افغانستان وطالبان

افغان فوجی کا پناہ کی تلاش میں دشوارگذارسفر،مگر امریکا،میکسیکو سرحد پرگرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

افغانستان سے طویل اور دشوارگذارسفر کے بعد امریکا میں پناہ کی تلاش میں جانے والے ایک افغان فوجی کو میکسیکو کی سرحد عبورکرنے کی کوشش میں گرفتارکرلیا گیا ہے اور اس وقت وہ ریاست ٹیکساس میں تارکین وطن کے حراستی مرکزمیں قید ہے۔

عبدالواسع صافی نے اس کٹھن سفر میں ایک افغان فوجی کی حیثیت سے اپنی دستاویزات اپنے پاس سنبھال کررکھی ہوئی تھیں۔وہ امریکی فوج کے ساتھ کام کرتا رہا تھا۔اس نے برازیل سے امریکا اور میکسیکو کی سرحد تک مہینوں طویل، خطرناک سفر طے کیا تھا۔

وہ اگست 2021 میں امریکا کے افغانستان سے انخلاکے بعد طالبان کی انتقامی کارروائی کے خوف سے ملک سے فرار ہوگیا تھا اور اس کوامید تھی کہ کاغذی کارروائی کی تکمیل کے بعد امریکا میں پناہ مل جائے گی۔

لیکن ستمبر میں ٹیکساس کے ایگل پاس کے قریب امریکا اور میکسیکو کی سرحد عبورکرنے کے بعد واسع صافی کو وفاقی امیگریشن کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔اس وقت وہ ٹیکساس کے شہرایڈن کے حراستی مرکز میں قید ہے اور اس نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے اس کی سیاسی پناہ کی درخواست مسترد کر دی جائے گی۔

صافی کے بھائی، وکلاء، فوجی تنظیموں اوراس کی رہائی کے لیے کام کرنے والے قانون سازوں کے دو طرفہ گروپ کا کہنا ہے کہ اس کیس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کس طرح امریکا کے افراتفری کےعالم میں فوجی انخلا سے ان افغان شہریوں کو نقصان پہنچ رہا ہے جنھوں نے امریکا کی مدد کی تھی لیکن انھیں طالبان کے رحم وکرم پرچھوڑ دیا گیا۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اگراس کو افغانستان واپس بھیج دیا جاتا ہے تو وہ طالبان کے ہاتھوں ہلاک ہو سکتا ہے۔انھوں نے مبیّنہ طور پرکابل پرقبضے کے بعد سے اب تک 100 سے زیادہ افغان اہلکاروں اور سکیورٹی فورسز کے ارکان کو ہلاک کردیا ہے۔

صافی کے امیگریشن وکلاء میں سے ایک جینیفر سرونٹس کا کہنا ہے کہ ’یہ شرمناک ہے کہ ہم نے ان لوگوں کے ساتھ ایسا برتاؤ کیا جنھوں نے ہمارے ملک کی حفاظت میں مدد کی تھی‘‘۔

29سالہ سمیع اللہ صافی نے بتایا کہ 27 سالہ واسع صافی افغان نیشنل سکیورٹی فورسزمیں انٹیلی جنس افسر تھا اور امریکی افواج کو دہشت گردوں کے بارے میں معلومات فراہم کرتا تھا۔

خودسمیع صافی سنہ 2010 سے امریکی فوج میں بطور مترجم کام کررہے تھے جس کی وجہ سے وہ مترجمین اور دیگرخدمات انجام دینے والے افراد کے لیے امریکی حکومت کے خصوصی امیگرنٹ ویزا کے اہل ہو گئے تھے۔اس ویزے کی بدولت وہ 2015 میں ہیوسٹن منتقل ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔لیکن واسع صافی اس ویزے کے اہل نہیں تھے کیونکہ وہ براہ راست امریکا کے ملازم نہیں تھے۔

جب افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا ہوا تو واسع صافی روپوش ہو گئے تھے۔ پھروہ برازیل کا ویزا حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا اور2022 میں وہاں کا سفر کیا۔ لیکن اسے احساس ہوا کہ وہ زیادہ محفوظ نہیں کیونکہ اسے اور دیگر تارکین وطن کو اس سفر کے دوران میں جرائم پیشہ گروہوں نے ماراپیٹا اور لوٹ لیا تھا۔

گذشتہ سال موسم گرما میں واسع صافی نے امریکا کا سفرشروع کیا تھا۔اس دوران میں اس نے کولمبیا اور پاناما کے درمیان گھنے جنگل کے خوفناک اور خطرناک حصے ڈیرین گیپ میں ایک بہت بڑا دریا عبور کیا۔واسع صافی نے دریاعبور کرتے ہوئےاپنے سرپراپنی دستاویزات کوایک بیگ رکھا، تاکہ وہ گیلے نہ ہوں۔

گوئٹے مالا میں جب پولیس اہلکاروں نے بھتہ لینے کی کوشش کی اور بیگ لے گئے تو صافی نے اپنی دستاویزات واپس ملنے تک ان کی پٹائی برداشت کی تھی۔اس سفر کے دوران افغان فوجی کو مار پیٹ سے شدید چوٹیں آئیں۔اس کے سامنے کے دانتوں کو نقصان پہنچا اور دائیں کان میں سماعت سے محرومی بھی شامل ہے۔

فوجداری دفاع کے وکیل زخری فرٹیٹا نے کہاکہ ان کے موکل واسع صافی کو حراست کے دوران میں مناسب طبی دیکھ بھال نہیں ملی ہے۔ایک گو فنڈ می پیج قائم کیا گیا ہے تاکہ اگر اسے رہا کیا جاتا ہے تو طبی دیکھ بھال کی ادائی میں مدد ملے گی۔

سمیع صافی کا کہنا تھا کہ حراست میں لیے جانے کے بعد سے ان کا بھائی مایوس ہوچکا ہے اور ان کا خیال ہے کہ جن دستاویزات کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ وہ انہیں بچا لیں گی وہ بیکار ہیں۔لیکن فرٹیٹا نے کہا کہ ان دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ "وہ واضح طور پر ایک اتحادی ہے، اسے ہمارے فوجیوں نے تربیت دی تھی، ہمارے فوجیوں کے ساتھ کام کیا تھا۔ہیوسٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹک پارٹی کی رکن شیلاجیکسن لی نے گذشتہ ہفتے صدر جو بائیڈن کو ایک خط ارسال کیا تھا جس میں انھوں نے واسع صافی کو امیگریشن سے متعلق الزامات کے لیے معاف کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔انھوں نے جمعرات کو کہا کہ دستاویزات سے پتا چلتا ہے کہ وہ "ایک ایسا شخص ہے جوظاہر ہے کہ اس ملک سے محبت کرتا ہےاور اس ملک کے لیے مرنے کو تیارتھا‘‘۔

ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے ری پبلکن کانگریس مین ڈین کرنشا اور فلوریڈا سے مائیکل والٹز کے ساتھ ساتھ بیس سے زیادہ سابق فوجی گروپوں نے بھی واسع صافی کی رہائی اورسیاسی پناہ کی درخواست پرنظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔

فرٹیٹا کا کہنا تھا کہ صافی کے سیاسی پناہ کے دعوے پر غور کرنے سے پہلے ان کے مجرمانہ کیس کو حل کرنا ہوگا، اور وہ امید کرتے ہیں کہ اس حل میں سزا شامل نہیں ہوگی، جس سے پناہ کی درخواست خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

واضح رہے کہ افغانستان سے انخلا کے بعد سنہ 2001ء سے امریکی فوجیوں کے ساتھ مترجم، ترجمان اور شراکت دار کے طور پر کام کرنے والے قریباً 76 ہزارافغانوں کو فوجی طیاروں کے ذریعے امریکا پہنچایا گیا تھا۔تاہم ان کی امیگریشن کی حیثیت واضح نہیں ہے کیونکہ کانگریس افغان ایڈجسٹمنٹ ایکٹ نامی مجوزہ قانون منظورکرنے میں ناکام رہی ہے۔اس کی منظوری سے ان کی قانونی رہائشی حیثیت مضبوط ہوسکتی تھی۔

فرٹیٹا نے کہا کہ واسع صافی کا معاملہ امریکاکے "سقم زدہ امیگریشن سسٹم" اور افغان اتحادیوں کی مدد کرنے میں ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ان کے بہ قول ’’آپ کو ہماری سرحد پر یہ تمام چیزیں ٹکرا رہی ہیں اور اسے حل کرنا بہت مشکل مسئلہ ہے‘‘۔

تاہم سمیع صافی نےاس امید کا اظہارکیا ہے کہ صدر بائیڈن اور جن لوگوں کے پاس اس کیس پراختیار ہے، وہ آگے بڑھیں گے اوران کے بھائی کی جان بچائیں گے۔انھوں نے اس ملک کے لیے کافی قربانیاں دی ہیں۔میرے پورے خاندان نے اس ملک کے لیے قربانی دی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں