وزارت خارجہ میں اٹلی کے سفیر کی طلبی۔ طلبی کی وجہ ایران میں جاری مظاہروں میں کردار کا مبینہ تسلسل بنا ہے، جس پر سفیر کو بلا کر ایران کی طرف سے اٹلی سے احتجاج کیا گیا۔

ایران بائیس سالہ مہسا امینی کی پولیس حراست میں ہلاکت کے بعد سولہ ستمبر 2022 سے مسلسل مظاہروں اور ہنگاموں کی زد میں ہے۔ امینی کو ایران میں خواتین کے لیے لباس سے متعلق نافذ کردہ قانون کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا تھا۔

ایران کا کہنا ہے کہ تین ماہ سے زائد عرصے سے جاری ان مظاہروں کی وجہ سے سینکڑوں افراد بشمول سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں اور ہزاروں مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ہے۔

تہران نے اس صورت حال میں اٹلی کے بعض حکام کی مداخلت کی شکایت کرنے اور اس مسلسل مداخلتی عمل پر احتجاج کے لیے اٹلی کے سفیر جیوسپے پیرون کو طلب کیا تھا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق ایران کے اندرونی معاملات میں مسلسل مداخلت کی جا رہی ہے۔ ایران اس سلسلے میں متعلقہ ملک کے رویے کو ایران میں انسانی حوالے صورت حال مخصوص سوچ اور دوہرے معیار سے تعبیر کرتے ہوئے اسے ناقابل قبول قرار دیتا ہے۔

واضح رہے اس سے پہلے تقریبا ایک درجن بھر ملکوں کے سفیروں کو اسی نوعیت کے احتجاج کے لیے طلب کر چکا ہے کہ وہ ممالک ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ ان ممالک میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی بھی شامل ہیں۔

لیکن اٹلی کے سفیر کی طلبی کا واقعہ اٹلی میں ایرانی نامزد سفیر کی طلبی کے ایک روز بعد پیش آیا ہے۔ ایک روز قبل اٹلی کے وزیر خارجہ اتونیو تاجانی نے نامزد ایرانی سفیر محمد رجا صبوری کو طلب کیا تھا اور ایرانی حکام کی طرف سے مظاہرین کے لیے نامناسب ردعمل پر شکایت کی تھی۔

اس بارے میں اٹلی کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا 'میں نے پوری شدت کے ساتھ درخواست کی ہے کہ ایران میں مزید افراد کو پھانسیاں نہ دی جائیں، مظاہرین کو پر تشدد جبر کا نشانہ نہ بنایا جائے اور مطاہرین کے ساتھ مکالمہ کیا جائے۔'

وزیر خارجہ نے اس موقع پر یہ بھی کہا ' اٹلی کی حکومت ایران میں انسانی حقوق کے احترام کی ضمانت پانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی۔' یاد رہے اب تک ایران میں دو افراد کو پھانسی دی جا جکی ہے۔ جبکہ ایرانی وزارت انصاف کے مطابق مزید 9 کو سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔

اٹلی کے وزیر خارجہ تاجانی اس سے پہلے بھی ایران میں انسانی حقوق کی صورت حال کو شرمناک اور ناقابل قبول قرار دے چکے ہیں۔ جبکہ ایران امریکہ سمیت مغربی ممالک کے روہے کو ایران دشمنی کی بنیاد پر قرار دیتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں