سعودی صحرا نے دریا میں تبدیل ہوکر دلکش روپ دھار لیا

’’ سبخہ ملیح‘‘ کے ان مناظر کے لیے 4 سال انتظار کیا: فوٹوگرافر سلیمان القبلان کی ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ سے گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

وسطی سعودی عرب کے شہر القصیم کے مغرب میں واقع " سبخہ ملیح" میں قدرت نے اپنے دلکشی کو ظاہر کر دیا، مملکت میں بارشوں کے بعد صحرا دریا میں تبدیل ہو کر دلکش روپ دھار گیا اور کسی مصور کی بنائی پینٹنگ کی صورت اختیار کر گیا۔ یہ ایسی تصویر ہے جہاں ریت کے ٹیلوں کے درمیان پانی پھیل گیا۔ اور بنجر صحرا حیرت انگیز پانی کی جھیلوں اور ایک پرکشش قدرتی پارک میں تحلیل ہو گیا۔

فوٹوگرافر "سلیمان القبلان" نے اس مقام کے جمالیاتی مناظر کو کیمرے کی آنکھ سے محفوظ کر لیا، انہوں نے خدائی تخلیقی خوبصورتی کو مجسم کردیا۔ سلیمان القبلان نے اس حوالے سے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ سے گفتگو کی اور بتایا کہ مجھے اس مقام کی تصویر کشی پسند نہیں تھی، میں نے طویل انتظار کے بعد وہ چیز دیکھی جس کا تجربہ کرنا چاہیے۔ اس انتظار میں مجھے چار سال لگے۔ میں نے دیکھا کہ سبخہ ملیح ایک مسحود کن جھیل کی شکل اختیار کرگیا ہے۔ اس کے دلکش نیلگوں پانی نے القصیم کو نئی خوبصورتی دے دی ہے۔

سلیمان القبلان نے کہا میں یہ مقام لوگوں کو اپنے طریقے سے دکھانا چاہتا تھا، جب میں نے اسے قدرتی نظر سے معمول کے تناظر میں دیکھا تو یہ بہت خوبصورت مقام تھا لیکن جب میں نے اس کی دلکش تفصیلات کا جائزہ لیا تو اس نے مجھے مزید ششدر کرکے رکھ دیا۔ اس لیے سبخہ ملیح نفود العریق کے قریب اور المشاش اور الرقنہ کے مرکز اور الراس گورنری کے جنوب مغرب میں واقع ہے۔ اس جگہ کی خصوصیت اس کا پہاڑ کے قریب ہونا بھی ہے۔

القبلان نے اپنی تقریر جاری رکھی اور بتایا کہ آخری مرتبہ جب اس جگہ پر پانی برسا تو وہ 4 سال قبل کا وقت تھا۔ کسی نے بھی اس کی تصویر اس انداز میں نہیں بنائی تھی جس سے اس کی تفصیلات اور خوبصورتی کو نمایاں کیا گیا ہو۔ فیصلہ سبز فطرت کے حق میں ہے۔ شدید بارشوں کے باعث بہتے ہوئے پانی اور بہتی ہوئی آبشاروں نے سعودی عرب کے بہت سے مقامات کو سبزہ زار میں تبدیل کر دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں